ملائیشیاء میں چند روز

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
ملائیشیاء میں چند روز

ملیشیا کی مقامی کرنسی کا نام ’’رنگٹ‘‘ ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں کافی مضبوط کرنسی ہے۔ 24روپے پاکستانی کے بدلے ایک رنگٹ ملتا ہے جبکہ 100 ڈالر کے415 رنگٹ ملتے ہیں۔ ضروریات زندگی سادہ اور عام ہیں اور مناسب قیمتوں پر ہر جگہ مل جاتی ہیں۔روزگار وغیرہ بھی عام مل جاتا ہے اس لئے لوگ زندگی سے مطمئن ہیں۔ ا
یک پاکستانی طالب علم سے وہاں ملاقات ہوئی جو اپنے خرچ پر پی ایچ ڈی کررہا تھا۔ کھانے پکانے کا بھی اس نے خود بندوبست کررکھا تھا۔ اسکی رائے میں ملائشین کرنسی بڑی با برکت ہے ۔7سے 8سو رنگٹ میں شاہانہ گزارا ہوجاتا ہے۔ اسکے مطابق 4یا5 سو رنگٹ میں ایک مناسب سا گھر بھی کرائے پر مل جاتا ہے۔ سارے ماہ اے سی سمیت ڈیڑھ سو رنگٹ سے زیادہ بجلی کا بل کبھی نہیں آیا ۔بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کا تصور تک نہیں۔ ہر قسم کی سبزیاں اور فروٹ اتنے تازہ ملتے ہیں جیسے ابھی ابھی کھیت یا باغ سے لائے گئے ہوں۔سبزیاں اتنی تازہ ہوتی ہیں کہ دل چاہتا ہے کچی ہی کھا جائیں ۔وہاں ہر قسم کی سبزی اور فروٹ ملتا ہے۔ مقامی پیداوار کے علاوہ بہت سے فروٹ اور سبزیاں باہر سے درآمد بھی کی جاتی ہیں لیکن ہر چیز اعلیٰ کوالٹی کی ۔دودھ اور لسی عام استعمال ہوتے ہیں اس لئے تمام گروسری سٹورز پر یہ دونوں چیزیں با لکل تازہ بند بوتلوں میں مل جاتی ہیں۔ لسی تو مختلف ذائقوں میں ملتی ہے جبکہ دودھ غالباً آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے درآمد کیا جاتا ہے۔
یہاں کی سب سے بڑی انڈسٹری سیاحت ہے‘ شاپنگ مالزہیں‘ پبلک پارکس ہیں‘سیاحتی مقامات پر یا ہوٹلوں میں ہر جگہ سیا ح ہی سیاح گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں اس لئے ہوٹل انڈسٹری بھی بہت ترقی یافتہ ہے۔ شہر میں ہر چند قدم پر ہوٹل ملتا ہے جو عموماً چالیس سے پچاس منزلہ ہوتا ہے۔ مجھے ملائیشیاکے سیا حتی مقام جو کہ مری کی طرح ان کا صحت افزا مقام بھی ہے جانے کا اتفاق ہوا ۔چائے کے باغات ،سٹرابری کا وسیع کھیت ،آبشار اور لیو نڈر پھولوں کا باغ کافی دلکش سپاٹس تھے۔ہر مقام پر بہت زیادہ سیاح موجود تھے اور اس سارے علاقے میں ہوٹلز ہی ہوٹلز تھے۔میرے اندازے کے مطابق ہوٹلوں میں ہزاروں لوگوں کو روزگار ملا ہوا ہے۔یہاں کی بزنس خوب پھل پھول رہی ہے ۔ایک اندازے کے مطابق سیاحت سے اربوں ڈالرز کا زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔
سیاحت کی ترقی کیلئے چار بنیادی وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ ملک میں امن و امان ہے۔ کسی کو اغوا برائے تاوان یا لٹے جانے کا خطرہ نہیں ہوتا۔ سیاسی ،مذہبی ثقافتی اور نسلی طور پر بھی مکمل طور پر امن و امان ہے۔ نہ کہیں جلوس نکلتا ہے نہ کوئی مظاہرہ ہوتا ہے‘ نہ بم بلاسٹ ہیں نہ مذہبی یا نسلی منافرت ہے۔لوگ امن و سکون سے رہتے ہیں۔ دوسرا یہاں کا موسم ہے جو سارا سال معتدل رہتا ہے۔اس میں شدت نہیں اس لئے سیاح آرام سے سارا دن گھوم پھر سکتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ عام ہے۔ آرگنائزڈ ٹورز بھی بہت ملتے ہیں۔سیاحوں کی کشش کیلئے دلچسپ مقامات بھی بہت ہیں مثلاً تتلی پارک، برڈز پارک، بوٹانیکل گارڈن ،شاہی محل،میوزیم، فش ایکوریم، واٹر پارک، چائنا لائیشیاء فر ینڈ شپ پارک ،پترا جایا کی مصنوعی جھیل اور اسلامک آرٹ میوزیم جیسے مقامات سیاحوں کیلئے بہت دلکشی رکھتے ہیں ۔ان میں سے ہر مقام ہر وقت سیاحوں سے بھرا رہتا ہے۔ یہ تمام چیزیں تو کوالا لمپور شہر میں ہیں ۔اندرونِ ملک بھی گھوم پھر کر دیکھنے کیلئے بہت کچھ ہے۔سیاحوں کیلئے تیسری کشش یہ ہے کہ یہاں لباس کی آزادی ہے جو کہ مسلمان ممالک میںقطعاً قابل قبول نہیں ۔اس میں چینی ،جاپانی ،کورین اورمغربی ممالک کے سیاحوں کا لباس کافی آزادانہ ہوتا ہے۔ مرد حضرات تو نیم بازو والی شرٹ اور بر موڈا شارٹس میں ملبوس ہوتے ہیں۔ پائوں میں سلپرز ،چپل یا جا گرز ہوتے ہیں لیکن خواتین کا لباس کافی بیہودہ ہوتا ہے۔یہ خواتین عموماً نیکرز پہنتی ہیں اور اکثر اوقات یہ نیکریں اتنی مختصر ہوتی ہیں کہ نیچے پہنا ہوا انڈروئیر نیکر کی لمبائی سے باہر نکلا ہوا نظر آتا ہے ۔انکے بلاوز بھی اتنے مختصر ہوتے ہیںکہ محض چھاتیوں ہی کی ستر پوشی کرتے ہیں۔ کندھے اور پیٹھ لباس سے آزاد ہوتی ہے۔لباس بہت Vulgar اور اخلاق سوز نظر آتا ہے۔ایسی خواتین کو دیکھ کر دل میں خواتین کے تقدس کا احساس ہی ختم ہو جاتا ہے بلکہ کراہت محسوس ہوتی ہے۔
عورت کی عزت تو معقول اور معزز لباس سے ہوتی ہے ۔ایسا بیہودہ لباس کم از کم ہم پاکستانی یا عرب دنیا کے مسلمان قطعاً پسند نہیں کرتے۔ پھر بات صرف لباس ہی کی نہیںبعض اوقات بازار میں چلتے چلتے یہ لوگ بوس و کنار بھی شروع کر دیتے ہیں ۔ بہر حال مسلمان خواتین چاہے انکا تعلق کسی بھی ملک سے تھا با عزت لباس میں ملبوس نظر آئیں اور یہ لباس سر سے پائوں تک جسم کو کور کرتا ہے ۔ عموماً سر پر برقعہ یا سکارف ہوتا ہے۔ ایسے لباس کے باوجود حیران کن بات یہ ہے کہ اپنے پیارے پاکستان کی طرح کسی نوجوان کو ان کا پیچھا کرتے ،انہیں چھیڑنے یا آوازیں کسنے کی جرأت نہ تھی۔ یہ آرام اور دھڑلے سے سارا دن گھومتی پھرتی ہیں۔
سیاحوں کیلئے چوتھی کشش یہاں کی خریداری ہے۔ یہاں بڑی بڑی شاپنگ مالز ہیں۔ یہ اتنی بڑی ہیں کہ کسی ایک مال کو بھی دیکھنے کیلئے کم از کم ایک دن چاہیے۔یہ کئی کئی منزلہ ہیں اور یہاں دنیا کی ہر چیز اور ہر برانڈ ملتا ہے۔ یورپ کے اہم برانڈز کی اعلی شاپس موجود ہیں تمام کی تمام مالز مکمل طور پر ائیر کنڈ یشنڈ ہیں اس لئے سیاح پورا دن یہاں گھومتے رہتے ہیں اور شاپنگ کرتے ہیں ۔ہر پچاس قدم پر مرد و خواتین کیلئے علیحدٰہ علیحدٰہ واش رومز ہیں اور انکی تعداد ہر جگہ 10سے15 ہوتی ہے ۔بہت زیادہ استعمال کے باوجود یہ واش رومز مثالی طور پر صاف ہوتے ہیں ۔صابن اور ٹشو پیپرز ہر واش روم میں موجود ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ تمام ائیر کنڈیشنڈ ہیں۔ان مالز میں دنیا کی ہر چیز ملتی ہے اس لئے یہ مالز اور مالز کی دکانیں ہر وقت سیاحوں سے بھری رہتی ہیں۔ اگر چلتے چلتے تھک جائیں تو بیٹھنے کیلئے بنچز موجود ہیں۔ ان مالز میں بے تحاشہ ہوٹلز ہیں۔ عموماً ایک پورا فلور ان کیلئے مختص ہے۔یہاں چینی،کورین،ملائشین اور یورپی کھانے ہر وقت میسر ہوتے ہیں۔ امریکی فاسٹ فوڈ میکڈونل اور کے ایف سی کافی پاپولر ہیں ۔جس بھی ہوٹل پر جائیں بھرا ہوا ملتا ہے۔بیٹھنے کو جگہ بھی نہیں ملتی ۔کھانے کا آرڈر دینے کیلئے لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔کھانا حاصل کرنے میں کم از کم 30سے 40منٹ ضرور لگ جاتے ہیں۔ سیاحوں کا رش اور شاپنگ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں ڈالرز پانی کی طرح آتے ہیں اور ملکی معیشت کا سب سے بڑا سہارا سیاحت ہی ہے۔
کوالا لمپور کے ساتھ ہی اسلام آباد کی طرح ایک نیا شہر آباد کیا گیا ہے جسکا نام ’’پترا جایا‘‘ ہے ۔’’پترا جایا ‘‘ کا مطلب ’’ فاتح /عظیم شہزادہ‘‘ ہے۔ شہر بہت خوبصورت ہے اور گھنے جنگلات میں گھرا ہوا ہے۔تمام گورنمنٹ دفاتر اسی شہر میں منتقل کر دئیے گئے ہیں۔خوبصورتی کیلئے ایک بہت بڑی مصنوعی جھیل بھی بنائی گئی ہے جس میں کشتی رانی ٹورسٹ کیلئے خصوصی کشش رکھتی ہے۔تمام ٹورسٹ مقامات کیلئے خصوصی ٹکٹ خریدنے پڑتے ہیں ۔ان میں سے کچھ مقامات میں نے خود دیکھے واقعی بہت دلچسپ اور بڑے معلوماتی تھے۔ان سے معقول آمدنی ہوتی ہے جس سے انکی دیکھ بھال کا خرچہ با آسانی پورا ہو جاتا ہے بلکہ کچھ بچ بھی جاتا ہوگا۔ لوگوں کو روزگار بھی ملتا ہے ۔ (جاری)