پارلیمنٹ کی قرارداد اور مختلف ردعمل

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری
پارلیمنٹ کی قرارداد اور مختلف ردعمل

اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ ڈاکٹر انور قرقاش کا بیان کسی بھی طور سفارتی آداب کےمطابق نہیں۔ اس سے پاکستان کے باجگزار ہونے کا تاثر ابھرا ہے۔ ہاں البتہ یہ ضرور قابل غور ہے کہ پاکستان کی جانب سے جواب وزارت خارجہ کی بجائے وفاقی وزیر داخلہ نے کیوں دیا؟۔ عام آدمی کیلئے یہ ضرور تعجب بھرا سوال ہو سکتا ہے مگر واقفان حال کیلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ اس پردہ¿ زنگاری کے پیچھے کون ہے اور چودھری نثار کے ڈانڈے کہاں ملے ہوئے ہیں۔ تصویر کو کچھ نمایاں جنرل اسلم بیگ نے کر دیا ہے۔ ویسے ذرا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کیا جائے کہ بالفرض پاکستان حالتِ جنگ میں ہو اور وہ دوست ممالک جن پر وہ اندھا اعتماد کرتا ہے اس موقع پر مدد کی بجائے انکی پارلیمنٹ یا حکومت غیر جانبدار رہنے کا اعلان کر دے تو کیا پاکستان میں ان کےخلاف منفی جذبات جنم نہیں لیں گے اور اگر نہیں لیں گے تو پھر ہم بے حس ہیں یا ضرورت سے زیادہ فراخدل ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انور قرقاش نے پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد پر جس ردعمل کا اظہار کیا اسے توقعات کے آئینے میں بال آنے پر پیدا شدہ جذبات کا آئینہ دار سمجھاجانا چاہئے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے اس بیان کو پاکستانی عوام کی غیرت کو چیلنج قرار دیا۔ کیا یہ سمجھا جائے وفاقی وزیر داخلہ کے ذریعے پاکستان نے اپنے جوابی جذبات اس خلیجی ریاست کے حکمرانوں تک پہنچا دیئے ہیں ۔ اب اسکے بعد متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سمیت کوئی بھی حکومتی عہدیدار کوئی بیان دینے سے پہلے پاکستانی عوام کی غیرت مندی کو ضرور ملحوظ رکھے گا۔ ویسے اس مرحلے پر اگر خوداحتسابی کے عمل سے گزرنے کی ہمت کر لی جائے اور خود اپنے کردار و عمل میں اپنی غیرت مندی کا جائزہ لے لیا جائے تو یہ امر خالی از دلچسپی نہیںہوگا۔ ویسے کیا یہ حیرت زدہ کر دینے والی حقیقت نہیں ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے ساتھ نہ دینے پر پتھر کے زمانے میں پہنچانے اور تورا بورا بنانے کی دھمکی دی تو پاکستانی غیرت میں ہلکی سے کلبلاہٹ بھی محسوس نہیں کی گئی اور جب ایک امریکی جرنیل نے کہا ”پاکستانی ڈالر کیلئے اپنی ماں بھی فروخت کر دیتے ہیں“ تب بھی پاکستانیوں کی غیرت کو ہلکا سا جھٹکا بھی نہیں لگا نہ ہی پاکستان کی پارلیمنٹ کے اجتماعی ضمیر نے انگڑائی لی۔کہا جا سکتا ہے تب ملک پر فوجی آمریت مسلط تھی۔ 2008ءکے بعد منتخب ہونیوالی پارلیمنٹ تو آمریت کی چھتری تلے مجبور محض نہیں تھی۔ وہ دورآمریت کی پالیسیوں پر کیوں گامزن رہی اور 2013ءکے انتخابات کے بعد جو لوگ موجودہ یعنی نوازشریف کی پارلیمنٹ میں آئے اکثریت مشرف کی پارلیمنٹ اور زرداری کی پارلیمنٹ کا حصہ تھے جو بلا خوف تردید مشرف آمریت کی پالیسیوں کے تسلسل کے ذمہ دار ہیںاور اب اگر وہ پارلیمنٹ جسے عمران خان مسلسل جعلی اور دھاندلی کی پیداوار قرار دے رہے ہیں (جوڈیشل کمیشن کی دم پکڑ کر واپسی کے باوجود) اسی پارلیمنٹ کے ارکان ان کی واپسی پر تالیاں بجا کر خیرمقدم کرتے نظر آئے ہیں اور جس خواجہ آصف نے یہ سوال اٹھایا کہ وہ جعلی اور دھاندلی زدہ اسمبلی میں کیوں آئے ہیں یہ ارکان الٹا انہیں مطعون کرتے ہیں بلاشبہ یہ ”اعلیٰ ترین سطح کی فراخدلی“ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے اگر پارلیمنٹ کی قرارداد قرآن و حدیث کی طرح تقدیس کا درجہ رکھتی ہے تو کیا ایک ایسی کانفرنس جس میں دیو بندی، اہل حدیث اور بریلوی مکاتب فکر کے نامور اور جید علماءایک مشترکہ اعلامیہ کی صورت اس قرارداد کی نفی کرتے ہیں تو اسے قوم کے اجتماعی ضمیر کا نام کیوں نہیں دیا جاسکتا؟۔ کیا ان تینوں مکاتب فکر کے نمائندہ افراد جن میں بریلوی مکتب فکر کے ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، شاہ اویس نورانی پیر اعجاز ہاشمی، پیر محفوظ مشہدی، دیو بندی مسلک کے مولانا فضل الرحمن، مولانا حامد الحق حقانی، مفتی محمد نعیم، اہلحدیث مکتبہ فکر کے پروفیسر ساجد میر، حافظ سعید، حافظ عبدالکریم، پروفیسر عبدالرحمن مکی، یعقوب شیخ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور دیگر شامل ہیں۔ اس صورت میں جائزہ لیا جائے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد بلاشبہ ارکان پارلیمنٹ کی ہم آہنگ سوچ کی آئینہ دار ضرور ہے مگر یہ قرارداد پوری پاکستانی قوم کی سو فیصد سوچ کی مظہر نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر جو تقاریر کی گئیں اور پارلیمنٹ سے باہر جلسوں اور کانفرنسوں میں جو تقاریر کی جا رہی ہیں ان میں بہت تضاد پایا جاتا ہے اس لئے حکومت کی جانب سے دانشمندانہ قدم یہ ہوگا کہ وہ پاکستانی قوم کے اس حوالے سے متضاد خیالات اور رویوں کو سامنے رکھ کردیکھا جائے۔ اول تو خارجہ امور میں وزیر داخلہ کی جانب سے ردعمل بنتا ہی نہیں ہے۔ ملک میں وزیر خارجہ نہ سہی، مشیر خارجہ اور معاون امور خارجہ کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ تو موجود ہے۔ آخر وہ کس دن اور کس مقصد کےلئے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے اگر خود پاکستان کے اندر سے ہی چودھری نثار کے بیان سے اختلاف سامنے آجاتا ہے تو پھر اختلاف کرنیوالے ان پاکستانیوں کی غیرت کو کس درجے میں رکھا جائیگا۔

پارلیمنٹ کی قرارداد میں ایک واضح تضاد موجود ہے اس میں ”غیر جانبدار“ کا لفظ بھی ہے اور ثالث کا کردار ادا کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔ غیر جانبداری کا مطلب یہ ہے کہ کسی تنازعہ کے دونوں فریقوں پر واضح کردیا جائے کہ انکے اس تنازعہ سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ تم جانو اور تمہارا کام، کیا ایسی غیر جانبداری کے اعلان کے بعد فریقین اسے ثالثی کیلئے قبول کر لیں گے؟ تحریک انصاف نے ”غیر جانبدار“ کے الفاظ زبردستی شامل کروا کر پاکستان کی ثالثی کی حیثیت کےلئے سوال پیدا کر دیے جو کسی بھی لحاظ سے سیاسی دانش سے لگا نہیں کھاتے۔ اس طرزِ عمل سے تحریک انصاف نے خاص حلقوں کی خوشنودی ضرور حاصل کی ہوگی مگر اس سے پاکستان کی پوزیشن پر حرف آیا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ دوست ممالک پارلیمنٹ کی قرارداد کا احترام کریں۔ اگر دوست ممالک نے اس نصیحت پر یہ سوال کردیا کہ وہ خود را فضیحت کا شکار کیوں ہیں خود تو انہوں نے اسمبلیوں کو جعلی قرار دیکر اور جعلی ثابت کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن بنوا کر انکے احترام کو گہنایا ہے ہم ایسی جعلی اور دھاندلی کی پیداوار پارلیمنٹ کی قرارداد کو کیوں تسلیم کریں تو عمران خان کے پاس کیا جواب ہوگا؟
خلیجی وزیرخارجہ کے بیان پر وزیراعظم نے بھی وہی بات کی ہے مگر رسانیت اور معقولیت کے دائرہ میں‘ انہوں نے کہا ”خلیجی ممالک“ قرارداد نہیں سمجھے۔ مشکل میں سعودی عرب کےساتھ ہیں اور خلیجی ریاستوں کے بھی ساتھ ہیں۔ وزیراعظم کا یہ بیان خلیجی حکمرانوں کو معذرت اور شکرگزاری کی راہ دکھا سکتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کسی سے کہا جائے ”اوئے بیٹھ جا“ یا یہ کہا جائے ”تشریف رکھیں“ مفہوم ایک ہی ہے مگر ان جملوں کا ردعمل مختلف ہوگا۔ تاہم چودھری نثار کے بیان کی معقولیت یا نامعقولیت ایک طرف‘ اس سے نوازشریف کے بارے میں پھیلے ہوئے ایک خاص تاثر کی خاصی حد تک وضاحت ہو گئی ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیاوی معاملات میں عزت و احترام کی بنیاد فائدہ اور خیر سگالی ہے۔ مشرف‘ زرداری اور موجودہ دور کی پارلیمنٹوں کو اس معیار پر پرکھا جائے کہ جتنا فائدہ خود ارکان پارلیمنٹ کو ہوا ہے‘ ان سے مجھ یعنی عام آدمی کو نہیں ہوا اور یہ اعدادوشمار سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔