چیف الیکشن کمشنر پاکستان توجہ فرمائیں

کالم نگار  |  قیوم نظامی
چیف الیکشن کمشنر پاکستان توجہ فرمائیں

پاکستان میں انتخابات کی تاریخ افسوسناک رہی ہے۔ جب کوئی نیا چیف الیکشن کمشنر تعینات ہوتا ہے تو عوام ان سے اُمید باندھ لیتے ہیں۔ پاکستان کے عوام نے 2013ءکے انتخابات سے پہلے جسٹس (ر) فخرالدین ابراہیم سے صاف شفاف انتخابات کی اُمیدیں وابستہ کرلی تھیں مگر جب نتائج سامنے آئے تو عوام حیران رہ گئے۔ پاکستان کے نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان بھی نیک نام ہیں اور اچھی شہرت رکھتے ہیں کیا وہ عوام کی اُمیدوں اور توقعات پر پورا اُتر سکیں گے۔ اس کا اندازہ بلدیاتی انتخابات میں ہوجائےگا۔ بھارت کے پہلے مسلمان چیف الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوب قریشی پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ پلڈاٹ نے انکے تجربات اور مشاہدات سے آگاہی کیلئے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں سابق بھارتی چیف الیکشن کمشنر نے جو پر مغز اور قابل رشک باتیں کیں وہ پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر اور عوام کی سنجیدہ توجہ کیلئے کالم کا حصہ بناتے ہیں۔ جناب شہاب الدین یعقوب قریشی فرماتے ہیں۔

بھارتی الیکشن اب تک پانچ سو کے لگ بھگ وفاقی اور ریاستی انتخابات کامیابی سے منعقد کراچکا ہے۔بھارتی الیکشن میں کوئی بھی مذہب کے نام پر ووٹ نہیں لے سکتا۔ اسی طرح قومیتی بنیاد پر ووٹ لینا بھی جرم ہے۔ کمیشن نے ہر قسم کا فراڈ روکنے کیلئے قانون تشکیل دیے ہیں اور انہیں مسلسل اَپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے۔ ہم انتخابات پُر امن طور پر کرانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ان لوگوں پر نظر رکھی جاتی ہے جو کسی بھی طرح انتخابی نتیجے پر اثر انداز ہوسکیں۔ مثلاََ 2009ءمیں الیکشن کمیشن کو محسوس ہوا کہ ریاست اتر پردیش کا چیف سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں لہذا کمیشن کے حکم پر ان تینوں کا تبادلہ کردیا گیا۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ سیاستدان غنڈوں کی مدد سے انتخابی مہم چلاتے اور ووٹروں پر دھونس جماتے تھے۔ کمیشن نے یہ حل نکالا کہ ہر ضلع کے پولیس افسروں پر زور دیا جاتا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر ان تمام غنڈوں کو پکڑ لیں جو کسی نہ کسی طور پر سیاسی جماعتوں سے منسلک تھے۔ پولیس کو کمیشن کے احکامات تسلیم کرنا پڑتے۔ یوں کمیشن کی کوششوں سے گلی کے غنڈے الیکشن کے عمل سے الگ ہوگئے اور انتخابات میں دھونس و دھاندلی کے امکانات ختم ہوگئے۔
الیکشن میں دھاندلی روکنے کیلئے ہی کمیشن نے یہ قانون وضع کیا کہ اب کسی بھارتی ریاست میں اعلیٰ سرکاری افسر خصوصاََ چیف سیکرٹری ، سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس، ڈپٹی کمشنر اور ایس پی تین سال سے زائد عرصہ تعینات نہیں رہ سکتے۔ شروع شروع میں سیاسی جماعتوں نے اس معاملے میں بھی فراڈ کیا۔ بعض وزرائے اعلیٰ نے الیکشن سے سال یا چھ ماہ قبل من پسند سرکاری افسروں کو ریاست سے باہر تعینات کرادیا مگر الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے انہیں واپس لے آئے لہذا اب کمیشن انتخابات سے قبل اچھی طرح دیکھتا ہے کہ ہر سرکاری افسر کہاں کہاں تعینات رہا ہے۔ اس طرح کمیشن ایسی ”سرکاری ٹیم“ نہیں بننے دیتا جو من پسند سیاسی جماعت کو ریاست یا ضلع میں الیکشن جتوا سکے۔ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر نے بتایا ”ایک بار ایک وزیراعلیٰ الیکشن سر پر آتے ہی اپنی کار گزاری کا پروپیگنڈہ کرنے لگے۔ ہم نے ان پر جرمانہ عائد کردیا اور کہا کہ آپ کو چار سال گیارہ ماہ بعد ہی اپنے کارنامے یاد آنے تھے؟ وہ پوری کابینہ سمیت سرکاری ہیلی کاپٹر میں الیکشن کمیشن کے دفتر آگئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو سرکاری ہیلی کاپٹر میں یہاں آنے کی جرا¿ت کیسے ہوئی؟ ہیلی کاپٹر یہیں چھوڑ کر نجی کاروں میں واپس جائیں۔ اُنہیں اٹھارہ لاکھ روپے جرمانہ ہوا۔بھارت میں اُمیدواروں کے اخراجات کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ اُمیدوار انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک رجسٹر بناتا ہے۔ وہ روزانہ کا حساب کتاب اس پر درج کرتا ہے۔ وہ ہر دوسرے تیسرے روز آکر کمیشن کو رجسٹر دکھاتا ہے۔ مزید برآں کمیشن کی ویڈیو ٹیم اس کی بڑی میٹنگوں میں شرکت کرتی ہے۔ اگر وہ دھوکہ دینے کی کوشش کرے تو کمیشن فوراََ اسے متنبہ کرتا ہے کہ فلاں میٹنگ پر ایک نہیں دو لاکھ روپے خرچہ آیا ہے۔ الیکشن ختم ہونے کے بعد 20 دن کے اندر اندر اُمیدوار اخراجات کی تفصیل دیتا ہے۔ ہم باریک بینی سے اس کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ معمولی سا فراڈ بھی سامنے آسکے۔فراڈ سامنے آنے پر قانون کے مطابق کاروائی کی جاتی ہے۔
الیکشن کمیشن 1998ءسے الیکٹرونک مشینوں کے ذریعے انتخابات کروارہا ہے۔ یہ جمہوریت کی جادوئی مشینیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مشینوں کے ذریعے صاف و شفاف الیکشن کرانا آسان ہوگیا۔ بے شک ہم تین دن بعد ووٹ گننا شروع کرتے ہیں مگر جب کام شروع ہو تو الیکٹرونک مشینوں کی مدد سے پانچ چھے گھنٹے میں نتائج قوم کے سامنے لے آتے ہیں۔ یہ الیکٹرونک ووٹنگ ہی کا کمال ہے کہ محض ایک ووٹ سے ہارنے والا اُمیدوار بھی اپنی شکست تسلیم کر لیتا ہے۔ دوسری طرف ڈبوں میں ڈالے گئے ووٹوں کا یہ حال ہے کہ ایک ایک ووٹ پر جھگڑا ہوتا ہے۔
ملک کے ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر بھی تقریب میں موجود تھے۔ انہوں نے بھارتی (ر) چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرکے پوچھا ”آپ کی گفتگو آشکار کرتی ہے کہ بہتر جمہوریت کیلئے صاف شفاف انتخابات کا ہونا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں یہ تاثر جڑ پکڑ چکا ہے کہ بے شک دھاندلی ہو لیکن بار بار انتخابات ہونے سے پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہوجائیگی“۔ جناب شہاب الدین قریشی کہنے لگے ”پاکستان میں دھاندلی کی شکایات اس لیے زیادہ جنم لیتی ہیں کہ الیکشن کمیشن پر اعتبار کم ہے۔ انتخابات سے قبل اور بعد میں اس پر سوالات کی بوچھاڑ رہتی ہے حالانکہ اس کا انتظام جج صاحبان نے سنبھالا ہوتا ہے۔ ہر جگہ سرکاری افسروں کی نسبت جج صاحبان کی ساکھ زیادہ اچھی ہوتی ہے“۔ کیا پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر بھارت کے تجربات اور مشاہدات سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرینگے۔ بھارت اور پاکستان کے الیکشن کمیشن ایک جیسے آئینی اختیارات رکھتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ بھارت کا الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کو بے دریغ اور بلاامتیاز استعمال کرکے انتخابات کو صاف اور شفاف بناتا ہے جبکہ پاکستان کا الیکشن کمیشن آنکھیں بند کرلیتا ہے اور اختیارات استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے۔ پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر دعوے کررہے ہیں کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں ضابطہ اخلاق پر عمل کرائیں گے۔ انہوں نے سینٹ انتخابات میں غیر معمولی صدارتی آرڈی نینس کو تسلیم نہ کرکے عوام کے دلوں میں اُمیدوں کے نئے چراغ روشن کئے ہیں۔ خدا کرے وہ مثالی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرکے الیکشن کمیشن کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرسکیں۔ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کے دیگر ارکان کو یہ مصمم ارادہ کرنا ہے کہ وہ ہر صورت آئین اور قانون پر سختی سے عمل کرینگے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جائیگا اور کسی سے رعایت نہیں کی جائیگی تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ صاف اور شفاف انتخابات ممکن نہ ہوسکیں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا خان سے اپیل ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کا وقار اور ساکھ قائم کرنے کیلئے مثالی اور جرا¿ت مندانہ کردار ادا کرکے انتخابی تاریخ کے ہیروبن کر سامنے آئیں اور کراچی کے حلقہ 246 میں صاف شفاف انتخابات منعقد کراکر انتخابی تاریخ کا نیا باب رقم کریں۔جو جماعت یا اُمیدوار بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرے الیکشن کمیشن اسکے خلاف فوری اور بلا امتیاز کاروائی کرے۔پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر اہلیت تجربے اور دیانت کے لحاظ سے کسی بھارتی چیف الیکشن کمشنر سے کم نہیں ہیں۔وہ جرا¿ت اور دلیری کے ساتھ آئین اور قانون کے مطابق ضمنی الیکشن کروائیں۔ خدا ان سے راضی ہوگا اور عوام ان کے احسان مند رہیں گے۔