گوادر‘ بلوچستان کی خوشحالی کی ضمانت

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
گوادر‘ بلوچستان کی خوشحالی کی ضمانت

کسی امریکن نے غالباً مذاق میں کہاتھا کہ:’’عرب دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنی جاہلیت اور پسماندگی پر فخر کرتے ہیں‘‘۔ یہ بات عربوں کے لئے سچ ہو یانہ ہو لیکن پاکستانیوں کے لئے سو فیصد درست ہے۔یہاںسردار اور بڑے لوگ اب بھی سکول اس لئے نہیں کھولنے دیتے کہ غریب لوگ پڑھ لکھ گئے تو انکی سرداری یا چودھراہٹ ختم ہوجائیگی۔سڑکیںاس لئے نہیں بننے دیتے کہ ان کے ملازم غریب مزارع روزگار کے لئے شہروں کو بھاگ جائیں گے اور ہسپتال اس لئے نہیں بننے دیتے کہ لوگ دور دور سے مریض لے کر آئیں گے اور انہیں خوامخواہ میزبانی کرنی پڑے گی اور اگر غریب غرباء کو علاج معالجہ کی سہولت حاصل ہوگئی تو چودھریوں کی چودھراہٹ خطرے میں پڑ جائیگی۔
اس میں شک نہیں کہ ہمارے سردار ،چوہدری یا وڈیرے ترقی کے سب سے بڑے مخالف ہیں ۔اس لئے ترقیاتی فنڈز استعمال سے پہلے ہی غائب ہوجاتے ہیں۔بلوچستان میں یہ معاملہ اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کہ وہاں کے اکثر سردار ترقی کے سخت مخالف ہیں۔
جب سے گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر عملی کام کا آغاز ہوا ہے بلوچستان کے کچھ سردار اور سرداروں کے زیرِ سایہ کام کرنے والے دہشتگرد سخت تکلیف میں ہیں۔میربراہمداغ بگٹی سوئیزر لینڈ کے کسی ہوٹل کے کمرے سے مسلسل بیانات داغ رہے ہیں کہ گوادر پورٹ بلوچوں کو غلام بنانے کی سازش ہے۔اسی طرح ڈاکٹر اللہ نواز اور کچھ مری صاحبان پنجابیوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔
معصوم اور بے گناہ پنجابی مزدوروں ،غیر بلوچ ڈاکٹروں ،انجنئیروں اور اساتذہ کو بیدردی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ چینی مزدور جو کہ ہمارے مہمان ہیں انکو بھی نہیں بخشا جا رہا حالانکہ بلوچی روایات کے مطابق تو مہمان دشمن کی بھی حفاظت کی جاتی ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ بلوچ یہ سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں کہ یہ سب غیر بلوچی لوگ انہی کی خدمت ،ترقی اور بہتری کے لئے وہاں کام کررہے ہیں۔مستفید ہونے والے کوئی اور نہیں بلوچ عوام اور انکے بچے ہی ہیں۔اس سے بڑی جہالت بھلا کیا ہوسکتی ہے کہ بلوچ عوام کی خدمت اور ترقی کے لئے آنیوالے بے گناہ اور معصوم لوگوں کوبلوچ خود ہی قتل کر دیں۔
بلوچ دہشتگردوں اور قوم پرستوں کا نیا محاذ اب گوادر پورٹ ہے۔ان بلوچ سرداروں نے اقتدار میں رہنے کے باوجود خود تو آج تک عوام کی بھلائی کا کوئی کام نہیں کیا اور اب نئی ترقی سے خوفزدہ ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ گوادر کے لئے تو بلوچ عوام کو پاکستان کا شکرگزار ہونا چاہیے کیونکہ گوادر تو بلوچستان کا حصہ بھی نہیں تھا۔بھلا ہو ایک پنجابی وزیر اعظم کا جس نے اس علاقے کی اہمیت کا احساس کیا اور خرید کر بلوچستان کا حصہ بنا دیا۔اسوقت یہ بلوچ سردار کہاں تھے جب گوادر اومان کی ریاست کا حصہ تھا۔ گوادر کی تاریخ اس لحاظ سے اہم ہے کہ پچھلی اڑھائی صدیوں سے بلوچوں کا اس سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ تاریخی طور پر گوادر دو بلوچی الفاظ کا مجموعہ ہے اول:’’ گوات‘‘ معنی ہوا اور دوم’’ در‘‘معنی دروازہ یعنی ہوا کا دروازہ کیونکہ یہاں سمندری ہوا بہت تیز چلتی ہے ۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ سکندر اعظم جب اس علاقے سے گزرا تو اسے اور اسکی فوج کو پیاس نے بہت ستایا لیکن پانی کا قطرہ تک میسر نہ ہوا۔
یونانیوں نے اسے ’’گردوسیا‘‘ کا نام دیا معنی سخت بے آب و گیاہ بنجر۔تو وہاں سے یہ گوادر بنا۔ بہر حال پس منظر کوئی بھی ہو یہ علاقہ کسی بھی لحاظ سے کبھی بھی کسی اہمیت کا حامل نہیں رہا نہ ہی یہاں کوئی طاقتور بلوچ حکومت کبھی قائم رہی ہے۔زیادہ تر یہ علاقہ سلطنت ایران کا حصہ رہا ہے۔
 1666 میں ریاست قلات قائم ہوئی تو یہ علاقہ ریاست کا حصہ قرار پایا۔1783میں اومان کا شہزادہ تیمور سلطان مسقط سے شکست کھا کر اس علاقے میں آیا اور خانِ قلات سے مدد کا طلبگار ہوا تو اس وقت کے خانِ قلات میرنوری نصیرخان نے یہ علاقہ اسے گزارے کے لئے بخش دیا۔کچھ حوالوں کے مطابق خان نے اسے بیٹی کا رشتہ دیا اور یہ علاقہ جہیز میں بیٹی کو دیا۔بعد میں اومان کی ریاست دوبارہ قائم ہو گئی ۔تیمور سلطان دوبارہ حکمران بنا لیکن یہ علاقہ واپس نہ ہوا بلکہ اومان کے سلطان یہاں اپنا گورنر رکھتے تھے جو یہاں کا نظم و نسق سنبھالتا اور ٹیکس اکٹھا کرتا۔
پاکستان بننے کے بعد 1954میں محمد علی بوگرہ کی حکومت میں پہلی دفعہ اس علاقے کی اہمیت کا احساس کیا گیا لیکن اسے حاصل کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا۔ 1958میں پاکستانی وزیر اعظم ملک فیروز خان نون جو کہ خود زمیندارہ بیک گرائونڈ سے تعلق رکھتا تھا کو اس زمین کی اہمیت کا احساس ہوا تو اس نے اسے خریدنے کے لئے مذاکرات شروع کئے،با لآ خر 8ستمبر1958کو یہ ٹکڑا مبلغ 3 ملین ڈالرز (5.5بلین روپے) میں خرید لیا گیا۔
حکومت کے پاس اتنی رقم ادا کرنے کی سکت نہ تھی لہٰذا اسوقت کے پرنس آغاخان سے امداد کی درخواست کی گئی تو اس نے دو حصہ معاوضہ ادا کردیا۔تیسرے حصہ کی ادائیگی کے لئے حکومت پاکستان نے عوام پر ٹیکس لگایا جس سے ادائیگی کی گئی۔اس خرید کو قانونی حیثیت دینے میں مزید 3ماہ خرچ ہوئے اور 8دسمبر1958میں مارشل لاء کے دور میں یہ قانونی طور پر پاکستان کا حصہ قرار پایا۔اسوقت تک گوادر محض چند ہزار ماہی گیروں کی بستی تھی۔1977میں اسے ضلع کا درجہ دے کر بلوچستان میں ضم کردیا گیا۔یہ علاقہ پاکستان کے جنوب مغرب میں بحیرہ عرب کے ساحل پر اور خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے ۔تجارتی شاہراہ آبنائے ہرموز بھی نزدیک ہی سے گزرتی ہے جہاں سے دنیا کے 40فیصد تیل کے جہاز گزرتے ہیں۔یہ کراچی سے 700کلو میٹرز اور ایرانی باڈر سے محض 120کلومیٹر دور ہے۔
2002میں چین اور پاکستان نے مل کر Warm Water Strategic Deep Seaportبنانے کا کام شروع کیا۔ 248ملین ڈالرز کی لاگت سے یہ پورٹ تیار ہوئی تو 20مارچ 2007کو صدر پاکستان نے اسکا افتتاح کیا۔ 750ملین ڈالرز کے مزید خرچ سے اسے کمرشل پورٹ بنایا گیا ۔ فروری2013 میں ایران نے یہاںایک بہت بڑی آئل ریفائنری قائم کرنے کا اعلان کیا جس پر4بلین خرچ ہونگے اور4 لاکھ بیرل تیل روز صاف ہوگا ۔ چین بھی ایک آئل ریفائنری قائم کرنا چاہتا ہے جہاں  60ہزار بیرل تیل روزانہ صاف ہوگا۔
چین کے لئے یہ بندرگاہ بہت اہم ہے کیونکہ اسکا تیل لے جانیکا راستہ 16000کلومیٹر سے کم ہوکر محض 5000کلومیٹر رہ جائیگا۔لہٰذا چین اس کے انفراسٹرکچر پر مزید 12بلین ڈالرز خرچہ کررہا ہے۔ اسے کوسٹل ہائی وے کے ذریعے کراچی سے ملادیا گیا ہے اور موٹر وے کے ذریعے رتو ڈیرو سندھ سے ملایا جا رہا ہے۔ یہ شہر اب تیزی سے ترقی کرے گا۔گرین فیلڈ ائیر پورٹ اور گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ تیار ہو چکے ہیں۔
رہائشی کالونیاں اور انڈسٹریل ایریاز زیر تعمیر ہیں۔ تعمیر مکمل ہونے پر یہ دنیا کے چند بڑے شہروں میں شمار ہوگا۔ 10لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا جس کا تمام تر فائدہ بلوچستان کو جائے گا۔لہٰذا بلوچوں کے اعتراضات سراسر بے جا ہیں۔انکا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوا لیکن فائدہ انہیں ملے گا۔شرافت کا تقاضا تو یہ ہے کہ بلوچوں کو تو حکومتِ پاکستان کا شکرگزار ہونا چاہیے۔