پاک چین معاہدے ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت

کالم نگار  |  شیخ منظر عالم
پاک چین معاہدے ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت

گذشتہ دنوںکور کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں انتہائی صاف گوئی اور سچائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح طور پر بھارت کی خفیہ ایجنسی را کی پاکستان میں واضح مداخلت کا اظہارکیا ہے، اس پر میں سمجھتا ہوں پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں پہلی بار اس واضح طور پررا(RAW) کی مداخلت کے بارے میں اعلان کیا گیا ہے ۔حالانکہ نظریہ پاکستان کے محافظ مرحوم ڈاکٹر مجید نظامی اپنے تمام اداروں کے ذریعے تن تنہا بھارت کی سازشوں اور پاکستان میں سیاسی ،ثقافتی دفاعی اور معاشی عدم استحکام لانے کی بھارتی گھنائونی ریشہ دوانیوں اورسازشوں کے بارے میں اپنی زندگی کی آخری سانس تک پردہ اٹھاتے رہے تھے اورمیں بھی گذشتہ 6 سال سے اپنے کالموں میں اس کا ذکر کرتا رہا ہوں۔ لیکن آج میں بحیثیت صنعتکار بھارت کی پاکستان پر تمام شعبوں کی طرح معاشی طور پر بھی جس طرح بھارت بحیثیت قوم ہمارے خلاف صف آراء ہے اور وہ کس طرح ہمیں معاشی طور پر ختم کرنا چاہتا ہے اس پر اظہار خیال کر وں گا۔ کیونکہ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ بھارت نے آج تک پاکستان کے وجود کو اور نظریہ پاکستان کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا اور بھارت میں تمام پارٹیوں اورتمام شعبوں حتیٰ کہ بھارت کے تاجروں و صنعتکاروں نے بھی بحیثیت قوم پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اس کے باوجود ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض انجمن ستائش باہمی کی طرز پر قائم تجارتی و صنعتی تنظیمیں نام نہاد اور یکطرفہ طور پر قائم کئے گئے مشترکہ چیمبر اور چند حکومتی اہلکار پھر ایک منظم طریقے سے پاک بھارت تجارت کے لئے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دلانے کی اپنی چھپی ہوئی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے سرگرم عمل ہو گئے ہیں اور کبھی پاک بھارت تجارت ،کبھی پاک بھارت بجٹوں اور کبھی پاک بھارت سرمایہ کاری کے نام پر خوبصورت الفاظ استعمال کر کے بھارت کی بھرپور وکالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔مجھے حیرانگی اس بات کی بھی ہے کہ قائد اعظم کے وارث ہونے کی دعویدار جماعت مسلم لیگ کے برسر اقتدار آنے کے بعد حیران کن طور پر اس مہم میں تیزی آرہی ہے حالانکہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی جرات گذشتہ 68 سالوں میں کسی کو نہیں ہوئی تھی ۔ جہاں تک اس دلیل کا تعلق ہے کہ قوموں سے تعلقات رکھے بغیر دنیا سے کٹ کر تنہا نہیں رہا جا سکتا لیکن اپنے وجود ،اپنی سلامتی اور اپنے خلاف تخریبی سرگرمیاں کرنے والوں کو اپنے گھر کا راستہ بھی نہیں دکھایا جا سکتا۔ آج بھی دنیا میں تائیوان اور چین ایک دوسرے کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں، وینز ویلا اور امریکہ ایک دوسرے سے سیاسی طور پر کتنے مخالف ہیں اور ایران اور امریکہ کی چپقلش کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں لیکن اس کے باوجودوہ تنہا نہیں ہو سکے تو ہم بھی اگر ایک ایسے ملک جس نے بحیثیت قوم ہمیں ذہنی طور پر تسلیم ہی نہیں کیا تو ہم نام نہاد مشترکہ چیمبر بنا کر کیوں انجمن ستائش باہمی کاکردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک دلیل پر بھی دی جاتی ہے کہ تجارت میں سیاست نہیں ہونی چاہیے یہ بڑا خوبصورت جملہ ہے اور میں بھی اس جملہ کی حقیقت سے انکار نہیں کرتا مگر جہاں تاجر ،صنعتکار اور تجارتی شعبہ بھی اس حد تک پاکستان کے خلاف ہو کہ ہندوستان کی سب سے بڑی تاجروں و صنعتکاروں کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(FICCI) نے اپنی2009-10 کی120 صفحات کی تفصیلی رپورٹ میں جو اس نے اپنی سفارشات کی صورت اپنی حکومت کو ارسال کی تھی اس کے چیپٹر نمبر5 صفحہ نمبر55سے62 میں پاکستان کو معاشی، دفاعی اور زرعی طور پر ختم کرنے کے طریقے تحریر کئے گئے ہیںتو جس ملک کی سیاسی ،لسانی اور مذہبی جنونیوں کے علاوہ ان کی تاجرو صنعتکار برادری کی بھی یہ سوچ ہوکہ ہم پاکستان کو کس طرح صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیںتو اس کے باوجود اگر ہم بغیر سوچے سمجھے خوبصورت الفاظ کا سہارا لے کر پاکستان کے مفادات کا سودا کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہوں تو پھر تاریخ بڑی ظالم ہوتی ہے اور وہ کسی کو معاف نہیں کرتی اور پھر کوئی میر جعفر یا میر صادق بچ نہیں پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دردمند پاکستانی اور جس نے تقسیم برصغیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے وہ ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم کی طرح کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتا ہے اور کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغیر بھارت سے کسی قسم کے تعلق کو پاکستان کی سلامتی وبقاء کے خلاف سمجھتا ہے۔ اسی طرح کور کمانڈر کانفرنس کا یہ بروقت انتباہ بحیثیت قوم ہمارے لئے باعث فکر ہونا چاہیے کہ ہم کس طرح بھارت کی شر انگیزیوں سے پاکستان کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی پر ہماری یکطرفہ کوششوں اور یکطرفہ کاروائیوں کے باوجود اگر بھارت کا رویہ منفی ہو تو معاملات کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں کیونکہ گذشتہ6 سال میں پاک بھارت کے درمیان کئی معاہدے ہوئے اور پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے تو امریکہ کی اس وقت کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کو خود اسلام آباد میں دستخط کرانے کے لئے بنفس نفیس آنا پڑا تھا لیکن گذشتہ ان 6 برسوں کے عملی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ پاک بھارت تجارتی توازن بھارت کی منفی سوچوں کی وجہ سے ہمیشہ بھارت کے حق میں ہی رہا ہے کیونکہ ان معاہدوں کے مطابق پاکستان سے روز ایک مال برادر ٹرین ہندوستان جانی تھی اس پر آج تک عمل نہ ہو سکا ،ان معاہدوں کی روشنی میں روزانہ کی بنیاد پر جتنے ٹرک ہندوستان سے پاکستان آنے تھے اتنے ہی ٹرک پاکستان سے ہندوستان جانے تھے اس پر بھی آج تک عمل نہیں ہوا بلکہ اس میں ایک کی نسبت پچاس کا فرق رہا ہے۔جب پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاہدہ ہو ا تھا میں نے اس وقت اپنے نوائے وقت کے کالم میں لکھا تھا کہ افغانستان کوئی ایسی منڈی نہیں ہے جس کیلئے بھارت کو پورے پاکستان کی راہداری دے دی جائے اور میں نے اپنے کالم میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ ان ٹرالروں اور کنٹینروں کے ذریعے افغانستان تجارتی سامان نہیں پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کیلئے سامان بھیجا جائیگا اس لئے ہمیں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ آج میرے وہ تمام خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں۔ اب ان بنیادی حقیقتوں کے باوجود اگر کوئی یہ کہے کہ پاکستان تنگ نظر یا تعصب پسند ہے تو ان کی عقلوں پر افسوس کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا ہے کیونکہ جس طرح بھارت جنونیوں کی طرح پاکستان کی سرحدوں پر ڈیم بنا رہا ہے، سندھ طاس کے معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور1948 کی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا منہ چڑا رہا ہے اس کے باوجود بھی ہم بھارت کی سازشوں کو نہ سمجھیں اور اس کے تدارک کے لئے کاروائیاں نہ کریں تواس کو کون عقلمندی کہے گا۔ خصوصاً جب امریکہ نے بھی اپنی بھارت سے تجارت 100ارب ڈالر سالانہ کی موجودہ سطح کو500 ارب ڈالرز سالانہ کرنے کے منصوبے بنائے ہیں اوربھارت اور امریکہ کے درمیان ایٹمی و دفاعی معاہدوں کے دستخط بھی ہوگئے اس لئے اب تو ہم کو مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے خوش قسمتی سے اس وقت جس طرح پاکستان کی سیاسی قیادت و فوجی قیادت ایک پیج پر آگئی ہے اور دونوں کی سوچیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے پر عمل کر رہی ہیں اور ساتھ ہی ہمارے روایتی اور واقعی محسن دوست چینی صدرنے جس طرح پاکستان آکر اپنے48ارب ڈالرز کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کی کوشش کی ہے میں سمجھتا ہوں ایسے مواقع تاریخ میں قوموں کو شاذ و نادر ہی ملتے ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ اس سنہری مواقع کو ہم اپنے محفوظ مستقبل کیلئے بڑی سنجیدگی اور بغیر کسی ذاتی و گروہی مفادات کے پاکستان کو اپنے پائوں پر بحیثیت قوم مل کر کھڑا کرنے کے لئے کوششیں کریں۔ اسی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔