مظفر آباد سے مظفر گڑھ تک

کالم نگار  |  نعیم مسعود

ملتان سے مظفر گڑھ جاتے ہوئے میرے خیالوں میں بیک وقت نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم اور غلام مصطفیٰ کھر اپنی اپنی سیاست کے سبب انگڑائیاں لے رہے تھے۔ سیاستدانوں سے ملتے رہنا یا طرح طرح کے سیاستدانوں کا تذکرہ اپنی مجبوری ہے اور شاید بُری عادت بھی۔ لیکن نوابزادہ نصراللہ خان کے ساتھ ہی شاید کافی حد تک شائستہ سیاست، جمہوری فکر، اتحادی محبت، عمدہ تقریری منظر نامہ اور اعلیٰ پائے کی شاعری پیوندِ خاک ہو گئے۔ انکے صاحبزادے نواب زادہ منصور علی خان اتنے ہی ناکام سیاستدان ثابت ہوئے جتنے کامیاب انکے والد محترم تھے۔ بہرحال نوابزادہ نصراللہ خان کی باتوں، شاعری اور وضعداری کے ساتھ ساتھ آموں کو بھی انکے ہم عصر مِس کرتے ہونگے لیکن دوسری جانب سابق گورنر پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کو انکی ”سیاستِ مخصوصہ“ کے سبب” شہرتِ مخصوصہ“ حاصل ہے۔ جنوبی پنجاب کی سیاست کو جو بھی کہیں لیکن یہ طے ہے کہ آموں، کھجوروں اور میٹھی سرائیکی کی دھرتی کی سیاست اونچے اونچے محلات کی دیواریں پھلانگ کر عوامی رنگ و روپ میں وڈیروں کے سامنے کھڑی ہو چکی ہے۔
ہاں اس چھوٹے سے ملتان سے مظفر گڑھ سفر میں بڑی بڑی باتیں تیزی سے دماغ میں گھومنے لگیں۔ ملتان سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو لوگوں نے مسترد کر دیا، سابق وزیر خارجہ اور حالیہ لیڈر برائے تحریک انصاف شاہ محمود قریشی اپنے حلقے میں ” بے مراد“ ٹھہرے۔ اسی طرح ایک بہت بڑا سابق مسلم لیگی نام اور ہر دلعزیز لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی بھی اپنے ہی علاقے میں بے یارومددگار ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو قاری کے ذہن میں جنم لے سکتا ہے۔ وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ یہ لوگ عوام کو براہِ راست لفٹ کرانے کے عادی نہیں تھے۔ لفٹ کرانا تو دور کی بات انکے ہاں درشن کرانا بھی شاید کچھ ”گرانٹ“ کرنے کے مترادف تھا اور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملتان شہر میں عبدالغفار ڈوگر اور مظفر گڑھ میں جمشید دستی جیسے لوگوں کو پذیرائی حاصل ہے کیونکہ یہ لوگ براہِ راست فون بھی سن لیتے ہیں جبکہ ان پرانے اور روایتی سیاستدانوں کو عوام کیلئے حالِ دل سنانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ....
سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو بُرا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بُت ہو گئے پرانے
راجن پور تک کی خبریں بھی ایسی ہیں کہ مزاریوں کو بالخصوص سابق نگران وزیراعظم بلخ شیر مزاری کی اولاد سیاست میں منہ دکھانے کے بھی قابل نہیں رہی، وجہ یہ کہ زمانے کے انداز بدل گئے۔ ڈیرہ غازی خان میں سابق صدر فاروق خان لغاری کے صاحبزادوں اویس لغاری اور جمال لغاری کو بھی جیتنے کیلئے بیساکھیاں درکار ہیں۔ اگر ایک آدھ حافظ عبدالکریم مزید پیدا ہو گئے تو جنوبی پنجاب میں وڈیروں اور پیروں کے بجائے مولویوں کی دال زیادہ گلے گی (وہ الگ بات ہے مولوی آج بھی دال کم اور حلوہ زیادہ پسند کرتے ہیں بہرحال پسند حلال ہی کرتے ہیں) بی بی تہمینہ دولتانہ کو کبھی آٹے دال کے بھاو¿ کا نہیں پتہ تھا اس دفعہ انہیں بھی ہار کر معلوم ہو گیا کہ وہاڑی میں دیہاڑی نہیں اب کلہاڑی بھی لگنی ہے....
کہو وہ کون حسیں ہے تمہاری بستی میں
کہ جس کے نام کے ساغر اُٹھا ئے جاتے ہیں
میں حیران ہو گیا کہ ملتان اور مظفر گڑھ کے درمیان ایک مظفر آباد بھی ہے ۔ اس سے قبل تو ہم بس مظفر آبادآزاد کشمیر ہی سے آشنا تھے۔ اس مظفر آباد سے اچانک یہ ذہن میں آیا کہ مظفر آباد آزادکشمیر کی آبادی پڑھی لکھی ہے۔ میرپور آزاد کشمیر کے لوگ آدھے سے زیادہ مغربی ممالک میں بستے ہیں۔ پھر کشمیر کا نام ذہن میں آنے سے ایک تحریکی ولولہ بھی اُبھر آتا ہے مگر افسوس کہ آزاد کشمیر کی سیاست حد درجہ تک برادری ازم کا طواف کرتی ہے۔ پچھلے سال جب آزاد کشمیر کے مختلف شہروں اور گلی کوچوں میں پھرے تو محسوس کیا کہ لوگ کشمیری اور پاکستانی کہلانے کے بجائے گوجر، جٹ، خواجہ اور سردار کہلانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ آہ! یہ ”آزاد“ لوگ کشمیر کو کیا آزاد کرائیں گے؟ اصل قابلِ ذکر بات ملتان کی ہے جہاں لوگ آج بھی پناہ گیر(مہاجر) اورجانگلی(مقامی) میں تقسیم ہیں۔ سرائیکی تو میٹھا ہے اور مہاجر قابل ستائش! پھر یہ کیوں تعصب رکھتے ہیں؟ پیارے ہیں، پاکستانی ہیں، پنجابی ہیں، جنوبی پنجابی یا گلابی پنجابی ہیں، جدتوں اور امتحانوں کے اس دور میں ہم سب سبز ہلالی پرچم کیوں نہیں؟ کیوں نہیں؟؟ مظفر آباد سے مظفر گڑھ تک یہ خوشبودار اور جاندار لوگ بھی تعصب کی بات کیوں کرتے ہیں؟ نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر تک ہم ایک کیوں نہیں؟ مصر سے سعودیہ تک اور ایران سے عراق تک ہی ہم سب ایک کیوں نہیں؟ مراکش سے چیچنیا تک ہم سورہ عصر کا نمونہ اور سبق کیوں نہیں؟
سردار عتیق بن عبدالقیوم سے سردار لغاری تک ہم ایک طرح کیوں نہیں سوچتے؟ یوسف رضا گیلانی سے راجہ فاروق حیدر برادریوں اور دھڑوں سے نکل کر پاکستانیت کی شاہراہ پر کیوں نہیں چلتے؟ نظریہ اور نصب العین کو ہم یکجا کیوں نہیں کرتے؟ سردار عتیق، راجہ فاروق حیدر اور چودھری عبدالمجید، چودھری غلام عباس جیسے کیوں نہیں؟ آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف، ذوالفقار علی بھٹو کے وعدوں اور معاہدوں کو کیوں بھول گئے؟ میاں نواز شریف، میاں شہبازشریف اور بھی نسل در نسل حکمرانی کی بجائے محمد علی جناحؒ جیسے قائد کیوں نہیں ثابت ہو رہے؟ مخدوم جاوید ہاشمی بھی تو کم از کم نوابزادہ نصراللہ کا کردار ادا کر سکتے تھے۔ انہوں نے پٹڑی ہی کیوں بدل ڈالی؟ ملت کو نخروں اور بہانوں کی سیاست نہیں کشمیر سے گوادر تک، خیبر سے کراچی تک اور مظفر گڑھ سے مظفر آباد تک جمہوری اور قومی کردار کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی، مہنگائی، لاقانونیت، میر صادق ازم و میر جعفر ازم، رشوت خوری، بیورو کریٹک پلوشن اور آمریت سے بچانے کیلئے برادری ازم اور لسانی بنیادوں کو پاش پاش کر کے کردار کو اجاگر کرنا ہوگا۔ کردار کو!!!