بادشاہوں کے جانشین!

کالم نگار  |  غلام اکبر

زمانہ ءقدیم سے بادشاہوں کو جانشینی کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگر یہ کہاجائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ بادشاہ خود اس مسئلے کا سامنا نہیں کرتے تھے ¾ اس مسئلے کا سامنا ان کی جانشینی کے ممکنہ امیدواروں کو کرنا پڑتا تھا۔ برصغیر کی تاریخ میں یہاں جو مثال دی جاسکتی ہے وہ شاہجہاں کی ہے۔ شاہجہاں کے چار بیٹے تھے اور اُنکی خواہش تھی کہ اُن کا سب سے بڑا بیٹا دارا صدیوں کی روایت کے عین مطابق اُن کا جانشین بنے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا شاہجہاں کا تاج بالآخر جاکر اورنگزیب کے سر کی زینت بنا۔ جانشینی کا معاملہ ایک خونی کھیل کی صورت اختیار کرگیا جس میں اورنگزیب کے باقی تینوں بھائیوں دارا ¾ شجاع اور مراد کو زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے۔ تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اس ضمن میں سلطنت عثمانیہ کا ذکر بطورِ خاص کیا جانا چاہئے۔یہ درست ہے کہ تقریباً چار سو برس تک سلاطینِ عثمانیہ نے پوری دنیا سے اپنی طاقت کا لوہا منوائے رکھا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی درست ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا عثمانی حکمران ہو گا جس کے ہاتھ اپنے بھائی یا بھائیوں کے خون سے رنگے نہیں ہوں گے۔ روایت کے مطابق بڑا بیٹا ہی بادشاہ کا جانشین بنتا تھا لیکن اکثر اسے اپنے چھوٹے بھائیوں کی بغاوت یا بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ اقتدار کی اس جنگ میں کچھ باغی شہزادوں نے یورپ کی نصرانی حکومتوں کا ساتھ دیا۔ جولوگ عثمانی خاندان کی تاریخ سے آگاہ ہیں وہ یہ بات یقینی طور پر جانتے ہوں گے کہ سولہویں صدی میں ” سلطانِ ترکی “ کو آئینی طور پر یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ تخت و تاج سنبھالتے ہی ایسے تمام شاہی افراد کی گردنیں اڑا سکتا ہے جو کسی بھی وقت سلطان کی رٹ اور مملکت کے امن وامان کے لئے خطرہ بن سکتے ہوں۔
آج میں نے اس موضوع کا انتخاب یہ واضح کرنے کے لئے کیا ہے کہ جانشینی کا مسئلہ آج بھی ایسے خاندانوں کے لئے اہمیت رکھتا ہے جہاں اقتدار کی منتقلی خونی رشتے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ یوں تو دنیا سے روایتی انداز کی بادشاہتیں غائب ہوچکی ہیں لیکن چند ترقی یافتہ مغربی جمہوریتوں کے علاوہ اقتدار کی منتقلی بیشتر جگہوں پر خاندانوں کے اندرونی معاملے کے طور پر ہی ہوتی ہے۔ میں یہاں مثال مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کی دوں گا۔ وہاں حکومت کرنے کا اختیار پرانے زمانے کی بادشاہتوں سے مختلف انداز میں منتقل نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں حسنی مبارک اور حافظ الاسد کی مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں جو روایتی معنوں میں تو بادشاہ نہیں تھے۔لیکن اُن کی فرماں روائی بادشاہتوں سے کم نہیں تھی۔ حافظ الاسد کا تاج پہننے کا حق اُن کے فرزند بشاری ٰ کو ملا۔ حسنی مبارک اگر انقلاب کی زد میں نہ آتے تو وہ بھی اپنا تاج اپنے بیٹے کے سر کے لئے ہی چھوڑ کرجاتے۔یہی صورتحال دنیا کی ترقی پذیر جمہوریتوں کے سیاسی کلچر میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہاں کی مقتدر سیاسی جماعتوں کا رویہ کسی بھی لحاظ سے ” شاہانہ روایات“ سے مختلف نہیں ہوتا۔ اگر بھارت پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی کانگریس میں نہرو خاندان کا تسلسل پوری جولانیوں کے ساتھ قائم نظر آتا ہے۔ راہول گاندھی کی حیثیت کسی شہزادے سے کم نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اِس شہزادے کو بھارتی جمہوریت کی طرف سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ممکن ہے کہ اگلے عام انتخابات میں وزارت عظمیٰ کی کرسی راہول گاندھی کے قبضے میں نہ آسکے ¾ اور بی جے پی کے نریندر مودی نئی دہلی کے نئے فرماں رواں کے طور پر سامنے آئیں۔ لیکن اقتدار کی دوڑ میں نہرو خاندان بہرحال شریک رہے گا۔اگر راہول گاندھی میں اپنے والد ¾ اپنی دادی یا اپنے پڑدادا جیسی صلاحیتیں ہوتیں تو اُن کا ” حقِ جانشینی“ یقینی طور پر زیادہ محفوظ رہتا۔ بات یہاں صلاحیتوں کی طرف مُڑ جاتی ہے۔ جانشینی کا معاملہ اکثر صلاحیتوں کے ساتھ جڑا رہا ہے۔ اگر دارا شکوہ صلاحیتوں کے معاملے میں اورنگزیب کا مقابلہ کرسکتے تو نئی دہلی کا تخت ان کے ہی حصے میں آتا۔اِس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ حکمرانی میں صلاحیتیں بڑا مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر اورنگزیب کے جانشینوں میں کوئی بھی شخص اُن کی برابری کرنے کے قابل ہوتا تو برصغیر کی تاریخ مختلف ہوتی۔اور اگر صلاحیتوں کے میدان میں بھٹو مرحوم کا کوئی بھی بیٹا اُن کی جانشینی کے معیار پر پورا اتر سکتا تو پاکستان پیپلزپارٹی کا سیاسی سفر بھی ایک مختلف سمت اختیار کرتا۔
روایتی طور پر میر مرتضیٰ بھٹو کو ہی مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کا جانشین بننا چاہئے تھا ۔ لیکن پی پی پی کے بانی نے شروع میں ہی انداز ہ لگا لیا تھا کہ ان کے فرزندوں میں کوئی بھی اس قابل نہیں کہ آنے والے وقتوں میں پارٹی کی قیادت اور عوام کی رہنمائی کی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔یہی وجہ ہے کہ بھٹو مرحوم نے آغاز سے ہی اپنی پوری توجہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور سنوارنے پر صرف کی۔
بھٹو خاندان کو جن المیوں سے گزرنا پڑا ہے ان سے ہٹ کر دیکھا جائے تو بھی پیدائشی طور پر ہی یہ بات طے ہوچکی تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ہی اپنے والد کی جانشین بنیں گی۔میں 1993ءکی انتخابی مہم کے دوران کلیدی طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ منسلک رہا۔ ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے 1990ءکی انتخابی مہم میں اُن کا مکمل اعتماد حاصل کیا تھا۔ اس اعتماد کا اظہار1993ءکی انتخابی مہم کے دوران محترمہ بڑے بھرپور انداز میں کرتی تھیں۔
ایک گفتگو کے دوران میں نے اُن سے پوچھا۔ ” بیگم صاحبہ سندھ میں اپنے بیٹے کی حمایت کیوں کررہی ہیں۔؟“
جواباً محترمہ بڑے تلخ انداز میں مسکرائیں اور بولیں۔” ہمارے معاشرے میں بیٹی خواہ کتنی ہی قابلیت کیوں نہ رکھتی ہو اس کا مقام ماں کی نظروں میں بیٹے سے ہمیشہ کم ہی ہوتا ہے ¾خواہ وہ کس قدر ہی نالائق کیوں نہ ہو۔“
مجھے یہ بات آج اس لئے زیادہ شدت کے ساتھ یاد آرہی ہے کہ آج پھر پاکستان پیپلزپارٹی ” جانشینی “ کے مسئلے کا ہی سامنا کررہی ہے۔ اس ضمن میں مجھے وہ انتخابی نعرہ بھی یاد آرہا ہے جو 1993ءکی مہم میں محترمہ نے سندھ میں بڑی کثرت کیساتھ استعمال کرایاتھا۔ پیر کا نہ میر کا ۔۔۔ووٹ بے نظیر کا
پیر سے مراد پیر پگاڑا تھی اور میر سے میر مرتضیٰ بھٹو !آج پی پی پی جانشینی کے جس مسئلے کا سامنا کررہی ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ اب یہ بات پوری قوم کے ساتھ ساتھ جناب آصف علی زرداری کے علم میں بھی آچکی ہے کہ ان کے فرزند ارجمند بلاول بھٹو زرداری کو اللہ تعالیٰ نے اُن صلاحیتوں سے مالا مال کرکے پیدا نہیں کیا جن کے بغیر بھٹو خاندان کی سیاسی جانشینی کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر زرداری اس مقصد کے لئے اپنی زیادہ تر توجہ اپنی چھوٹی بیٹی آصفہ کی ”گرومنگ“ (Grooming) پر صرف کررہے ہیں۔ اگر یہ بات فرض بھی کرلی جائے کہ آصفہ میں کسی حد تک مطلوبہ ” جوہرِ قابل “ موجود ہے تو بھی انہیں حقیقی ” سیاسی بلوغت “ تک پہنچنے میں خاصا وقت لگے گا۔ تب تک پاکستان کا سیاسی منظر نامہ کیا شکل اختیار کرچکا ہوگا اس کے بارے میں آج کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی۔
بظاہر آج یوں لگ رہا ہے کہ پی پی پی کا سیاسی مستقبل اب سندھ تک محدود ہوچکا ہے اور جس قسم کی کارکردگی پی پی پی نے گزشتہ پانچ برس کے دوران دکھائی ہے ¾ اسے سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اس بات کا امکان بہت ہی کم نظر آتا ہے کہ آصفہ معجزاتی طور پر بے نظیر بھٹو ثانی بن سکتیں ہیں۔
پاکستان میں ایک دوسرا حکمران خاندان بھی ہے جسے اِسی انداز میں ” جانشینی “ کے مسئلے کا سامنا ہے۔ میری مراد شریف خاندان سے ہے۔میاں نوازشریف کی قائدانہ حیثیت مسلّمہ ہے۔ میاں شہبازشریف ہمیشہ اُن کے سائے میں ہی کام کرتے رہیں گے۔ مگر آگے مستقبل کس کا ہے ۔؟ کچھ عرصہ پہلے تک حمزہ شہبازشریف کا نام لیاجارہا تھا ۔ اب اُن کے بھائی سلیمان شہباز بھی سامنے آرہے ہیں جو ہر لحاظ سے زیادہ باصلاحیت دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اگر جانشینی کی مسلّمہ روایات کو سامنے رکھا جائے تو میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازشریف بھی اپنے سیاسی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کرچکی ہیں۔آنے والے ادوار میں تخت پر کون بیٹھے گا اور تاج کس کے سر پر سجے گا‘ اس کا صحیح اندازہ آج اس لئے نہیں لگایا جاسکتا کہ دنیا میں تبدیلیاں بڑی تیزی کے ساتھ رونما ہورہی ہیں۔ کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ دس سال بعد پاکستان کا سیاسی نقشہ کیا ہوگا۔۔۔!