تقریبی جشن میں سکیورٹی لیپس

کالم نگار  |  معین باری ....فیصل آباد
 تقریبی جشن میں سکیورٹی لیپس

ضرب المثل ہے کہ ''Accidents Take place  in The most disciplined families ." ’’نظم و ضبط والے گھرانوں میں بھی حادثات ہو جاتے ہیں۔‘‘
چند دن پیشتر ہیلی کاپٹر کے حادثہ میں جہاں پاکستانیوں کے علاوہ بیرون ممالک کے سفارتکار اور اہل خانہ ہلاک و زخمی ہوئے‘ سننے والے سکتے میں آگئے‘ دانشور یہ تصور کرکے دل کو تسلیاں دیتے رہے کہ ’’ہر چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوتی ہے۔‘‘ (قرآن)… پھر بھی اس حادثہ میں کچھ اپنی غفلتیں اور کوتاہیاں شامل حال ضرور ہیں۔
30 یا زیادہ غیرملکی سفارتکاروں‘ سفیروں اور ان کے اہل خانہ کو چند دنوں کیلئے سیرسپاٹے کیلئے گلگت لے جایا گیا۔ ان میں پاکستانی اعلیٰ افسر بھی شامل تھے۔ گلگت سے انہیں ہیلی کاپٹروں میں نلتر لے جایا جا رہا تھا جہاں وزیراعظم نوازشریف نے چیئر لفٹ کی افتتاحی تقریب میں فیتا کاٹنا تھا۔
ماضی میں اس روسی ہیلی کاپٹر میک کے ’’ٹیل روٹر کی خرابی‘‘ کی وجہ سے کئی حادثات ہو چکے تھے۔ یعنی اس کمپنی کے بنے کاپٹر فنی خرابی کی وجہ سے تباہ ہو چکے تھے۔ دوسرے برفباری اور طوفانوں کی وجہ سے گلگت اور نواحی علاقہ جات ہوائی سفر کیلئے پُرخطر پائے گئے تھے۔
اس سانحہ میں فلپائن اور ناروے کے سفیر ہلاک ہوئے۔ ملیشیا اور انڈونیشیا کے سفیروں کی اہلیہ ماری گئیں۔ پاکستان کے دو نوجوان پائلٹ فوجی افسر اور ایک صوبیدار بھی شہید ہوئے۔ جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر زخمی ہوئے اور بھی زخمی ہوئے اور ہلاکتیں ہوئیں۔
گلگت سے نلتر جانے والے ہیلی کاپٹروں میں انڈونیشیا‘ سویڈن‘ پولینڈ‘ فلپائن‘ جنوبی افریقہ‘ رومانیہ‘ ناروے‘ لبنان اور ہالینڈ کے سفارتکار اور اہل خانہ بھی تھے۔
ایسی تقریبات اور جشنوں میں یہ پہلا المناک حادثہ نہ تھا‘ کرۂ ارض پر حکمرانوں کی غفلت‘ لاپروائی اور حد سے زیادہ ان کی پُراعتمادی کئی بار ہلاکتوں کا باعث بنی۔
1۔ امریکی صدر آنجہانی جان کینیڈی کو ٹیکساس جلوس میں شمولیت سے پہلے کینیڈی کے سکیورٹی چیف نے وارن کیا تھا کہ وہ کھلی کار میں بیٹھ کر نہ جائیں۔ کینیڈی نہ مانے۔ راستے میں ایک قاتل کی گولی کا نشانہ بنے۔
2۔ کینیڈی کا بیٹا کینیڈی جونیئر کو فیملی ممبرز نے Pacific سمندر پر سے ہوائی سفر سے منع کیا تھا کہ وہ جہاز خود نہ اڑائے‘ وہ نہ مانا اور بیوی سمیت غرق ہو گیا۔
3۔ صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کو آئی ایس آئی چیف نے منع کیا تھا کہ ایک سپر طاقت اور بعض دشمن ممالک ان کی جان کے درپے ہیں اس لئے تقریبات اور پبلک جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔ وہ نہ مانے اور آئی ایس آئی چیف کو ساتھ لیکر ٹینک کی افتتاحی تقریب میں شامل ہونے کیلئے بہاولپور چلے گئے۔
4۔ محترمہ بینظیربھٹو کو حکومت پاکستان بار بار جلسے جلوسوں کی قیادت سے منع کرتی رہی‘ وہ نہ مانیں‘ آخر ایک قاتل کی گولی کا نشانہ بنیں۔
جس ملک میں دہشت گردی ہو رہی ہو‘ سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے ملی ٹنٹ ونگز بنا رکھے ہوں‘ جن کے دہشت گرد نیٹو اور بھارتی جدید اسلحہ سے لیس ہوں اور جن کی سرکوبی کیلئے ملک کی آدھی فوج برسر پیکار ہو‘ جہاں غیرملکی ٹیموں پر حملے ہوئے ہوں‘ وہاں گلگت اور نلتر میں سیروتفریح اور تقریبات کے جشنوں میں غیرملکی سفیروں اور ان کی بیگمات کو ہیلی کاپٹروں میں لے جانا کہاں کی دانشمندی تھی۔
گلگت کے مضافات میں تو بہت سے ہوائی حادثات اور دہشت گردی کے واقعات ہوئے تھے۔ بعض اوقات تو پورے جہاز غائب ہو گئے۔
8 دسمبر 1972ء کو طیارہ 30 مسافر لئے گلگت سے پنڈی آرہا تھا‘ وہ ایک برفانی پہاڑ پر گرا اور غائب ہو گیا۔ 5 جون 1981ء ایک اور فوکر طیارہ حادثہ کا شکار ہوا۔ 25 اگست 1989ء کو فوکر طیارہ جس میں 54 مسافر سوار تھے‘ وہ گلگت سے اسلام آباد کی طرف پرواز کر رہا تھا کہ حادثہ کا شکار ہوا اور سب مسافر مارے گئے۔ ان کی باقیات بھی نہ مل سکیں۔ اس روٹ پر اور بھی ہوائی حادثات ہوئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کا ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کی وجہ سے حادثہ کا شکار ہوا۔ دہشت گردی یا برفانی طوفان کا نشانہ نہیں بنا۔ حکومت کا ڈپلومیٹک پرسنل کو تفریح مقامات پر سیر کیلئے بھیجنا بھی کوئی قابل اعتراض عمل نہیں ہے‘ لیکن روسی ہیلی کاپٹروں پر ایسے روٹ پر تقریب میں گلگت سے نلتر بھیجنا جہاں کئی ہوائی حادثے پیش آچکے تھے‘ راست اقدام نہیں ہو سکتا۔ یوں لگتا ہے کہ ملک کے فارن آفس میں کوئی جھول ضرور ہے۔ آئندہ ایسی تقریبات اور جشنوں سے غیرملکی سفیروں کو دور ہی رکھا جائے تو بہتر ہوگا۔
سفیروں کو ملک کی خوبصورت‘ شاداب وادایوں کی سیر کرائیں‘ لیکن سفر سے پہلے ان کے آرام اور سکیورٹی کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانا چاہئے۔