تیرے ذہن کی قسم خوب انتخاب ہے

کالم نگار  |  بیرسٹیر ظہور بٹ (لندن)

کہتے ہیں کہ شہنشاہ اکبر بالکل ان پڑھ تھا مگر اس نے اپنی حکومت کا کاروبار چلانے کیلئے جو نو رتن (وزیر) چنے وہ اس قدر ذہین تھے کہ اس کا دور حکومت مغلیہ خاندان کا کامیاب ترین اور سنہری دور کہلوایا خود اکبر بھی بر صغیر کی تاریخ میں ” اکبر دی گریٹ“ کے نام سے محفوظ ہو گیا ہے لیکن ادھر اپنے میاں نواز شریف ہیں جو کہنے کو توگورنمنٹ کالج لاہور کے گریجویٹ ہیں غالباً قانون کی ڈگری بھی حاصل کی ہوئی ہے مگر جب ان کے وزیروں اور مشیروں کے انتخاب پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو سَر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے ان کی پوری کی پوری ٹیم ذہانت اور قابلیت کی بجائے ذاتی وفاداریوں سے تو بھری پڑی ہے مگر ان میں شہنشاہ اکبر کی ٹیم جیسا ایک ً رتن ً بھی نظر نہیں آتا انہوں نے دائیں بائیں سے اپنے وزیر مشیر منتخب کئے ہم نے برداشت کرلئے انہوں نے چند لوگوں کو ادھر اُدھر سے پکڑ کر ان کی جھولی میں گورنر اور صدر کے حساس عہدے ڈال دیئے ہم نے سہہ لئے اب ان کا نیا اور تازہ ترین کارنامہ نیب کے چیئرمین کا انتخاب ہے نیب آرڈینس کے مطابق چیئرمین ایک باز کی طرح کاروبار ریاست اور اس کے چلانے والوں پر کڑی نظر رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث پائے جانے والے وزیروں مشیروں یا بیوروکریٹس کو انتہائی سخت گیری کے ساتھ کیفر کردار تک پہنچاتا ہے اسی لئے نیب آرڈینس میں کسی ایسے شخص کو چیئرمین بنانے کی سفارش کی گئی ہے جو ملازمت سے ریٹائرڈ ہو چکا ہو اور جس کی دیانتداری فراست اور سختی کے ساتھ انصاف پسندی کسی بھی قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہو اسی لئے اچھی شہرت رکھنے والے ریٹائرڈ صوبائی چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے کسی جج کو ترجیح دی جاتی ہے مگر ہمارا تو بابا آدم ہی نرالا ہے میجر (ر) قمر زمان ابھی اپنی موجودہ ملازمت سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ انہیں نیب کا چیئر مین بنانے کا اعلان کر دیا گیا ہے موصوف کی سب سے بڑی خوبی یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ کسی کو بھی ً نہ ً نہیں کر سکتے جبکہ نیب کے محکمے کا کام حکومتی کاروبار میں بدعنوانیاں اور سرکاری خزانے کی لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کے گلے میں ایسا پھندا ڈالنا ہوتا ہے کہ تمام لوٹی ہوئی رقم کی پائی پائی اگلوا لی جائے۔
 پیپلز پارٹی کی حکومت نے میاں صاحب کی بلا مشروط مدد کی وجہ سے پانچ سال تو پورے کرلئے مگر آصف زرداری اور تمام وزیروں بلکہ ان کی اولادوں نے بھی جی بھر کر اربوں اور کھربوںمیں ملک کی دولت لوٹی اب انہوں نے یہ میدان میاں نواز شریف صاحب کے حوالے کر دیا ہے تاکہ وہ بھی اپنی باری کے پانچ سال پورے کر لیں اور میاں صاحب بھی ایسی شطرنج کے مہرے سجا رہے ہیں کہ” چِت بھی میری اور پت بھی میری“
بات میجر (ر) قمر زمان سے شروع ہوئی تھی جو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں رحمنٰ ملک کی وزارت داخلہ کے سیکریٹری تعینات کئے گئے تھے اور ان سے ان کی خاصی راہ و رسم تھی چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ نیب کے چیئرمین کے طور پر قمر زمان کا نام سامنے آیا تو پیپلز پارٹی نے فوراً ًہاں ً کہہ دی موصوف جنرل مشرف کے دورِ حکومت سے پہلے رائے ونڈ کے دربار میں بھی بڑے ادب کے ساتھ حاضری لگانے جایا کرتے تھے۔
نیب کی عدالت میں دوسروں کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری اور موجودہ وزیر اعظم میاں نوازشریف کے خلاف بھی بہت سی بدعنوانیوں کے مقدمات درج ہیں اس لئے انتہائی ضروری تھا کہ نیب آرڈینس کے مطابق کسی ریٹائرڈ جج یا کسی غیر جانبدار شفاف اور اچھی شہرت رکھنے والے شخص کا انتخاب کیا جاتا مجھے نہیں معلوم کہ نیب آرڈینس کے مطابق ان کی تعیناتی درست بھی ہے یا نہیں کیونکہ یہ تو ابھی ریٹائر بھی نہیں ہوئے بلکہ ایک ملازمت سے دوسری ملازمت میں جا چکے ہیں اور ملک کے دونوں ارب پتی بلکہ کھرب پتی لیڈروں کے چہیتے ہیں اس لئے یہ بھلا ان کا کیا احتساب کر سکیں گے؟ ان کے محکمے نے آصف علی زرداری کے تمام پرانے مقدمات پھر سے شروع کرنے کا اعلان تو کر دیا ہے مگر اس کے بعد کیا ہوگا کیا زرداری صاحب کو کلین چٹ دے دی جائے گی یا ان کے خلاف تمام مقدمات سالہا سال کے لئے لٹکا دیئے جائیں گے؟
ان کا ماضی کا ریکارڈ بھی بڑا دلچسپ ہے یہ فوج میں بھرتی ہوئے اور ترقی کرکے میجر بنے اور آٹھ سال تک جنرل ضیاالحق کے اے ڈی سی بھی رہے کہا جاتا ہے ستمبر 1979 میں ہوانا (کیوبا) میں Non alliend countries کی کا نفرنس ہوئی تو جنرل ضیاالحق بھی اپنے چند جرنیلوں کے ساتھ اس میں شرکت کیلئے تشریف لے گئے نیب کے نامزد چیئر مین میجر (ر) قمر زمان جو اس وقت جنرل صاحب کے ADC تھے وہ بھی ساتھ تھے نیویارک کے ایئر پورٹ پہ جہاز اترا یہاںسے ہوانا کیلئے دوسرجہاز لینا تھا قمر زمان صاحب نے کچھ سامان اٹھایا ہوا تھا جس میں ایک خوبصورت پھولدان بھی تھا غالباً یہ ہوانا لیجانے والے تحائف کا حصہ تھا اتفاق سے یہ پھولدان فرش پر گر کر ٹوٹ گیا تو اس سے جو کچھ باہر گرا‘ وہ ناقابل بیان ہے۔ بہرحال معاملہ صدر کا تھا‘ رفع دفع ہو گیالیکن یہ ابھی تک ایک معمہ ہے کہ یہ ”پڑیاں“ قمر زمان صاحب کی تھیں یا کسی اور جنرل کی غالباً جنرل عارف بھی اس قافلے میں شامل تھے وہ اس واقعے کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
قائین کو یاد ہوگا کہ نیب کے چیئرمین کیلئے پچھلے تین ماہ سے کئی ریٹائرڈ ججوں کے نام لئے جا رہے تھے جن میں جسٹس رانا بھگوان داس اور خیبر پختون خواہ کے چیف جسٹس اجمل میاں بھی شامل تھے ایسے Upright لوگوں میں سے اگر کسی کو نیب کا چیئر مین مقرر کر دیا جاتا تو بڑے بڑے لیڈروں کے مکروہ چہروں سے پردہ اُٹھ سکتا تھا شائد اسی لئے یہ حساس عہدہ ایک ایسے شخص کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو دونوں بڑی جماعتوں کا پسندیدہ ہو ....ع.... من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو