علماءو مشائخ سے شہباز پاکستان کا اہم خطاب

کالم نگار  |  ڈاکٹر علی اکبر الازہری
علماءو مشائخ سے شہباز پاکستان کا اہم خطاب


گذشتہ روز مجھے پاکستان کے دھڑکتے دل لاہور میں خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی زیر صدارت ایک خصوصی مجلس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ سینکڑوں علماءو مشائخ اور مدارس و مساجد کے مہتمم حضرات کا نمائندہ اجتماع تھا جس میں پنجاب بھر سے ہر مسلک و مشرب کے معزز حضرات شریک تھے۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت کے جملہ اعلیٰ عہدیدار اور سیاسی قیادت بھی ہمہ تن گوش تھی۔ اس اہم میٹنگ کا مقصد محرم الحرام کے دوران امن و امان قائم رکھنے کے لئے انتظامات کا جائزہ اور علماءسے حسب سابق خصوصی تعاون کی کوشش تھا۔ ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد اور بدامنی کی فضاﺅں میں محبت اور پرامن بقائے باہمی کے لئے جب ہر طبقہ زندگی مذہبی عمائدین اور آئمہ و خطباءحضرات کی طرف ملتجی ہوتا ہے تو لامحالہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اکثر و بیشتر شر اور فتنہ بھی اسی سمت سے داخل ہوتا ہے۔ خیر یہ ایک حساس اور مستقل موضوع بحث ہے۔ یہاں ہم علماءکی تجاویز اور وزیراعلیٰ کے خطاب کا تذکرہ کررہے ہیں۔
اس خصوصی اجلاس کی میزبانی حضرت پیر محمد امین الحسنات فرمارہے تھے جنہوں نے بڑی فراخ دلی سے ہر مکتبہ فکر کی خدمات اور شرکاءکی آمد کا شکریہ ادا کیا۔ آج وہ اسم بامسمی لگ رہے تھے اور اپنے والد بزرگوار پیر محمد کرم شاہؒ کی بے لوث تربیت کا شاہکار نظر آرہے تھے جنہوں نے زندگی بھر محبت کے قلم سے علم و عرفان کی شمعیں جلائیں۔ اس اجلاس کے جسیم و لحیم شرکاءکی اکثریت اگرچہ جبہ و دستارکے ساتھ حسن و زیبائی کے جوہر دکھارہی تھی مگر کچھ حضرات نے نہایت قابل قدر تجاویز بھی دیں۔ مثلاً مولانا محمد امجد خان نے مشورہ دیا کہ ملک کی تمام مساجد کے خطباءحضرات کی تقریروں کو باقاعدہ ریکارڈ کیا جائے اور قابل اعتراض باتوں پر ان کی گرفت کی جائے تو بڑی حد تک تلخیاں پھیلنے سے رک سکتی ہیں۔ اسی طرح علامہ راغب نعیمی نے تجویز دی کہ مخصوص ایام کے مواقع پر نفرت انگیز گفتگو کرنے اور ایسا مواد چھپوا کر تقسیم کرنے والوں سے معاشرتی مقاطع کیا جائے اور قرار واقعی سزا کا قانون بنایا جائے تو فتنہ انگیزی کا جن قابو میں آسکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے دوست ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے علماءکو مشورہ دیا کہ جس طرح وہ حکومت کی دعوت پر اس طرح کے حکومتی اجتماعات میں جوق در جوق حاضری دیتے ہیں اگر ایک دوسرے کے ہاں بھی بلاتمیز مسلک و مذہب آنا جانا رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ باہمی نفرتیں محبت میں نہ ڈھل پائیں۔
اس مجلس علماءکی خصوصی صدارتی گفتگو وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کی تھی جو واقعتا ان کے پرخلوص جذبوں کی ترجمانی کررہی تھی۔ بہت سے قارئین کو ان سے سیاسی اور انتظامی اختلافات ہوں گے مگر جب ان کی رفتار اور گفتار کو ملک کے بقیہ صوبوں کے بے اختیار اور کمزور وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں رکھ کر دیکھا جائے تو ان کے جوش جنوں اور جذبہ عمل کا پلڑا بلاشبہ بھاری نظر آتا ہے۔ انہوں نے بہت سے حساس موضوعات اور سلگتے ہوئے مسائل کی طرف مذہبی عمائدین کو بڑے دھیمے اور مدبرانہ لہجے میں متوجہ کیا۔ ذیل میں دعوت فکر کے طور پر چند ایک کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا جارہا ہے:
٭انہوں نے آئندہ الیکشن کے حوالے سے درپیش خطرات کے تناظر میں کہا کہ پاکستان کے داخلی اور بیرونی دشمنوں کے ایجنڈے کا حصہ ہے کہ مذہبی گروہوں کو آپس میں لڑا کر ملک گیر خونیں فساد پھیلادیا جائے تاکہ اس خون خرابے اور افراتفری میں انتخابات منعقد ہی نہ ہوسکیں۔
٭ملک دشمن اور دین مخالف استعماری قوتوں کی اس سازش کا توڑ مذہبی طبقات میں اتفاق و اتحاد میں ہی مضمر ہے۔ محافل و مجالس میں پرامن بقائے باہمی کے جذبے سے بات کی جانی چاہئے۔ وطن عزیز پر جو خطرات منڈلارہے ہیں ان کے پیش نظر آپ لوگ بے حد محتاط ہوجائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فتنہ و فساد پھیلانے والوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا جبکہ محبت و مودت عام کرنےو الوں کی پوری قوم کے سامنے عزت افزائی کی جائے گی۔
٭میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ ہم سب مسلمان ایک اللہ ایک رسولA ایک قرآن اور ایک کعبہ کو ماننے والے ہیں مگر پوری دنیا میں اتنا فکری انتشار کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا جتنا مسلمانوں کے درمیان ہے۔ یہ یقینا ان لوگوں کی وجہ سے ہے جو اسلام کے نمائندہ ہیں ورنہ اسلام تو پوری دنیا کو محبت و امن کا درس دینے کےلئے آیا تھا۔
٭اس پر مجھے مزید حیرت ہوتی ہے کہ آپ لوگوں میں سے ہر ایک کے پاس اس کے دلائل موجود ہیں کیا یہ دلائل وحدت امت کی ضرورت و اہمیت کےلئے بروئے کار نہیں آسکتے؟ اہل فکر اور صاحبان بصیرت حضرات کی کمی نہیں مگر ان کی کاوشوں کے مثبت اثرات کی رفتار شرانگیزی کے مقابلے میں بہت سست ہے۔
٭ایسی تعلیمات کون لوگ اور کہاں سے پھیلارہے ہیں جن سے اثر لے کر خودکش نوجوان اپنی جانوں پر کھیل رہے ہیں؟ وہ کونسی خدمت دین کررہے ہیں جو معصوم عورتوں بچوں اور پرامن شہریوں کو خودکش حملوں کا نشانہ بناکر اس مملکت خداداد کو کمزور کررہے ہیں؟ جس مذہب میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف سمجھا جاتا ہے اس کا نام لینے والے اپنے کلمہ گو بہن بھائیوں کا خون اتنی دیدہ دلیری سے کیوں بہارہے ہیں؟ یہ تو اجتماعی خودکشی کی طرف پیش قدمی ہے۔ مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے باہر سے کسی دشمن کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم تو خود اپنی جان کے دشمن بن چکے ہیں۔
یہ بدامنی، خون خرابے اور خودکش حملے ہمارے دشمنوں کا دل ٹھنڈا کررہے ہیں۔ اس سے پورا عالم اسلام، اسلامی تعلیمات اور اللہ کا آخری دین سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ یہ شر انگیزی ہمیں معاشی، سیاسی اور ثقافتی محاذوں پر کبھی بھی ترقی نہیں کرنے دے گی۔ میں نے اپنے طور پر اس کوشش میں جوتیاں گھسا دیں کہ باہر سے لوگ ہمارے پاس آکر سرمایہ کاری کریں، بے روزگاری میں کمی آئے اور ہم بھی خوشحالی دیکھ سکیں مگر یہ بدامنی اور سیکورٹی رسک میرے پاﺅں کی زنجیر بن گیا ہے جب اپنے لوگ ملک سے بھاگ کر بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، تھائی لینڈ اور عرب امارات میں جاکر سرمایہ کاری کرنے پر مجبور ہیں تو باہر سے کون ادھر کا رخ کرے گا۔
٭ہم بلاشبہ ایٹمی قوت ہیں مگر یاد رکھیں روس بھی ایٹمی قوت تھا۔ یہی امریکی استعمار جو ہماری سلامتی کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑا ہوا ہے اس نے اس کی معاشی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اسے توڑ دیا۔ ہمیں اس وقت نہ صرف معاشی مسائل ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر سیاسی، ثقافتی، تعلیمی اور مذہبی انتشار بھی سراٹھا چکے ہیں۔ توانائی کا بحران ہماری معیشت کی کمر توڑ چکا ہے، مذہبی اور علاقائی فتنے ہماری قومی سلامتی کو خطرناک موڑ تک لے آتے ہیں جس کے آگ صرف ہلاکت اور تباہی ہے۔
٭موجودہ وفاقی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے باہر کے تجزیہ کار ہماری معیشت کو ICU وارڈ میں زیر علاج مریض قرار دے رہے ہیں جہاں نہ ڈاکٹر ہے اور نہ خون کا بندوبست ہے۔ ایسے میں ہمارے صدر مملکت وزیراعظم اور دیگر اتحادی حضرات کرپشن کے ریکارڈ بنارہے ہیں جو ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
٭یاد رکھیں آئندہ الیکشن صرف اس بنیاد پر لڑا جارہا ہے کہ کیا یہ ملک قائم رکھا جائے یا اسے اس کے ہم وطنوں کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ ان دو باتوں میں سے کہ آپ کس کے لئے سرگرم عمل ہوتے ہیں۔
٭ہم مشاعیر اور مقدس ہستیوں کے دن بڑی خوشی اور جوش و جذبے سے مناتے ہیںمگر ان کے کردار، اخلاص، جوش عمل اور محنت کی طرف توجہ کئے بغیر ہم محض چھٹی منانے پر مصر ہوتے ہیں۔
٭ہم نے پنجاب کے ترقیاتی کاموں کے لئے US ایڈ لینے سے مئی 2011ءمیں انکار کردیا تھا۔ اس وقت سے اب تک اللہ کے فضل و کرم سے ہم بدستور بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کررہے ہیں۔ سینکڑوں پروجیکٹ زیر تکمیل ہیں، ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا محض قومی غیرت اور دینی حمیت کی خاطر ہم نے ڈرون پھینکنے والوں سے خیرات لینے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد فرمائی۔ اسی طرح اگر ہماری مرکزی حکومت بھی کرپشن روک کر قومی وسائل کا صحیح استعمال کرتی تو آج ہماری سلامتی ان ہاتھوں میں کھلونا نہ بنتی جو ہمیں قرض بھی دیتے ہیں اور ہمارا خون بھی بہاتے ہیں۔ اے اہل وطن علماءو مشائخ! آﺅ ہم سب مل کر اس وطن کو بچالیں اور اس کےلئے اپنے اپنے حلقہ اثر میں مثبت اور موثر کردار ادا کرنا شروع کردیں“۔
قارئین! جب شہباز پاکستان کا یہ پر درد خطاب جاری تھا، شرکاءکی اکثریت حالات کی سنگینی پر غوروفکر کرنے کی بجائے بریانی اور حلوے کی لذت میں محو نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حالت پر رحم فرمائے۔