احوال’’آف دی ریکارڈ‘‘ بریفنگ کا

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
احوال’’آف دی ریکارڈ‘‘ بریفنگ کا

یہ ایسی بریفنگ کا احوال ہے جس میں کچھ بھی آف دی ریکارڈ نہیں تھا لیکن یہ بریفنگ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ تھی اس بریفنگ میں پیش کردہ معلومات سے زیادہ ڈھیروں خفیہ معلومات پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

اس تبادلہ خیال کا مرکز و محور پاک امریکہ تعلقات اور افغانستان کے گرد گھومتے تھے کہ ہماری دنیا سمٹ کر افغانستان تک محدود ہوگئی نے ایران کا ذکر بھی ہوا لیکن بات سرسری گفتگو سے آگے نہ بڑھ سکی۔ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ عین اس وقت تہران میں موجود تھے اور ایرانی صدر روحانی سے ان کی ملاقات کی باتصویر خبر اس دن کے اخبارات میں نمایاں شائع ہوچکی ہے۔ بتایا گیا کہ جنرل صاحب پاک ایران سرحدی معاملات کے انتظامات بہتر بنانے کے لئے اپنے ہم منصب سے ملاقات کے لئے گئے ہیں صدر روحانی اور دیگر ایرانی قائدین سے رسمی گفتگو کررہے ہیں جس کا دیرپا معاملات سے کوئی تعلق نہیں ویسے پاک ایران سرحد پر حالات تیزی سے بہتر ہورہے ہیں۔ وسیع و عریض بلوچستان کے سرحدی قصبات میں پانی اور سبزی تک ایران سے آتی ہے جبکہ سارے بلوچستان میں سستے ایرانی پٹرول کی سمگلنگ اور فروخت کھلا راز ہے جس میں اربوں روپے کمائے جاتے ہیں گزشتہ دنوںتک ایرانی پٹرول اسلام آباد کی دہلیز کھنہ پل تک آن پہنچا تھا۔ ایران اور سعودی عرب کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ سعودی عرب کے پاکستان پر احسانات کا سلسلہ طویل ہے جبکہ پاکستان اور ایران کے تعلقات نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔ دل چاہتا تھا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے جاری پراکسی جنگ کا ذکر کروں کہ کس طرح برادر مسلم ممالک نے اپنی لڑائی ہمارے گلی کوچوں میں لڑی تھی کہ آج بھی یہ بے گناہوں کے لہو سے گل رنگ ہیں مجھے پنجاب پولیس کے جانباز افسر اشرف مارتھ یاد آئے جن کے برادر نسبتی کوئی اور نہیں گجرات کے چودھری تھے پھر چودھری شجاعت کی بے بسی یاد آئی کہ وہ اشرف مارتھ کے مقدس اور پوتر نام بھی نوک زبان پر نہیں لاسکتے ہیں۔ وزیرداخلہ اور وزیراعظم پاکستان کے منصب پر ہوتے بھی ان قاتلوں کا کچھ نہیں بگاڑ پائے تھے اور پھر ہمارا ذکر چھڑا افغانستان کا‘ کابل انتظامیہ کا طالبان کا امریکی سازشوں اور مطالبات کا اور پاکستانی گذارشات کا ہمیں بتایا گیا کہ امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کا اثر و رسوخ نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے یا پھر بالکل ختم ہوچکا ہے اس لئے امریکہ افغانستان کے بارے میں مطالبات ہم سے نہ کرے بلکہ کابل انتظامیہ سے ہی رجوع کرے لیکن ہم افغانستان میں بھارت کے کردار کو‘ کسی بھی قسم کے کردار کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس گفتگو میں یہ اعتراف بھی شامل تھا کہ ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کو زمینی حقائق کے مطابق استوار کرتے ہوئے یہ راز پالیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات برابری کی سطح پر استوار نہیں ہوسکتے۔
امریکہ بڑا ملک ہے ہر لحاظ سے بڑ ا اور پاکستان اس کی برابری نہیں کرسکتا لیکن پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ اب افغانستان کی جنگ پاکستان کی سرزمین پر نہیں لڑی جائے گی ہم پاکستان میں چھپے ہوئے افغان دہشت گردوں کو تلاش کرکے باہر نکالیں گے لیکن اب پاکستان میں دہشت گردی کے کوئی اڈے نہیںہیں۔ ضرب عضب کے ذریعے ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی تھی اب ردالفساد کے ذریعے چن چن کر بچے کھچے دہشت گردوں کی صفائی کررہے ہیں۔ ایک عجیب و غریب اور ناقابل فہم دعویٰ یہ کیا گیا کہ ہم امریکی دشمنوں کو اپنی سرزمین سے باہر دھکیلیں گے انہیں پاکستان میں نہیں ماریں گے کہ پاکستان کی دھرتی پر بہت خون بہہ چکا ہے اور بڑی تفصیل سے پاکستان کا اثر و رسوخ کم کرنے کے لئے جاری امریکی سازشوں کا ذکر بھی ہوا جس کی تمام تفصیلات کا وہاں موجود تمام اصحاب کو بخوبی علم تھا کہ افغان طالبان سے مری مذاکرات شروع ہوئے تو ملا عمر کے انتقال کی مہینوں پرانی خبر چلا کر ان کو سبوتاژ کردیا گیا ۔
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اسلام آباد کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے دو طرفہ رابطہ کاری کے ذریعے امن مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کی کوشش کی تو ملا منصور کو قتل کرکے قیام امن کا ایک اور موقع گنوا دیا گیا۔ اس لئے پاکستان نے قیام امن کے لئے مزید کوششیں تن تنہا کرنے سے معذرت کرلی ہے کیونکہ وقت نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں قیام امن کی علاقائی کوششوں کو منصوبہ بندی سے ناکام بنایا ہے ۔ اس لئے پاکستان کے کندھوں پر یہ بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکی خود بھی ذمہ داری نبھائیں اور ہر معاملے میں اپنی ذمہ داریاں اور ان کا بوجھ خود اٹھائیں۔ پہلے امریکی فہرستیں پیش کرتے تھے تاہم ان کا مطالبہ تھادہشت گردوں کو ٹھکانے لگائیں اب ہم انہیں بتا رہے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کیا جائے تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ان علاقوں تک ہماری رسائی نہیں ہے ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ہم بھی اب امریکیوں کو بتاتے ہیں کہ آپ تمام تر جدید وسائل کے باوجود پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں کو تلاش نہیں کرسکتے ان کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے تو ہم سے کیوں یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہم سایوں کے پیچھے ہلکان ہوتے پھریں اور حقانیوں کو تلاش کرکے ان کا قیمہ بنا دیں، امریکی حسین حقانی کا ذکر نہیں کررہے تھے جو ان کی گود میں بیٹھ کر اور اب نئی دہلی جاکر پاکستان کے خلاف سازشوں کا بازار گرم کئے ہوئے ہے وہ افغان جہاد کے کمانڈر جلال الدین حقانی کے خاندان کا ذکر کرتے رہتے ہیں جن کا کوئی سراغ پاکستان میں ڈھونڈنہیں پائے تو بے سروپا الزام لگا کر دل کا درد ٹھنڈا کرتے ہیں۔ ہمارا پڑھا لکھا میزبان مکمل تیاری کرکے آیا تھا اور بلا تکان افغانستان پر مختلف امریکی پروفیسر وں اور ماہرین کی کتابوں کے حوالے دئیے چلا جارہا تھا اور سامعین گم سم بیٹھے ان کی گفتگو سن رہے تھے کہ اچانک مقرر چُوک گیا بھارت افغان تناظر میں گفتگو کرتے کرتے فرمانے لگے کہ افغان جہاد کے دوران غریب غرباء افغان ہمارے حصے میں آئے تھے جبکہ افغان اشرافیہ نے بھارت میں تعلیم پائی تھی۔ یہ کالم نگار ابھی سوچ رہا تھا کہ کیسے اپنے میزبان کی تصحیح کروں وہاں موجود برادر عزیز سلیم صافی بول اٹھے کہ آپ بالکل غلط فرما رہے ہیں موجودہ ساری افغان قیادت پاکستان کی تعلیم یافتہ ہے بھارت سے ان کا کیا لینا دینا ہے افغان جہاد کے دوران پروان چڑھنے والے یہ افغان قائدین حامد کرزئی اور اشرف غنی سمیت دیار دلدار کے گلی کوچوں میں پناہ گزین ہوئے تھے پلے بڑھے تھے جو اب ان کو دشمن جان دکھائی دیتا ہے اس پر دبائو میں آئے ہوئے میزبان نے دیسی دائو لگاتے ہوئے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے نمک میں تاثیر نہیں ہے یہ پنجابی ضرب المثل مدتوں بعد عالمی سیاست کے پس منظر میں سنی تو پنجاب میں قائد حزب اختلاف میاں محمودالرشید کے بڑے بھائی میاں مقصود یاد آئے جن کے منہ سے پہلی بار نمک میں تاثیر نہ ہونے کی کہانی سنی تھی۔
امریکی وزراء کے دوروں کے بارے میں بتایا گیا کہ متکبر امریکی ایک ہی سانس میں متضاد باتیں کرنے کے عادی ہیں (They Blew Hot & Cold) لیکن ہم بھی سمجھ گئے ہیں وہ حقانی نیٹ ورک کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں جس میں پاکستان ان کی کیا مدد کرسکتا ہے ۔ شرکاء میں سے اکثریت بھارت سے تجارتی تعلقات کے حوالے سے بھارتی موقف کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی تھی کہ ان احباب کا واسطہ براہ راست بھارتی نیتائوں سے کبھی نہیں پڑتا تھا۔ یہ ایسی بریفنگ تھی جس میں کچھ بھی آف دی ریکارڈ نہیں تھا لیکن چونکہ وعدہ تھا اس لئے میزبان کا ذکر نہیں کیا جارہا یہ سن کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ بھارتی وزیراعظم مودی کے جنگی جنون اور پاگل پن کے بارے میں بڑے واضح خیالات کے حامل تھے اور اپنی پارٹی کے موقف کے برعکس مودی کو عالمی امن اور علاقائی ماحول کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔