مرسوں مرسوں پر سندھ نہ ڈیسوں

کالم نگار  |  فریحہ ادریس
مرسوں مرسوں پر سندھ نہ ڈیسوں

 یہ سال 1843 تھا جب سندھ کے ہیرو ہوشو شیدی نے انگریزوں کے سندھ پر قبضے کے خلاف یہ نعرہ بلند کیا کہ مرسوں مرسوں پر سندھ نہ ڈیسوں ، آزادی کے اس متوالے نے اپنے نعرے کی لاج رکھی اور انگریزوں سے لڑتے لڑتے جان دے دی۔ آج تک اس نعرے کی گونج سندھ میں سنائی دیتی ہے ، مگر اب یہ نعرہ صرف سندھ کے باسیوں سے ووٹ حاصل کرنے اور اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے لگایا جاتا ہے۔ تھر میں مرنے والے سینکڑوں معصوم بچوں کی لاشیں ہم سب سے یہ سوال کر رہی ہیں کہ اکیسویں صدی میں بھی سندھ کے باسیوں کے لیے بھوک سے مرنا ہی کیوں لکھا ہے ؟ یہ وہ دھرتی ہے جہاں سے اٹھنے والے ایک لیڈر ذوالفقارعلی بھٹو نے پورے ملک کے لیے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تھا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ آج سندھ میں اسی بھٹو کی جماعت پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور سندھ کے بچے روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کو ترس ترس کر موت کے منہ میں جاتے رہے اور حکومت تماشائی بنی رہی۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ان بچوں کی موت کا باعث بھوک نہیں بلکہ سندھ حکومت کی نااہلی اور بے حسی بنی ہے۔ سندھ کی قسمت حکمرانوں نے ایسی بنا دی ہے کہ جب پانی برستا ہے تو سیلاب سے ڈوب جاتے ہیں اور جب نہ برسے تو خشک سالی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تین سال قبل جب سندھ میں سیلاب آیا تھا تو پہلی بار بہت بڑی تعداد میں میڈیا نے سندھ کا رخ کیا تھا اور پہلی بار ہی پاکستان کے عوام نے اندرون سندھ کے عوام کی بھوک ، افلاس اور کسمپرسی میں گزرتی زندگیوں کا بھیانک عکس دیکھا۔ اندرون سندھ نہ پکی سڑکیں نظر آئیں، نہ اسکول اور نہ اسپتال ہر طرف غربت اافلاس کے ڈیرے دکھائی دیئے ، میں نے سیلاب کے دوران سندھ میں کئی پروگرام کئے اور اپنی آنکھوں سے غالب کے اس مصرعے کی جیتی جاگتی تفسیر دیکھی کہ:
گھر میں تھا کیا کہ تیرا غم اسے غارت کرتا
 مجھے یاد ہے سیلاب کے دوران ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے ہمارا کیمرا جب ایک انتہائی کمزور بچے پر گیا اور اس کی آنکھوں کے گرد پڑے حلقے اور جسم میں نکلی ہوئی ہڈیاں بتا رہی تھیں کہ بچہ کئی دنوں کے فاقے سے ہے ، مگر جیسے ہی کیمرہ اس بچے کے نزدیک گیا تو اس نے کمیرے کی جانب دیکھ کر پوری قوت سے نعرہ لگایا جیئے بھٹو ، تعلیم ، روٹی گھر کی چھت سے محروم اس بچے کے منہ سے یہ نعرہ سن کر میں دنگ رہ گئی کہ اس بچے کو سیاستدانوں سے کیا ملا ہے ، اس عالم میں بھی بنا سمجھے بنا جانے یہ بچہ ایک رٹا رٹایا نعرہ لگا رہا تھا اور اس ساری سوچ کی عکاسی کر رہا تھا جو بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ سندھ کے باسیوں کے ذہنوں میں پیوست کی گئی ہے۔ اسی منصوبے کے تحت سندھ کی عوام کو جان بوجھ کر بڑے ہی منظم طریقے سے غربت اور جہالت کے اندھیروں میں دھکیلا گیا اور انہیں ووٹ دینے والی ایسی مشینیں بنا دیا گیا جو بنا سوچے سمجھے ہر پانچ سال بعد گھروں سے نکل کر بیلٹ پیپر پر مہر لگا کر واپس اپنی غربت اور جہالت کی زندگیوں میں پلٹ جاتے ہیں۔ جب ضرورت پڑے تو سندھ کے لیڈر سندھ کارڈ نکال لیتے ہیں مگر نہ تو اپنے علاقے میں سڑک بننے دیتے ہیں اور نہ ہی اسکول ، اگراسکول بن بھی جائے تو اسے چلنے نہیں دیتے ایسے ہزاروں اسکول ہیں جو یا تو وڈیروں کی اوطاقیں بنے ہوئے ہیں یا مویشیوں کے باڑے ، حکمرانوں کو موئن جو ڈارو کی چار ہزار سال پرانی تاریخ اور سندھ کی ثقافت تو یاد رہی مگر سندھ کے جیتے جاگتے انسان بھول چکے ہیں۔ سندھیوں کے ووٹ سے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان لیڈروں کے نزدیک یہ حقیر کیڑے ہیں جن کی زندگیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔سندھ کے سابق وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا جن دنوں میڈیا پر چھائے ہوئے تھے تو ان کے انٹرویو کے لیے مجھے ان کے ڈیفنس کراچی میں واقع گھر پر جانے کا اتفاق ہوا ، وہاں ان کا ملازم مجھے بڑے تپاک سے ملا ، اس ملازم سے بدین میں ذوالفقار مرزا کے آبائی گھر پرایک انٹرویو کے لیے پہلے بھی ملنے کا اتفاق ہو چکا تھا۔ میں نے اس کا دایاں ہاتھ کٹا ہوا دیکھا تو اس سے پوچھا کہ یہ کیا حادثہ ہوا تو اس نے مجھے بتایا کہ چند روز پہلے سائیں کے پالتو مگرمچھوں کو گوشت کھلاتے ہوئے ایک مگر مچھ نے اس کا ہاتھ کھا لیا تھا ، مجھے یہ خوفناک بات سن کر بہت افسوس ہوا کہ یہ بیچارہ ساری زندگی کے لیے اپنے ایک ہاتھ سے محروم ہو گیا ہے میں نے اس سے پوچھا کہ کیا اس مگر مچھ کو مار دیا گیا ہے ؟ اس نے کہا کہ نہیں جی وہ تو سائیں کا پسندیدہ مگر مچھ ہے اس کو کیسے مار سکتے ہیں ، اسے اب ایک اور ملازم خوراک دیتا ہے۔ یہ ہے وہ سوچ جو ایک مگر مچھ کوانسان کی زندگی پر ترجیح دیتی ہے۔ اسی سوچ کا مجھے سب سے پہلے علم اپنے والد کے ذریعے ہوا تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ جب وہ 1979 میں سندھ کے شہر جیکب آباد میںتعینات تھے ، انہی دنوں ذوالفقارعلی بھٹو کوعدالت کے ایک غیرمنصفانہ فیصلے کے ذریعے پھانسی کی سزا سنائی گئی تو اس عدالتی قتل پر پورے پاکستان میں سناٹا تھا، سندھ میں بھی سوگ کا سماں تھا میرے والد کے ایک اردلی نے جو کہ سندھ سے تعلق رکھتا تھا اور ایک پڑھا لکھا شخص تھا اس نے میرے والد سے پوچھا کہ سائیں ذولفقارعلی بھٹو کو کس جرم میں سزا دی گئی ہے تو میرے والد نے کہا کہ انہیں ایک قتل کے الزام میں سزا دی گئی ہے۔ اس پر اس اردلی نے کہا کہ بھٹو تو سب سے بڑا سائیں تھا اس نے اگر قتل کیا بھی ہے تو کیا ہوا ؟ ہمارے تو چھوٹے سے چھوٹے سائیں کو بھی سات آٹھ قتل معاف ہوتے ہیں۔ یقینا ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی تو ایک بڑی ناانصافی تھی مگر جیک آباد کے اس اردلی کی سوچ سے اس علاقے میں وڈیروں اور جاگیرداروں کے تسلط کا اندازہ ہوتا ہے اور ان کے نزدیک عام آدمی کی زندگی کی اہمیت کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اس سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے سندھ کی عوام کو تعلیم سے دور رکھا گیا ہے ، سندھ میں تعلیم کا حال کیا ہو چکا ہے اس کا اندازہ ایک غیر سرکاری تنظیم اثر پاکستان کے ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جو پورے صوبے کے تعلیمی معیار پر کی جانے والی ریسرچ کے بعد مرتب کئے گئے ہیں۔ اس ریسرچ کے مطابق سندھ کے 29 فیصد بچے اسکول ہی نہیں جاتے ، اسکول جانے والے بچوں کا حال یہ ہے کہ پانچویں جماعت کے 59 فیصد بچے اردو اور سندھی پڑھ ہی نہیں سکتے، تیسری جماعت کے 67 فیصد بچے اردو اور سندھی نہیں پڑھ سکتے، کالج کی سطح پر بھی سندھ میں تعلیم کا حال مختلف نہیں ،ایک سال قبل این ای ڈی یونیورسٹی میں ہونے والے تحریری داخلہ ٹیسٹ میں اندرون سندھ کے تعلیمی بورڈز کے سیکڑوں اے اور اے ون گریڈ کے حامل طلبہ ٹیسٹ میں 50فیصد نمبرز لینے میں ناکام رہے۔ لاڑکانہ بورڈ سے انٹر کرنے والے طلبہ کی کارکردگی سب سے ناقص رہی اور وہاں کے صرف 18فیصد طلبہ ہی ٹیسٹ پاس کرپائے۔ کیا یہ سوچھی سمجھی منصوبہ بندی نہیں جس کے تحت سندھ کی عوام کو تعلیم سے محروم رکھ کر پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیلا گیا ہے تاکہ وہ بغیر سوچے سمجھے اپنی بہتری کے بجائے صرف وڈیروں کے خادم بنے رہے ہیں اور ہر پانچ سال بعد انہیں ووٹ دے کر خود پر مسلط کرتے رہیں۔ اسی لیے سندھ کے وڈیروں کو یہ یقین ہے کہ ان کے اقتدار اور حاکمیت کو کوئی نہیں چھین سکتا ، اسی یقین کی وجہ سے تھر کے ڈیڑھ سو زیادہ بچوں کی موت کے بعد بھی مجھے کسی لیڈر کے چہرے پر پشیمانی یا شرمندگی کے آثار دکھائی نہیں دیئے۔ سندھ کی ثقافت منانے والے کب سندھ کی عوام کو بنیادی حقوق دینے پر تیار ہوں گے ، سندھ کارڈ کھیلنے والے کب تک سندھ کے جیتے جاگتے عوام کی قسمتوں سے کھیلتے رہیں گے ؟سندھ کے ڈیڑھ سو بچوں کی لاشیں یہی سوال کررہی ہیں۔