نہتے کشمیری‘ نئے کارتوس اور ....!

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
نہتے کشمیری‘ نئے کارتوس اور ....!

قابض بھارتی فوج نے نہتے کشمیری عوام کے خلاف ریاستی دہشتگردی کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس میں کسی قسم کی کمی آنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔ جس کا تازہ ترین ثبوت چند روز قبل سات اکتوبر کو تب سامنے آیا جب ” انڈین ایکسپریس“ ، ” دی ہندو “ اور ”ٹائمز آف انڈیا“جیسے کثیر الاشاعت بھارتی اخبارات نے انکشاف کیا کہ انڈین آرمی نے 21000 نئے طرز کے کارتوس جموں کشمیر میں تعینات CRPF (سینٹرل ریزروڈ پولیس فورس) کے استعمال کے لئے بھجوائے ہیں ۔ ان کا استعمال پیلٹ گنز کے ساتھ کیا جائے گا ۔
CRPF کے ڈی جی ”آر آر بھٹناگر“ نے واضح الفاظ میں تسلیم کیا کہ یہ نئے طرز کے کارتوس پیلٹ بلٹس کا بہترین متبادل ثابت ہوں گے اور چونکہ کشمیر (مقبوضہ) میں زیادہ تر AK47 اور AK56 کا استعمال کیا جاتا ہے اس لئے ان کارتوسوں کو خصوصی طور پر ان بندوقوںسے استعمال کیے جانے کے لئے تیار کیا گیا ہے ۔ “ یاد رہے کہ ان کارتوسوں کو بھارتی اسلحہ ساز ادارے ”ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن“ (DDRO ) کی جانب سے تیار کیا گیا ۔
مبصرین کے مطابق دہلی کے سفاک حکمرانوں نے معصوم کشمیریوں کے خلاف غیر انسانی مظالم پر مبنی جو سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کر رکھا ہے وہ بھلا کس سے پوشیدہ ہے ۔ خصوصاً پچھلے تقریباً پندرہ مہینوں سے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے تو پیلٹ گنز کا استعمال اس قدر بڑھ گیا کہ اس کی وجہ سے دو سو سے زیادہ لوگ ہمیشہ کے لئے اپنی آنکھوں سے محروم ہو گئے اور ہزاروں جزوی طور پر اس معذوری کا شکار ہو گئے ہیں ۔
اسی پس منظر میں چند روز قبل اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے یقینا بجا کہا کہ بھارتی دعوے کے برعکس کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا لہذا اقوام متحدہ کشمیریوں کا تسلیم شدہ حق دلانے کا وعدہ پوراکرے۔
ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کر رہا ہے جس سے نابینا ہو کر نوجوان نسل ہمیشہ کیلئے معذور ہو رہی ہے۔ ایسے میں ہم بہادر کشمیریوںکی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ دہلی کو یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم و ستم اور سفاکی کے زور پر کسی بھی قوم کو ہمیشہ کے لئے غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا ۔ اور یہ ایسی بڑی سچائی ہے جس سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا ۔ بھارتی حکمرانوں نے یوں تو عرصہ دراز سے یہ وطیرہ بنا رکھا ہے کہ بربریت اور وحشت کے زور پر نہتے اور معصوم کشمیریوں کو غلام بنا کر رکھا جائے اور پاکستان کےخلاف جھوٹ اور دروغ گوئی کی بنیاد پر ایسا جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جائے جس کے نتیجے میں دنیا کو گمراہ کیا جا سکے ۔ مگر بھارت کے کوڑھ مغز حکمران ٹولے کو یاد رکھنا چاہیے کہ سچائی کو کچھ دیر کے لئے چھپانا تو شاید ممکن ہو مگر بالآخر سچائی اپنا راستہ خود ڈھونڈ لیتی ہے اور جھوٹ اپنی موت آپ مر جاتا ہے ۔ یوں بھی اس حقیقت سے بھلا کون ذی شعور انکار کر سکتا ہے کہ بھلے ہی ظلم و سفاکی کی رات کتنی بھی تاریک ہو مگر بالآخر تاریکی کے دبیز پردوں سے صبح آزادی طلوع ہو کر رہتی ہے اور اس آفاقی سچائی کو نہ تو کوئی بدل پایا ہے اور نہ بدل پائے گا ۔
دوسری جانب RSS کے جنونی ہندو طرزِعمل کا تو عالم یہ ہے کہ بھارتی فلمی اداکار ” انوپم کھیر “ چونکہ RSS کی مسلم دشمنی میں ہراول دستے میں شامل تھا اور اس نے معتدد بار بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف ناقابلِ بیان زبان میں زہر اگلا اس لئے مودی سرکار نے اسے بطورِ انعام پونے میں واقع بھارتی ادارے ” FTII“ کا نیا سربراہ بنا دیا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کی ان جنونی حرکتوں پر بھی عالمی برادری چپ سادھے رکھے تو اسے ستم ظریفی ہی کہا جا سکتا ہے ۔