بجٹ کہانی

کالم نگار  |  قیوم نظامی

پاکستان کی بجٹ کہانی 65 سال پرانی ہے اس لیے اسے کلاسیک کہانی بھی کہا جاسکتا ہے۔ ہر سال اس کہانی کا نیا باب رقم کیا جاتا ہے جس میں الفاظ اور کردار بدل دئیے جاتے ہیں البتہ کہانی کے ہر باب کا انجام ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ بجٹ کہانی قومی وسائل کی لوٹ مار پر مشتمل ہے۔ طاقتور کردار قومی دولت آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے پاکستان کو امیروں اور غریبوں میں تقسیم کردیا ہے۔ امیر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور غریب زندگی کے پل صراط سے گزرتے رہتے ہیں۔
میرا جینا ہے سیج کانٹوں کی
ان کے مرنے کا نام تاج محل
پاکستان کے معاشی نظام کی مثال اس بالٹی کی طرح ہے جس میں سینکڑوں سوراخ ہیں ہر آنیوالا حکمران اس میں اس یقین سے پانی ڈالتا ہے کہ بالٹی بھر جائیگی حالانکہ جب تک بالٹی تبدیل نہ کی جائے یا اسکے سوراخ بند نہ کیے جائیں وہ نہیں بھرے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں کسی حد تک بالٹی کے سوراخ بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ حکومت کو بیمار معیشت ورثے میں ملی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسے صحت مند بنانے کیلئے ٹیکے لگائے ہیں۔ وزیراعظم، وفاقی وزراءاور سفارت خانوں کے صوابدیدی اور سیکرٹ فنڈ ختم کردئیے گئے ہیں۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں 30 فیصد کمی کی گئی ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے سادگی اور کفایت شعاری کا آغاز پی ایم آفس سے کیا ہے اور اسکے سالانہ اخراجات 726 ملین روپے سے 396 ملین روپے کردئیے ہیں۔ ان اقدامات سے 40 ارب روپے کی بچت ہوگی۔مسلم لیگی حکومت کا پہلا بجٹ عوام دوست نہیں البتہ تاجر دوست ضرور ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے سے افراط زر کی شرح بڑھ جائے گی اور بنیادی ضرورت کی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور عوام کی زندگیاں مزید مشکل ہوجائینگی۔ وفاقی حکومت نے حیران کن طور پر وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا اس کا قدرتی اور جائز ردعمل یہ ہوا ہے کہ آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن (ایپکا) نے حکومت کو ہڑتال کا نوٹس دے دیا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں بتدریج 6 فیصد اضافے سے عوام زندہ درگو ہوجائینگے۔ہرچند کہ 200 یونٹ تک اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔
موجودہ بجٹ کو نوجوانوں کا بجٹ بھی کہا جاسکتا ہے۔ میاں نواز شریف نے انتخابی مہم کے دوران نوجوانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی نوجوانوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے مختلف نوعیت کے یوتھ پروگرام شروع کرینگے۔ میاں صاحب نے پہلے بجٹ میں ہی کافی حد تک اپنے وعدے پورے کردئیے ہیں۔ وفاقی حکومت طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کریگی۔ تربیت اور مہارت حاصل کرنیوالے نوجوانوں کو دس ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائیگا۔ بے روزگار نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار کیلئے قرضے دئیے جائینگے جن پر سود نہیں لیا جائیگا۔ 50 ہزار نوجوانوں کو گھروں کی تعمیر کیلئے 15 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک کم شرح سود پر قرضے دئیے جائینگے۔ پنجاب اور سندھ کے پس ماندہ علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی فیس وفاقی حکومت ادا کریگی۔ تعمیر وطن پروگرام کیلئے پانچ ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ مسلم لیگ(ن) نے اپنے منشور میں مزدوروں کی تنخواہ پندرہ ہزار روپے کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ بجٹ میں پورا نہیں کیا گیا۔ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن 3000 سے بڑھا کر 5000 کردی گئی ہے۔
بجٹ کہانی میں غریب عوام کو بھی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ سکیم کے فنڈز 40 ارب سے بڑھا کر 75 ارب کردئیے گئے ہیں اور ماہانہ سپورٹ کی رقم ایک ہزار روپے سے بڑھا کر بارہ سو روپے کردی گئی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یقین دلایا ہے کہ اس سکیم کا نام بے نظیر شہید کے نام سے ہی منسوب رہے گا۔ کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے پورے پاکستان میں پانچ لاکھ گھر تعمیر کیے جائینگے۔ بے گھر افراد کیلئے 3 مرلہ سکیم جاری کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو خوش آئند ہے۔ جب تک غریب اور مفلوک الحال عوام کو پاکستان کی ملکیت میں شریک نہ کیا جائے اور انہیں روٹی، کپڑا اور مکان نہ دیا جائے انکی پاکستان کے ساتھ حقیقی اور سچی محبت کا رشتہ لازوال نہیں ہوسکتا۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری مایوس کن رہی ہے۔ بجٹ کہانی میں سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ کارپوریٹ ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 34 فیصد کردیا گیا ہے اور اسے 30 فیصد تک کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اب پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ حکومت کو صنعتی اور زرعی ترقی پر خصوصی توجہ دینی چاہیئے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ زراعت پر مبنی چھوٹی بڑی صنعتوں سے ہی ملک میں معاشی انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے حالانکہ اسے ڈائریکٹ ٹیکسوں پر توجہ دینی چاہیئے اور ٹیکس نادہندہ امیروں کو ٹیکس نیٹ کے اندر لانا چاہیئے تاکہ پاکستان کی معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑی ہوسکے اور اسے آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہ رہے۔
بجٹ کہانی میں عوام کیلئے سنہرے اور سہانے خواب بھی شامل کیے گئے ہیں۔ کاشغر سے گوادر تک شاہرہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس میگا پروجیکٹ کیلئے فنڈز کہاں سے آئینگے اسکے بارے میں بجٹ خاموش ہے۔ قوم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ حکومت 60 روز کے اندر 500 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ ختم کردیگی۔ یہ ہوشربا سرکلرڈیٹ جادو کی کس چھڑی سے ختم کیا جائیگا کیا سپیشل بانڈز جاری کرکے اتنی بڑی رقم جمع کی جائیگی۔ حکومت اگر ریاستی مشینری کا بلاامتیاز اور بے دریغ استعمال کرکے بجلی کی چوری پر قابو پالے تو عوام کی جان مستقل طور پر لوڈ شیڈنگ اور سرکلر ڈیٹ سے چھوٹ سکتی ہے۔ وزیر خزانہ نے وعدہ کیا ہے کہ حکومت قرضوں کا موجودہ حجم بڑھنے نہیں دیگی۔ گروتھ کو 4.4 فیصد اور بجٹ خسارے کو 8.8 فیصد تک لایا جائیگا۔ جب تک صنعت اور زراعت پر خصوصی توجہ نہیں دی جائیگی پاکستان کا بجٹ خسارہ مستقل طور پر جاری رہے گا۔ ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں صرف 1969، 1998،1999، 2000 اور 2001 میں سرپلس (آمدن زیادہ اخراجات کم) بجٹ پیش کیے گئے۔ حالیہ بجٹ میں 2016ءتک زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر تک بڑھانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔بجٹ کہانی کا ہیرو اس بار بھی افواج پاکستان کا سپہ سالار ہی رہا ہے۔ دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کرکے 627ارب روپے کردیا گیا ہے۔
 2013-14ءکے قومی بجٹ کو مشکل حالات میں متوازن بجٹ ہی قراردیا جائیگا۔ حکمرانوں کی نیت درست ہے جہاں تک معاشی سمت کا تعلق ہے اسکے درست ہونے کا فیصلہ معاشی ماہرین نے کرنا ہے۔ بجٹ تجاویز کی منظوری قومی اسمبلی کے اراکین نے دینی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا قومی فرض ہے کہ وہ اختلاف برائے اختلاف کی بجائے مثبت اور قابل عمل تجاویز پیش کریں تاکہ انکی روشنی میں بجٹ کو تعمیری اور فلاحی بنایا جاسکے اور پریشان حال عوام کو ریلیف دیا جاسکے۔ بجٹ کہانی کا انجام یہ ہے کہ بجٹ امیر ہی بناتے ہیں جو امیروں کیلئے بنایا جاتا ہے اس میں عوام کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ عوامی انقلاب کے بعد ہی عوامی بجٹ بنایا جاسکے گا۔