میاں نواز شریف کی دو تہائی اکثریت

کالم نگار  |  بیرسٹیر ظہور بٹ (لندن)

پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزارت عظمےٰ کے انتخابات میں میاں صاحب نے 244 ووٹ حاصل کرکے دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے انکے ساتھی اور چاہنے والوں نے جگہ جگہ ڈھول دھماکے بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا لوگوں پر ہوائی جہاز سے گلاب کے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے نئے وزیر اعظم کا استقبال کیا گیا پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں یہ پہلا خوش آئند واقع ہے کہ ایک منتخب حکومت نے آئین کیمطابق اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی اور Caretaker حکومت کے ذریعے نئے انتخابات کے بعد اقتدار جیت جانیوالی جماعت کے حوالے کر دیا ۔
یہ ایک الگ بحث ہے کہ ہماری پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں پاکستان کی تاریخ کی بدترین کرپشن کی مثالیں چھوڑنے کے سوا اس ملک کے عوام کو اور کچھ بھی نہیں دیا اس حکومت کے اپنے محتسب اعلےٰ کے مطابق روزانہ 6 ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوتی رہی ان ہی پانچ سالوں میں ہماری پاکستان سٹیل مل، پاکستان انٹرنیشنل ائیر لاینز، پاکستان ریلوے اور ہمارے دیگر قابل فخر ادارے جو کبھی انتہائی منافع بخش اور ہماری شان ہماری آن ہماری پہچان ہوا کرتے تھے آج اپنے منتظمین کی کرپشن اور بد عنوانیوں کی وجہ سے قریب المرگ پہنچ چکے ہیں یہاں تک کہ یہ ادارے لاکھوں کروڑوں کی آمدنی کے باوجود اپنے ملازمین کو ان کی ماہوار تنخواہیں بھی دےنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔
 بین الاقوامی ائیر اتھارٹی نے تو ہمارے تمام بوئنگ 747 جہازوں کو بین الاقوامی روٹوں پر پروازوں سے روکا ہوا ہے کہ یہ مناسب مرمت کے بغیر پرواز کے قابل نہیں ہیں اور ان میں سفر کرنے والے مسافروں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اس کے علاوہ آج ملک میں قانون کی حکمرانی کا مکمل فقدان ہے روزانہ کی قتل و غارت، انتہا پسندی اور فرقہ واریت زوروں پر ہے بجلی اور گیس کی نایابی کی وجہ سے ہماری صنعتیں بند پڑی ہیں معیشت کا ایسا برا حال پہلے کبھی بھی نہیں دےکھا تھا بےروزگاری میں اضافہ ہو رہاہے اور ان بے روزگاروں میں ہر سال نئی ڈگریاں لے کر در بدر نوکریاں ڈھونڈنے والے لاکھوں نوجوانوں کا اضافہ بھی ہو رہاہے گرمیوں کے موسم میں 20 - 22 گھنٹے کی روزانہ لوڈ شیڈنگ کاعذاب جہنم کی آگ سے کم نہیں لوگوں کو گھروں میںچولہے جلانے کےلئے بھی گیس دستیاب نہیں خزانہ خالی پڑا ہے اور قرضوں کی ادائیگی کےلئے اربوں کا زر مبادلہ درکار ہے اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن میں تعلیم اور حفظان صحت خصوصاً پینے کےلئے صاف ستھرے پانی کی دستیابی کے مسائل سر فہرست ہیں خود میاں نواز شریف صاحب نے فرمایا تھا کہ وہ ایک ایسے وقت میں وزیر اعظم بن رہے ہیں جب مسائل کے پہاڑ ان کے سر پر کھڑے ہیں گویا کہ انگرےزی کا وہ محاورہ کہ:
 Uneasy lies the head that wears the Crown
 ان پر صادق آتاہے اس پر طُرہ یہ ہے کہ یہ جو دوتہائی اکثریت والا طوق ان کے گلے میں پڑ گیا ہے اب یہ انہیں مسائل کے ان پہاڑوں پر قابو نہ پا سکنے کا کوئی بھی بہانہ مہیّا نہیں کر سکے گا ان انتخابات کے دوران جس طرح میڈیا نے عوام میں سیاسی شعور بےدار کیا ہے وہ بھی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے بعد اب میاں صاحب سے ایک ”نئے اور روشن پاکستان“ کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں میاں صاحب فرماتے ہیں کہ ان مسائل سے نپٹنے کےلئے انہوں نے کچھ نئے منصوبے تیار کئے ہوئے ہیں لےکن ان منصوبوں پر برق رفتاری کے ساتھ عمل کرنے کےلئے ان کو اتنی ہی ایکسپرٹ اور ذہین و فتین کابینہ کی ضرورت ہے۔ ان کی پچھلی حکومت کی ”شان دار“ ٹیم کے کارنامے تو ہم نے اسی وقت دےکھ لئے تھے جب مئی 1998 میں کئے جانے والے ایٹمی دھماکوں کے بعد رات کے 12 بجے تک بنک کھلوا کر یہ اپنا تمام فارن کرنسی کا سرمایہ تو بےرون ملک ٹرانسفر کرتے رہے مگر بےرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کا تمام سرمایہ کئی سالوں کےلئے منجمد کر دیا تھا اور اس دفعہ بھی اگر اسی قسم کے وزرا کو یہ مشکل عہدے دیئے گئے تو ....ع
گر ہمیں مکتب و ہمیں مُلاّ ۔۔۔۔۔؟
والا حشر ہو سکتا ہے کاشغر سے گوادر کی بندرگاہ تک بچھائی جانےوالی ریلوے لائین اور سڑک کا منصوبہ قابل صد تحسین اور پاکستان کے روشن مستقبل کےلئے بہت اہم ہے لےکن یہ اےک لانگ ٹرم منصوبہ ہے اور اس کو مکمل کرنے میں کئی سال درکار ہونگے جبکہ عوام کا پیمانہ صبر اب لبرےز ہوتا جارہا ہے اور ان کی فوری تشفی کےلئے برق رفتاری کے ساتھ لاءاینڈ آڈر کا سختی سے نفاذ، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، گیس کے بحران پر قابو پانا اور اشیائے خوردنی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے ۔
اکثر دےکھا گیا ہے کہ جو کاروباری حضرات ملک کے ٹیکس کے نیٹ ورک میں آتے ہیں وہ بھی پورا ٹیکس ادا نہیں کررہے ان سے باہر لاکھوں کی تعداد میں ایسے دوکاندار ہیں جو بالکل ہی ٹیکس ادا نہیں کرتے اور جنہیں ٹیکس کے نیٹ ورک میں فوری طور پر لائے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر خزانہ ہی خالی ہو تو اچھی خواہشات کے باوجود کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہمارے معاشی ماہرین کئی دفعہ ٹی وی پروگراموں میں فرما چکے ہیں کہ اگر یہ تمام لوگ پورا ٹیکس ادا کر دیں تو پاکستان کو اپنے بجٹ کے اخراجات پورے کرنے کےلئے کسی ملک سے قرضے لےنے کی ضرورت نہیں پی گی۔ بحر حال آنے والے ایک سو دنوں میں پتہ چل جائے گا کہ میاں صاحب کی حکومت ملک کے مسائل حل کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔ میاں صاحب کو یاد رکھنا چاہیئے کہ لوگوں اور خاص طور پر ہمارے نوجوانوں میں سیاسی شعور اس قدر بےدار ہو چکا ہے کہ وہ اپنے مسائل کے حل کےلئے میاں صاحب کی طرف سے اٹھائے جانے والے ہرہر قدم کا تنقیدی تجزیہ کرتے رہیں گے اور خدا نہ کرے کہ ان کی مایوسی اتنی بڑھ جائے کہ وہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا بن جائے۔