دوست دشمن کی پہچان

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
دوست دشمن کی پہچان

ہمیں اپنے دوست دشمن کی پہچان خود کرنا ہو گی۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی باہر سے آ کر ہمیں بتائے کہ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے اہم مسئلہ 68 سال سے کشمیر پر غاصبانہ بھارتی قبضہ ہے۔ ان 68 سالوں میں پاک بھارت جنگیں بھی ہوئیں، علاقائی اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی ہوئیں ، اقوامِ متحدہ اور اسلامی ملکوں کی تنظیموں کی سطح پر بھی باربار یہ مسئلہ اٹھا۔ ہمیں پتہ ہونا چاہئے کہ کون کون سے ملک ہمیشہ بلا مشروط پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے اور کس کس نے بالواسطہ یا بلا واسطہ بھارت کا ساتھ دیا۔ کس نے ہماری اقتصادی اور فوجی امداد دی یا تعاون کیا اور کس نے نازک ترین مواقع پر پاکستان کی امداد روک لی۔ ہمارا المیہ بھی یہی ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ ہم دوست کو نظر انداز کرتے ہیں اور دشمنوں سے پیار محبت کی توقع لگائے رہتے ہیں۔ کتنی سادہ لوحی ہے کہ ہم نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ جس عطار سے بیمار ہوتے ہیں اسی کے لونڈے سے دوالینے پہنچے رہتے ہیں۔

مشرقِ وسطی اور خلیجی ممالک میں چالیس لاکھ سے زائد پاکستانی ملازمت اور کاروبار کر رہے ہیں۔ برآمدات کے بعد پاکستان کو حاصل ہونے والے زر مبادلہ کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ عرب ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر ہیں۔ ایک منٹ کے لئے اپنی آنکھیں بند کر کے ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کہ اگر پاکستان کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دوسرے خلیجی ملکوں سے تعلقات میں خلیج حائل ہو جائے تو ڈھائی تین کروڑ پاکستانیوں کے چولہے بجھنا شروع ہو جائیں گے۔ اگر سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے زرمبادلہ آنا بند ہو گیا تو ہم اپنی معیشت کیسے چلائیں گے۔ لاکھوں پاکستانیوں نے خلیجی ممالک میں کاروبار بہت محنت سے کھڑے کئے ہیں، اونچ نیچ ہونے کی صورت میں ان کے کاروباروں کا کیا ہوگا۔ کیا ہم نے یہ بھی نہیں دیکھنا کہ افغانستان اور کشمیر میں ہماری جنگوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت نے ہمارا ساتھ غیر مشروط اور ہر ممکن حد تک دیا تھا۔ ہمیں تین فہرستیں بنانی چاہئیں، ایک سبزایک زرد اور ایک سرخ۔ سبز فہرست میں ان ممالک کے نام لکھنے چاہئیں جنہوں نے ہر موقع پر اور ہر حال میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ اس فہرست کے تین چار اہم ترین ممالک چین، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات اور کویت وغیرہ ہیں۔ زرد فہرست میں وہ ممالک ہوں گے جو کبھی ڈھلمل یقین، کبھی گو مگو اور کبھی موقع پرستی کی کیفیت میں مبتلا رہے، کبھی منافقت کرتے رہے ، کبھی ساتھ دیا اور کبھی ٹھینگا دکھا دیا۔ ان ممالک میں امریکہ اور یورپی ممالک کے علاوہ ہمارے پڑوس میں واقع کچھ اسلامی ممالک مثلاً ایران اور افغانستان وغیرہ شامل ہیں۔ سرخ فہرست میں بھارت اور اسرائیل کا ساتھ دینے والے ممالک شامل ہیں ۔ پاکستان کو اپنی تمام پالیسیاں انہی تین فہرستوں کو سامنے رکھ کر بنانی چاہئیں۔ سبز فہرست والے ملکوں نے اگر ہر حال اور ہر موقع پر ہمارا ساتھ دیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جب انہیں ضرورت ہو تو ہم ڈھلمل یقین ہو جائیں یا منافق بن کر اگر مگر چونکہ چنانچہ شروع کر دیں۔ ہمیں ایک مضبوط قومی کردار دکھانا چاہئے نہ کہ موقع پرستی دکھانے والا ایک کمزور کردار کا ملک۔
جب سے یمن کی جنگ کا حالیہ مرحلہ شروع ہوا ہے پاکستان میں کچھ لوگوں نے ڈراوے دیتے ہوئے غیر جانبداری کا سبق پڑھانا شروع کیا ہوا ہے۔ پاکستان کو ثالثی اور جنگ بندی کی کوشش ضرور کرنی چاہئے لیکن غیر جانبداری کیوں؟ عالمی سفارت کاری میں بہت سے ممالک ثالثی اور صلح صفائی کی کوششیں کرتے ہیں لیکن ان کا اپنا موقف بھی ہوتا ہے۔مختلف ایشوز پر اقوامِ متحدہ اور سیکورٹی کونسل کے اجلاسوں میں امریکہ، روس، چین ، برطانیہ فرانس وغیرہ مصالحت بھی کراتے ہیں لیکن ان ایشوز پر اپنی ایک واضح پوزیشن بھی رکھتے اور اس پر ڈٹے بھی رہتے ہیں۔ یمن کے تناظر میں ایران کا نام لے کر ڈرایا جاتا ہے کہ سعودی عرب کا ساتھ دینے سے پاکستان اور ایران کے تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے، ایران ہمارا دشمن بن جائے گا اور پاکستان میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ فسادت شروع ہو جائیں گے۔ یہ مفروضہ کئی اعتبار سے بالکل غلط ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یمن میں لڑنے والے حوثی قبائل اثنا عشری نہیں بلکہ اس سے ہٹ کر مذہبی عقائد رکھتے ہیںجو حنفی فقہ کے زیادہ قریب ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایران سیاسی طور پر ان کی مالی اور فوجی امداد کر رہا ہو لیکن اس میں مذہبی حمایت بالکل شامل نہیں ہے۔ یہ لبنان ، شام اور عراق میں لڑنے والی حزب اللہ سے بہت مختلف ہے جو مذہبی اور عقائد کے اعتبار سے سو فیصد ایران کے ساتھ منسلک ہے۔ یمن میں ہونے والی لڑائی شیعہ سنی لڑائی نہیں ہے اور اس لڑائی کا اثر ایران یا پاکستان میں موجود شیعہ آبادی پر پڑنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کا ڈراوا بالکل غلط اور حقائق کے منافی ہے۔ ایران کے تناظر میں دوسرا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ اس وقت ایران اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ اس کے امریکہ اور یورپی ممالک سے نارمل تعلقات بحال ہو جائیں۔ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ہونے والی مفاہمت اگلے چند ہفتوں میں ایک تحریری معاہدہ کی شکل اختیار کرنے والی ہے۔ اس نازک موقع پر ایران اس عمل میں تعطل کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر یمن کے معاملہ میں ایران نے کوئی غیر ذمہ داری دکھائی تو اس کے مغربی ممالک سے ہونے والے مذاکرات اور مفاہمت کا عمل سبوتاژ ہو جائے گا۔ ظاہر ہے ایرانی قیادت اتنی بے وقوف اور غیر ذمہ دار نہیں ہے کہ حوثی قبائل کی وجہ سے وہ اپنے قومی مفادات قربان کر دے۔ اس وقت تو صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے، ایران ہر صورت عالمی مین سٹریم میں واپس آنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔ وہ اس پوزیشن میں ہی نہیں ہے کہ سعودی عرب کا ساتھ دینے والے کسی ملک کے خلاف وہ کچھ کرنے کا سوچے یا وہاں پر حالات خراب کرنے کی کوشش کرے۔ ایران سے تعلقات کی خرابی یا پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا ڈراوا ایک حماقت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ پاکستان کو اس جنگ میں غیر جانبداری کا منافقانہ لبادہ اتار کر کھل کر سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہئے اور یہ ثابت کرنا چاہئے کہ جو ملک 68 سال سے ہر موقع پر اس کے ساتھ کھڑا رہا، جب اسے ضرورت پیش آئی تو پاکستان نے بھی اس کا ساتھ دیا۔ پاکستان کی پالیسی بہت واضح ہونی چاہئے، اسے ثالثی اور جنگ بندی کی کوشش ضرور کرنی چاہئے لیکن ضرورت پڑنے پر اپنی پوزیشن بہت واضح رکھنی چاہئے کہ سعودی عرب کی سا لمیت اور خود مختاری کے لئے ہر قسم کی سفارتی، مادی، اخلاقی اور فوجی مدد میں کوئی کمزوری نہیں دکھانی چاہئے۔ ہم نے 68 سال میں اگر کچھ نہیں سیکھا تو اب سے دوست دشمن کی پہچان سیکھ لینی چاہئے۔ یہ پاکستان کیلئے اصولوں کا معاملہ بھی ہے اور اقتصادی و سیاسی فوائد کی نگہبانی کا بھی۔ یہ عرب ممالک میں کام کرنیوالے چالیس لاکھ پاکستانیوں اور ان کی زیرِ کفالت تین کروڑ لوگوں کا معاملہ بھی ہے اور ملک میں آنے والے سولہ ارب ڈالر کے زرمبادلہ کا بھی اور ان سے بڑھ کر یہ پاکستان کے لئے عالمِ اسلام کی قیادت کا امتحان بھی ہے ، پاکستان ہر لحاظ سے عالمِ اسلام کی قیادت کا اہل ہے، بس اسے دوست دشمن کی پہچان پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔