دور ِ حاضر میں مسلمانوں کا مسئلہ .... (۱)

کالم نگار  |  مشاورت : کے ایم اعظم
دور ِ حاضر میں مسلمانوں کا مسئلہ .... (۱)


یہ بات کتنی افسوس ناک ہے کہ اسلامی ریاست قائم کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کا فہم دین ہی ناقص ہے۔ قرآن کریم کی عمیق باتیں تو درکنار ہم اس کے قصائص کو بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جب شیطان مردود کا آدم کو سجدہ نہ کرنے پر جو مکالمہ رب قادر سے ہوا، اُس میں چھپی ہوئی ایک سادہ سی بات کو بھی ہم سمجھ نہ پائے۔ جب شیطان رجیم نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج پیش کرنے کی جسارت کی کہ میں تیرے خاص الخاص بندوں کے علاوہ تجھے ماننے والوں کی ایک کثیر تعداد کو اپنے ساتھ جہنم میں لے جاﺅں گا۔ میں اُن پر ہر سمت اور ہر پہلو سے حملہ آور ہوں گا اور نہ پائے گا تُو اُن میں سے اکثر کو شکرگزار۔
اللہ تعالیٰ نے اُس کا چیلنج قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے چاہنے والے تمہارے پیچھے نہ جائیں گے۔ یہی وہ بات ہے جس کو نہ سمجھنے پر ملعون شیطان اسی لمحہ ہی مات کھا گیا۔ سمجھنے کی بات یہ تھی کہ اللہ جل جلالہ تعداد (Quantity) کی تو بات ہی نہیں کر رہا تھا اُس کا مطمح نظر معیار (Quality) تھا۔ شیطان مردود تو اُسی وقت سے انسانوں کی تعداد اور مقدار کے چکر میں پھنسا ہوا ہے اور اس میں وہ بے شک ظاہراً کامیاب ہو رہا ہے مگر اس کو یہ احساس نہیں کہ وہ ایک غلط کھیل کھیل رہا ہے جس میں ناکامی ہی اس کی تقدیر ہے۔ بے شک شیطان مردود کروڑوں انسانوں کو مختلف طریقوں سے گمراہ کر کے خوش و خرم ہے کہ وہ کامیاب ہو رہا ہے جبکہ شکست فاش ہی اس کا مقدر ہے۔ یہاں پر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی صرف معدودے چند لوگوں کی بات نہیں کر رہا بلکہ اس کا مطمح نظر یہ ہے کہ اس کے بے شمار چاہنے والے شیطان کے نرغے میں نہ آئیں۔ دیکھئے قرآنی آیات: (سورة الاعراف، آیت 16،17؛ سورة الحجر، آیت 36 تا 43؛ سورة ص، 82 تا 85)۔
ہم جمہوریت کی رٹ لگائے رہتے ہیں۔ جمہوریت ہی کو اپنے سب دکھوں کا مداوا سمجھتے ہیں حالانکہ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کا التباس جمہوریت ہی ہماری سب خرابیوں کا باعث ہیں۔ جمہوریت کا دارومدار تعداد اور اکثریت پر ہے، اعلیٰ معیار پر نہیں، جبکہ اللہ کے پیش نظر تو صرف اعلیٰ معیار، اعلیٰ اخلاق، اعلیٰ چال چلن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی اکثریت کو علم و عقل سے محروم اور بے خبر قرار دیا ہے (سورة العنکبوت آیت 63 ؛ سورة المائدہ آیت 103؛ الاعراف آیت 131؛ الانفال آیت 34 )۔
ہم اپنے معاشرتی اور سیاسی نظام کا دارومدار اس شے پر رکھ رہے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایا ہے۔ تمام مسلمان ریاستوں کی حکومتوں کا مطمح نظر ووٹ حاصل کر کے اقتدار حاصل کرنا ہے۔ اُن کا کوئی پروگرام خواص پیدا کرنے کی طرف رجوع نہیں کر رہا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے پروگرام پر چلنے کی بجائے شیطان کے پروگرام پر چل رہے ہیں۔ دونوں سرمایہ دارانہ نظام اور جمہوریت شیطانی کھیل ہی تو ہیں جن میں نہ تو عوام کی فلاح ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی۔ جمہوریت کا دارومدار عوام کی ووٹنگ پر ہے جبکہ اسلام صالحین کی مشاورت کو پسند کرتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم کس اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں کیونکہ ہم اللہ جل جلالہ کی بتائی ہوئی ہدایت مبین پر نہیں چل رہے بلکہ اس کے برعکس شیطان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی ہمارا وہی حال کر رہا ہے جو شیطان کے پیروکاروں کا ہونا چاہئے۔ مسلمان ہی مسلمانوں کا قتل و غارت کر رہے ہیں، اللہ والوں کے مقابر کو تباہ کیا جا رہا ہے اور مساجد میں مسلمانوں کی کھڑی صفوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ایسے نظر آ رہا ہے کہ اب تو امر ربی ہی ہمیں اس لعنت سے نجات دلا سکتا ہے جس میں ہم گردنوں تک پھنسے ہوئے ہیں۔
پاکستان میں اسلام فلاح و بہبود کا منبع بننے کی بجائے عوام کےلئے وبال جان بنا ہوا ہے۔ اس کی بڑی وجہ کچھ دینی اکابرین اور علماءکا ناقص فہم دین اور ان کا مفاد پرستانہ اور منافقانہ رویہ ہے۔ پاکستان میں اسلام کے مستقبل کے ناطے سے جو شے مجھے پریشان کئے ہوئے ہے‘ وہ ہے ہمارے فکر اسلامی میں انحطاط۔ اسلام کے 1200سالہ عروج کے دوران میں جس شے نے مرکزی کردار ادا کیا وہ فکر اسلامی ہی تھا۔ حیرت ہے کہ اس دور میں فکر اسلامی اور قانون اسلامی کا تقریباً کلی دارومدار اسلامی معاشرہ (سول سوسائٹی) پر تھا نہ کہ ریاست پر بلکہ اسلامی معاشرہ نے ریاست کو اس دائرہ میں دخل اندازی کا کبھی حق نہ دیا۔ آج کے دور میں جبکہ مسلمان ایمان کی کمزوری اور اخلاقی انحطاط کا شکار ہیں تو وہ چلا چلا کر ریاست کو ان کے اوپر اسلام کو نافذ کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اسلام کوئی مجرد نظریہ نہیں ہے۔ اس کا نفاذ تبھی ہو گا جب یہ ہماری زندگیوں میں نفوذ کرےگا۔ بقول سید قطب مصری: ”شریعت اسلامی معاشرہ قائم نہیں کرتی بلکہ اسلامی معاشرہ شریعت کو قائم کرتا ہے۔“
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں وہ لوگ کبھی بھی کامیاب نہ ہوئے جو کسی خطہ میں اسلامی نظام کو رائج کرنا چاہتے تھے۔ اسلامی معاشرہ کبھی بھی اسلامی جماعتوں یا تحریکوں کے ذریعے قائم نہیںہوا۔ اسلامی معاشرہ صرف ان افعال و افکار اور محسوسات کی ضمنی پیداوار (by product) کے طور پر ابھر سکتا ہے جن کا مقصد انسانی زندگی کے حوادث سے وراءاللہ کی خوشنودی کا حصول ہو۔ والذین جاھدوا فینا لنھدینہم سبلنا (سورة ۲۹ آیت ۶۹: اور وہ لوگ جو جدوجہد کرتے ہیں ہماری خاطر تو ہم ضرور دکھائیں گے انہیں اپنے راستے)کا تعلق جتنا تقویٰ و پارسائی سے ہے اتنا ہی سیاسی عمل سے بھی ہے۔ لہٰذا نرے عملی اقدامات بلکہ اعمال و افعال کی بڑی سے بڑی تعداد بھی ہمارے مسائل اس وقت تک حل نہیں کر سکتی جب تک اس میں یہ بنیادی شرط مفقود رہے گی مگر ہم منافقت میں اپنی ترجیحات اور عقائد کا کھل کر اعلان نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ایک ذہنی دھندلکے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسلام کا مرکزی اصول اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے اور یہ خوشنودی اللہ تعالیٰ کے دیئے گئے اصولوں اور احکامات پر بعینہ عمل کر کے حاصل ہوتی ہے۔اسلام اللہ تعالیٰ کا دین ہے کوئی نظام نہیں۔ جب ہمارے علماءنے اللہ کے دین کو ایک نظام بنا دیا اور یہ زمینی حقائق اور معاملات میں قید ہو کے رہ گیا اور لوگوں کا رشتہ اللہ تعالیٰ سے کٹ گیا۔ (جاری)