تھر میں قحط اور نئے عہد کے ’’نیرو‘‘

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
 تھر میں قحط اور نئے عہد کے ’’نیرو‘‘

روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجارہا تھا!
(نیرو روم کا بادشاہ تھا جو اپنی بداعمالیوں اور سیاہ کاریوں کے باعث تاریخ میں عبرت کی مثال بنا ہوا ہے۔)بالکل اسی طرح بھٹو، بے نظیر اور بلاول کی دھرتی سندھ کے ایک شہر تھرپارکر میں قحط نے تھرتھلی مچا رکھی ہے، بھوک اور پیاس کی شدت سے بلکتے، سسکتے اور تڑپتے کم سن بچے، ناتواں بوڑھے اور دیگر لوگ جوق در جوق موت کی وادی میں اتر رہے ہیں۔ جبکہ زمین کا رزق بننے والوں کے پاس اپنی سانسیں بحال رکھنے کیلئے روٹی کا ایک نوالہ اور پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے۔ سارا تھر ...... تھر تھر کانپ رہا ہے اور آسیب کی زَد میں ہے دوسری طرف سندھ کی حکمراں جماعت پیپلزپارٹی اور بھٹو کا وارث میلے، ٹھیلوں کے ہلہ گلہ میں مصروف ہے اور اس کے ابا حضور دبئی کے سیر سپاٹے کررہے ہیں۔تھر کے مکینوں کی زندگی کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر ہوچکی ہے بھوک افلاس سے مارے ان لوگوں کی خیر خبر لینے، ان کی بپتا سننے اور ان کے دُکھوں کا مداوا کرنے کیلئے آنے والے جیالے وزراء نے زندہ دلی کی ایسی عبرت ناک مثال قائم کی ہے جن کے سامنے بے حسی اور بے رحمی نام کی چڑیلیں بھی منہ چھپائے گم صُم بیٹھی ہیں۔ جیالے وزراء اور سیاہ ست کاروں کے اعزاز میں تھر کے سرکٹ ہائوس کو دلہن کی طرح سجایا گیا۔ ان کی خاطر مدارت اور تواضع کوفتوں، مچھلی، قورمہ، روسٹ، ملائی بوٹی اور حلوہ سے کی گئی۔
اِدھر بے گورو کفن لاشے ہیں
اُدھر طرح طرح کی کھابے ہیں
 تھر کا قحط ..... قہر بن کر ....اس وقت تک 2 سو کے قریب انسانی جانوں کو نگل چکا ہے۔ ہزاروں مور، اونٹ، بھیڑ بکریاں، مال مویشی اور دوسرے جانور بھی اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ہزاروں پھول سے بچے اپنی مائوں کی گود میں پڑے زندگی کی آخری ہچکیاں لے رہے ہیں، انہیں علاج معالجہ کی سہولتیں بھی میسر نہیں۔ ہزاروں خاندان یہاں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔
قحط کی بِلا یہاں ایک دم نازل نہیں ہوئی اور نا ہی یہ کوئی نیا واقعہ ہے۔ ہر تین سال بعد یہ بِلا آدم بُو ...... آدم بُو پکارتی یہاں حملہ آور ہوتی ہے اور زندہ انسانوں کو نگل کر روپوش ہوجاتی ہے اس بار بھی یہ بِلا یہاں آہستہ آہستہ اتری۔ اس کی چاپ تین چار ماہ قبل سنائی دی تھی۔ پہلے مور اور دوسرے جانور اس کا نشانہ بنے۔ پھر اس نے انسانوں باالخصوص بچوں کو شکار کرنا شروع کیا۔ ہر روز دو تین بچوں کی ہلاکت کی خبریں اخبارات کا عنوان بننا شروع ہوئیں۔ مگر سندھ کے حکمرانوں کے کانوں میں جُوں تک نہ رینگی۔ یہ بِلا اپنے خونخوار پنجے گاڑھ چکی تو ہلاکتوں میں اضافہ شروع ہوگیا۔ رنج و غم کے ان افسوسناک اور سوگوار لمحات کو رنگین، حسین اور سہانا بنانے کیلئے سندھ حکومت نے سندھ ثقافت کے نام پر ’’ سندھ فیسٹول ‘‘ کا آغاز کیا۔ جس میں بھٹو اور بے نظیر کے وارث بلاول بھٹو زرداری پیش پیش تھے۔ اب تھر کے بے بسوں اور بے کسوں کے گھروں سے جنازے اٹھ رہے تھے اور دوسری طرف سندھ ثقافت کو اُجاگر کرنے کیلئے موج مستیاں جاری تھیں۔ ایک طرف لوگ اپنے پیاروں کے جنازوں پر بین کررہے تھے اور دوسری طرف گیت، رقص اور ہلہ گلہ ہورہا تھا۔ سندھ حکومت نے اپنی اس بے شرمی، بے حیائی اور ڈھٹائی پر اربوں روپے اڑا دئیے، اس فیسٹول کا مقصد سندھ حکومت کی مشہوری اور اپنے ایک نئے نویلے لیڈر کی پروجیکشن بھی تھا۔ اگر اس سے آدھی رقم بھی تھر پر خرچ کردی جاتی تو یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔لاشوں پر رقص کرنا اور اس طرح کے گھنائونے کھیل تماشے رچانا، رومن ایمپائرکے ظالم حکمرانوں کا شیوہ تھا۔ ان کا معمول تھا کہ وہ ہر سال قیدیوں کو بھوکے شیروں اور خونی درندوں سامنے ڈال دیتے تھے اس مقصد کیلئے انہوں نے بڑے سٹیڈیم (اکھاڑے) میں جیل خانے اور آہنی پنجرے بنوا رکھے تھے۔ سٹیڈیم کے میدان کے ایک طرف بنی جیل کی سلاخوں میں قیدی قید ہوتے تھے۔ سال بھر انہیں مرغن غذائیں کھلائی جاتی تھیں تاکہ وہ طاقتور بن سکیں۔ دوسری طرف جیل نما آہنی پنجروں میں شیر اور دوسرے خونخوار جانور بند ہوتے تھے۔ ’’ خونی جشن ‘‘ کے روز سٹیڈیم میں بنے تخت پر بادشاہ سلامت ملکہ عالیہ کے ہمراہ جلوہ افروز ہوتے، شہزادے، شہزادیاں، وزراء اور ان کے اہم درباری بھی یہاں موجود ہوتے۔ بگل بجتے ہی قیدیوں اور خونخوار درندوں کے پنجرے کھول دئیے جاتے۔ پھر خونی کھیل شروع ہوجاتا۔ بھوکے شیر اور دوسرے درندے قیدیوں کو چھیڑ پھاڑ کر کھا جاتے، بادشاہ اور اسکے حواریوں کا پاگل پن عروج پر ہوتا وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر واہ واہ کے نعرے لگاتے۔ یہ بادشاہ اور شہنشاہ صرف پاگل ہی نہیں بلکہ شیطان کے چیلے بھی تھے۔تھر کے قحط زدگان کی لاشوں پر میلے رچانا۔ اسی شیطانی چکر کی کڑی ہے۔یہاں سے ہی ارباب رحیم وزیر اعلیٰ سندھ اور پرویز مشرف کے دست راست شوکت عزیز ایم این اے منتخب ہوکر وزیراعظم بنے تھے، سندھ میں 6 بار پیپلز پارٹی برسراقتدار آچکی ہے۔ مگر یہاں کے مکینوں کے مصائب کم ہونے کی بجائے اور زیادہ بڑھ رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو برسوں پہلے جب اقتدار میں آئے تھے تو اس وقت بھی پورا ملک ایک ناگہانی آفت کی زد میں آیا تھا، پنجاب اور سندھ میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی۔ کئی دیہات صحفہ ہستی سے مٹ گئے، بھٹو نے مائو کیپ پہن کر اور شلوار اڑوس کر شہر شہر اور قریہ قریہ کا دورہ کیا۔ اجڑے پجڑے لوگوں کے پاس گئے اور کہا کہ ’’ بارش میں جس گھر کی چھت ٹپکتی ہے بھٹو اس گھر میں ہی رہتا ہے۔‘‘ بھٹو کی عوام دوستی کے اس عمل نے ہی اسے ایک لافانی اور لاثانی لیڈر بنایا ہے، جو ابھی تک لوگوں کے دلوں میں گھر کئے بیٹھا ہے۔ بلاول بھٹو کو اپنے نانا کے ایسے کارناموں کو سامنے رکھ ہی اپنی شخصیت کوسنوارنا اور نکھارنا چاہیے نہ کہ وہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اپنی پارٹی کے حکمرانوں کے اللوں تللوں پر خرچ کریں۔
تھر کے تباہ حال باسیوں کی آہ و بکا سن کر وزیراعظم نواز شریف وہاں پہنچے اور انہوں نے متاثرین کیلئے ایک ارب روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کرنے کے ساتھ متاثرین میں خوراک کے پیکٹ بھی تقسیم کئے، اس امر پر تشویش کا اظہار بھی کیا کہ وافر مقدار میں گندم موجود ہونے کے باوجود یہ متاثرین میں تقسیم کیوں نہیں کئی گئی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ہدایت کی کہ اموات کے ذمہ داروں کو ان کی غفلت پر سخت سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے اپنے دورہ کے اختتام پر اپنے اعزاز میں دئیے گئے کھانا کھانے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس کھانے پر خرچ ہونے والی رقم بھی متاثرین میں بانٹ دی جائے۔
جناب وزیراعظم کھانا تو تیار ہوچکا تھا اور قومی خزانہ سے اس پر رقم بھی خرچ ہوچکی تھی۔ اب اس رقم کا واپس آنا ناممکن تھا اس لئے آپ کو یہ کھانا فاقہ زدہ لوگوں کو کھلانے کے احکامات کرنا چاہیے تھے۔ اسی طرح آپ سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت کے بعد وہاں گئے ہیں، آپ کو ان کی اموات سے قبل ہی وہاں جانا چاہیے تھا۔ تاکہ قحط زدگان کے دکھ درد کی کچھ دوا ہوسکتی، بہرحال آپ نے تھر کا دورہ کرکے ایک احسن اقدام اٹھایا ہے۔ وہاں کے دکھیاروں کے دل جیت لئے ہیں، آپ ایسے کام کرجائیں کہ آئندہ سے قحط کی خوانخوار بلا تھر کا رخ نہ کرسکے!یہاں کے لوگوں کے دلوں میں آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔