سب کے ماضی پر مٹی پاﺅ!!

سب کے ماضی پر مٹی پاﺅ!!


ماضی میں کون پارسا رہا ہے؟ سب نے ہی غلطیاں کیں۔ ملک میں بار بار مارشل لاءلگانے والوں نے آئین توڑا مگر انکے اقدام کو بھی ہمیشہ عدلیہ نے Endorse بھی کیا اور ہمیشہ پی سی او کے تحت حلف اٹھائے گئے۔ عدلیہ نے توہمیشہ فوجی حکمرانوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔ جوڈیشل عدالتوں نے کئی عادی مجرموں کو پے رول پر رہا کرنے کے بعد اب تک ان کی خبر بھی نہیں لی۔ روس کے افغانستان پر حملے کے بعد اس جنگ کو پاکستان کی جنگ بنانے میں میڈیا کا کردار رہا حالانکہ اس وقت ایئرمارشل اصغر خان کہتے رہے کہ یہ پاکستان کی تباہی کی جنگ ہوگی اور اس سے صرف اور صرف فائدہ امریکہ کو پہنچے گااور وقت نے یہ بات درست ثابت بھی کی مگر اس وقت نام نہاد دانشوروں نے اس جنگ کو پاکستان کے مفاد کی جنگ قرار دیکر ایسا ماحول بنایا کہ ہم اس جنگ میں کود پڑے اور اسکے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ہماری سیاسی جماعتوں نے روس کے متعلق کہا تھا کہ روس پاکستان کے گرم پانیوں تک رسائی کی کوشش کر رہا ہے اور اسی لئے روس افغانستان کے بعد پاکستان کا رخ کرےگا حالانکہ یہ شوشہ امریکہ نے چھوڑا تھا اور پاکستان کا بچہ بچہ اسی بات کا ورد کرتا تھا۔ ایئر مارشل محمد اصغر خان نے کہا تھا کہ روس معاشی طور پر تباہ ہوگیا ہے اور جو ملک معاشی طور پر تباہ ہوجائے وہ کس طرح پاکستان پر جنگ مسلط کرسکتا ہے؟ روس کو افغانستان سے ہر حالت میں واپس جانا تھا۔ امریکہ روس سے ویتنام کی جنگ کا بدلہ لینا چاہتا تھا اور روس کو سپرپاور ہونے کی حیثیت سے شکست دلانا چاہتا تھا۔ افغانستان کی سرزمین پر45000 مجاہدین بمع اسامہ بن لادن کوامریکہ ہی لایا تھا اور انہی مجاہدین کی وجہ سے روس کو شکست ہوئی۔
سیاستدانوں کی اکثریت عوام کے سامنے فوج کے خلاف بیانات تو دیتی ہے مگر رات کے اندھیرے میں جی ایچ کیو کا طواف کرتی نظر آتی ہے اور سیاست میں بڑے نام تو نامور ہوئے ہی فوج کے سہارے ہیں مگر عوام کی فلاح کے دعوے کرنیوالوں نے ریکارڈ کرپشن کی اور صرف اپنی جیبیں بھریں۔ سیاستدانوں نے Over valuation سے انڈسٹریاں لگاکر آدھے قرضے اپنی جیب میں ڈالے اور باقی رقم سے کچھ عرصہ انڈسٹری چلاکر بندکردی اور خود کو دیوالیہ ثابت کرکے بینکوں سے اپنے سیاسی اثرورسوخ پر قرضے معاف کرالئے۔ سیاستدانوں نے عوام کے اعتماد کو ہمیشہ ٹھیس پہنچائی اور مہنگائی ‘ بے روزگاری میں کمی اور تعلیم و علاج معالجے کی سہولتیں پہنچانے میں کوئی انقلابی فیصلے نہیں کئے۔ اب تک ملک میں آنیوالے سیلاب‘ زلزلے قدرتی آفات میں ہمیشہ سول حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے اور ہمیشہ قوم نے فوج کی جانب دیکھا ہے۔ الحمدﷲ فوج نے ہمیشہ قوم کے لئے بہترین ریلیف خدمات سرانجام دیں۔
جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس کی معزولی سے شروع ہونیوالی تبدیلی کے بعد اب عدلیہ بارہا کہتی ہے کہ ہم قطعی کوئی غیر آئینی کام نہیں کرینگے اور اب ملک میں مارشل لاءنہیں آسکتا اور عدلیہ کے ماضی کو فراموش کردیا جائے۔ عدلیہ کے ماضی کو فراموش تو تبھی کیا جاسکتا ہے جب عدلیہ سمیت فوج‘ سیاستدانوں اور میڈیا کے ماضی کو بھی فراموش کیا جائے۔2008 ءسے جنرل کیانی نے بارہا یہ بات کی ہے کہ ہم اپنی بھرپور توجہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی جانب مبذول رکھے ہوئے ہیں اور فوج اب کوئی غیر آئینی اقدام نہیں کریگی اور انہوں نے تمام سول اداروں سے فوجیوں کو واپس بھی بلایا اور گزشتہ 5 سال میں درپیش آنیوالے تمام بحرانوں میں یہ بات اپنے عمل سے ثابت بھی کردی کہ فوج بطور ادارہ اب سیاست سے دور ہے۔
اصغر خان کیس کے فیصلے کے بعد یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ I.S.I. کا سیاسی سیل سیاستدان وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ایگزیکٹیو آرڈر پر قائم ہوا تھا اور فوج کی سیاست میں مداخلت کی ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے۔ جنرل اسلم بیگ‘ حمید گل اور دیگر جرنیلوں کی جانب سے آئی جے آئی بنوانے کے عمل پرفوج کو بطور ادارہ تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا بلکہ یہ ان افراد کا انفرادی فعل تھا۔ چونکہ یہ کام انہوں نے وردی میں کیا تھا اس لئے چیف جسٹس کو چاہئے تھا کہ اس معاملے کو فوج کے حوالے کرکے تحقیقات اور کارروائی کا حکم دیتے تواس سے کوئی ردعمل نہ آتا۔
اب ہر طرف سے یہ آواز آر ہی ہے کہ ماضی کے گناہوں پر مٹی پاﺅ۔ فوج کی جانب سے تو اس بات پر مکمل عملدرآمد ہورہا ہے مگر عدلیہ‘ سیاستدان اور میڈیا اس پر عملدرآمد کےلئے تیار نہیں۔ کسی بھی صوبے میں بدامنی کے بعد فوج ‘ ایف سی یا رینجرز طلب کرنا مقامی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور فوج طلب کئے جانے کے بعد انکی کارکردگی کی تمام تر ذمہ دار بھی حکومت ہی ہوتی ہے۔ مگر بلوچستان کے معاملات پر حکومت کی جانب سے مجرمانہ خاموشی سے عوام میں فوج کےخلاف جذبات قائم ہورہے ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے فوج کو بطور ادارہ شدید تنقید کا نشانہ بنانے سے امریکہ کو یہ جرا¿ت ہوئی کہ اس نے بھی اقوام متحدہ میں یہ کہہ ڈالا کہ ہمیں بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلا ف ورزیوں پر تشویش ہے۔عدلیہ اب بھی فوج کے ماضی کو فراموش کرنے پر تیار نظر نہیں آتی مگر یہ امید رکھتی ہے کہ انکا ماضی فراموش کردیا جائیگا۔
سیاستدان تو نظریاتی رہے ہی نہیں اگر سیاستدان نظریاتی ہوتے تو موجودہ حکومتی اتحاد کبھی قائم ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ سیاستدانوں نے اب تک اپنے قول و فعل سے یہی ثابت کیا ہے کہ وہ موقع پرست ہیں اور جہاں انہیں ذاتی فائدہ مل رہا ہوتو وہ آئین کی خلاف ورزی کو گناہ کبیرہ قرار دیتے ہیں اور کہیں ذاتی مفاد پر خودغیر آئینی حکومت کا حصہ بن کر عجیب و غریب تاویلیں پیش کرتے ہیں اس لئے ماضی کو بھلانے کی بات پر سیاستدانوں کی جانب سے بھی عملدرآمد نہیں ہورہا اور اپنے مخصوص مفادات کے حصول کےلئے جب چاہیں عدلیہ‘ میڈیا اور فوج کے ماضی کو یاد کرلیں اور جب چاہیں فراموش کرنے کی اپیلیں کرتے پھریں۔
یہاں عالمی طاغوتی قوتوں کے پے رول پر کام کرنےوالے نام نہاد صحافی اور دانشوروں سے زیادہ لوگ واقف ہیں اور انہوں نے پہلے مجاہدین اور جہادیوں کو بھرپور سپورٹ کرکے اپنا نام کمایا اور اب ان کےخلاف پروگرام کرکے‘ کالم لکھ کر نام کمانا چاہتے ہیں حالانکہ دونوں صورتوں میں انکے پیش نظر صرف اور صرف امریکی مفاد رہا ہے اور آج بھی وہ اپنے آقا امریکہ کوخوش کرنے کےلئے فوج پر تنقیدیا اداروں کے درمیان تصادم کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے بلکہ ان کی تمام تر توجہ اسی بات پر مبذول ہے کہ فوج کو بطور ادارہ شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہے اور اداروں کو آپس میں لڑا کر ایک بار پھر نظام لپیٹ دیا جائے۔ اس صورت میں فوج کے بجائے عدلیہ‘ سیاستدانوں اور میڈیا کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی پڑےگی اور سب کو ایمانداری کے ساتھ ایک دوسرے کے ماضی کو فراموش کرکے آگے کی طرف دیکھنا ہوگا۔