12 اکتوبر 99 کا جاری سنسنی خیز ڈرامہ

کالم نگار  |  اسلم خان…چوپال
12 اکتوبر 99 کا جاری سنسنی خیز ڈرامہ

جنرل شاہد عزیز مزید کہتے ہیں کہ لا ہو ر فو ن کیا تو پتہ چلا کہ کورکمانڈرخالد مقبول غیر حاضر ہیں۔ڈھونڈنے پر پتہ چلا کہ گوجرانوالہ گالف کھیلنے گئے ہوئے ہیں۔کور کما نڈ ر جب بھی اپنے علاقے سے با ہر جاتے ہیں،CGS کو لازماً خبر ہوتی ہے،لیکن آج کسی کو ان کی لا ہو ر سے غیر حاضری کا پتا نہیں تھا۔گا لف کو رس میں بھی وہ کا فی دیر نہ مل سکے۔ کور کما نڈر کوئٹہ پر بھر وسہ نہیں رہا تھا۔ دوڈویژن کما نڈر تھے۔ دونوں ہی غیر حاضر اور تمام حالات سے بے خبر تھے۔ پتہ چلا کہ دونوں کور کمانڈر کے ساتھ ان کے دفتر میں بیٹھے ہیں،میٹنگ چل رہی تھی۔یقینا کورکمانڈر جنرل طارق پرویز (TP)کو پتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ اس لیے کورکما نڈر نے دونو ں جرنیلوں کو اپنے پاس بٹھائے رکھا ، تاکہ ان کو کوئی احکامات نہ مل سکیں۔بعد میں پتہ چلا کہ جنر ل طارق پرویز (TP)ٹی وی دیکھتے رہے اور لگاتار لو گو ں سے حالات پو چھتے رہے۔ہمیں کوئی چارہ سمجھ نہیں آیا پھر میرے کورس میٹ بریگیڈ کما نڈر بریگیڈئیرغضنفر سے بات کی اور صور ت حال بتا ئی۔ ان کو بتا یا کہ دونوں ڈویژن کمانڈروں کو کورکمانڈر نے اپنے دفتر میٹنگ کے بہا نے بٹھایا ہوا ہے اور اسکے علا وہ اور کو ئی چا رہ نہیں کہ اب یہ تمام کام آپ ہی کریں۔
انہوں نے حامی بھر لی، پھر کو ئٹہ کو سنبھالا۔روالپنڈی کے اردگرد دفاعی سپاہ تعینات کرنی تھی۔ یہ تو نہیں پتہ تھا کہ پشاور یا کھا ریا ں کی سمت سے کوئی دخل اندازی ہو گی یا نہیں۔ وہاں بہت مضبو ط سپا ہ موجود تھیں۔سب تو (ہمارے) منصوبے میں پہلے سے شا مل نہیں تھے۔ کیا پتا انکی وفاداریاں کس سمت بیٹھیں۔ مسئلہ صرف فو ج اور سول حکومت کا نہیں تھا ،فو ج کا ایک نیا سر براہ تعینا ت ہو چکا تھا۔ جو ISI جیسے ادارے کا سر براہ تھا اور فو ج میں اسکی عز ت تھی ،اثرورسوخ رکھتا تھا۔ پھر اس مسئلے کی کھچڑی دونوں جانب سے کئی دنو ں سے پک رہی تھی ، نہ جا نے کو ن کدھر تھا۔ روالپنڈ ی میں تو ایک ہی بر یگیڈ تھا، جو اسلا م آبا د کی نذر ہو گیا۔ضرورت کے تحت 10کور کا ڈویژن منگلا سے منگوایا ،جس کی کما نڈ میجرجنرل عارف حسن (بعد لیفٹیننٹ جنر ل بنے)کر رہے تھے۔ یہ سپاہ کھاریاں اور پشاور سے مداخلت کی صورت میں ،یقینا ناکافی تھی۔ خدانخواستہ اگر ایسا مسئلہ اٹھ جاتا کہ فوج آپس میں الجھ جاتی ، تو تبا ہ ہو جاتی۔بس صرف ایسی صورتحال پیدا کرنی تھی کہ مداخلت کرنیوالا سوچے، کہ مداخلت کا فوج کے لیے کیا انجام ہو سکتا ہے اور باز رہے۔
اسلا م آبادمیں پرائم منسٹر اور پریذیڈنٹ ہاو¿س گھیر ے میں لیے جا چکے تھے۔پھر میں نے پریذیڈنٹ ہاو¿س کی بٹا لین سے ایک میجر صاحب کچھ سپا ہ کے ساتھ ٹی وی سٹیشن کو کنٹر ول کر نے کے لیے بھیجے تا کہ وہا ں سے جو لگا تار نئے چیف کو رینک کے بیج لگانے کی ویڈیو چل رہی تھی اسے بند کروایا جائے۔تب یہ سلسلہ بند ہوا۔مگر کچھ دیر میں پھر ٹی وی سٹیشن سے جنرل ضیا ءاور نواز شریف کی ویڈیو چلنی شروع ہوگئی۔ میں نے جب پتہ کیا تو بتایا گیا کہ ٹی وی سٹیشن پر تو ہما را کنٹرول ہو چکا ہے۔نہ جا نے کیا مسئلہ ہے۔اتنا بڑا سٹیشن ہے ، ہوسکتا ہے کہ کنٹرول روم نہیں مل رہا ہو یا کوئی اور مسئلہ پیش ہو۔ میں نے کہا کہ ٹی وی سٹیشن نہیں سنبھا لا جا سکتا تو اس کو بند کروادو۔ابھی وقت نہیں تھا کہ میں اس مسئلے میں الجھتا۔جب ٹی وی سٹیشن پر بھیجے ہو ئے افسر سے کوئی رابطہ نہ ہوسکا تو انہو ں نے ایک اور افسر کے ساتھ کچھ سپاہی یہ حکم دے کربھجوائے کہ ٹی وی نشریا ت بند کر دی جائیں۔
ایک پر یشان کن خبر یہ تھی کہ کھا ریا ں میں کچھ ٹینکوں اور بکتربند گاڑیو ں پر مبنی سپاہ کو اسلام آباد جا نے کے لیے تیار رہنے کے احکاما ت دئیے گئے ہیں۔راولپنڈی میں ان کے مقابلے کی سپاہ موجود نہیں تھیں۔اس ممکنہ پیچیدگی سے نمٹنے کے لیے بھی دفاعی اقداما ت کر نے تھے۔کھاریا ں کی یہ سپا ہ رات دیر تک تیار رہی اور ایک مرتبہ گاڑیوں میں بیٹھ بھی گئی ، مگر یہ چلے نہیں۔ہمارے لیے رات گئے تک پریشانی کا سبب رہے۔ پھر جب جنرل مشر ف کا جہاز خیر یت سے اتر گیا اور وزیراعظم حراست میں لے لیے گئے توکچھ دیر بعد یہ بھی آرام سے بیٹھ گئے۔وقت ایسا تھا کہ جگہ جگہ لوگ غا ئب تھے۔کچھ نے تو جب خبر سنی ،دبک کر بیٹھے رہے۔سوچا دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔کئی جگہو ں پر تو جب متعلقہ افسروں کو بتایاگیا اوراس نے حامی بھی بھر لی ،ہمیں تسلی بھی دے دی ،پھربھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا انتظار میں رہا کہ وفاداریا ں کہاںدکھلاو¿ں۔ایسے مواقع پر پتہ چلتا ہے کہ انسانی وفاداریاں کیسے بدلتی ہیں۔جب وزیر اعظم کے گھر متعین پلٹن کے کمانڈنگ افسر(CO)کرنل شاہدعلی پرائم منسٹر ہاو¿س گئے تو وہا ں جنرل ضیاءالدین کی گا ڑی چار ستاروں اورچیف کے جھنڈے کے سا تھ کھڑی تھی۔یہیں انہیں چیف کے رینک لگی وردی میں جنر ل ضیاءالدین، وردی میں لیفٹیننٹ جنرل اکرم اور بریگیڈئیر جاوید کچھ اور ساتھیوں کے ہمراہ ملے۔ انکے ساتھ ہتھیاروں سمیت گارڈ بھی تھے۔کرنل شاہد نے مجھے بعد میں بتایا کہ ان دونو ں نے پہلے تو ان کو ڈرایا دھمکایا ،پھر لا لچ دی کہ تم فکر نہیں کرو ایسے موقع پر انسان سے فیصلے کرنے میں غلطی ہو جاتی ہے ، ہم تمھارا خاص خیال رکھیں گے۔پھر جب وہ نہ ما نے تو یہ بھی کہا کہ ابھی کچھ دیر میں پشاورسے سپاہ پہنچ جا ئےگی، توتم لوگوں کا سارا ڈرامہ دھرے کا دھرا رہ جا ئیگا اور تم بہت خسار ے میں رہو گے۔ پھر یہا ں پر موجود سپا ہ نے ان پر ہتھیا ر تان لیے اور کہا گیا کہ اپنی پلٹن کے لوگوں کو فو را گیٹ سے ہٹ جانے کا حکم دو اور نئے چیف کو GHQپہنچنے دو، ورنہ تمھاری خیر نہیں،کرنل صاحب نے جواب دیا کہ اگر گولی چلائی تو میر ے جوانوں نے وزیراعظم ہاو¿س کو گھیر ے میں لیا ہوا ہے کسی کی بھی خیر نہیں ہوگی اس نوجوان افسرکا حوصلہ تھا کہ یہ یوں اکیلے کھڑا رہا اور پھر باقی سب گھر کے اند ر چلے گئے۔
جنرل محمود اور میجر جنرل عارف حسن میر ے دفتر میں جنرل عز یز سے گفتگو کے بعد وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کوتحویل میں لینے چلے گئے رات کے ڈھا ئی بجے جنر ل مشر ف نے SSG کی وردی پہن کر ،ملک کے نئے سر براہ کی حیثیت سے ٹی وی پر قوم سے خطا ب کیا۔ 12اکتوبر 1999 کومیرے دفتر سے نکلے ہو ئے احکا ما ت پر ملک میں فو جی حکو مت قائم ہوئی تھی۔اسکے بعد کامل ایک دہائی جنرل مشرف من مانی کرتے رہے۔ کہتے ہیں کہ انقلاب سب سے پہلے اپنے بچے کھاتا ہے۔ جنرل عثمانی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ اسے سب سے پہلے 'ترقی' دیکر ڈپٹی چیف آف دی آرمی سٹاف بنایا گیا اور پھر ایک دن خاموشی سے ریٹائرڈ کردیا گیا۔ کہتے ہیں کہ جنگ میں پہلی قربانی سچائی کی ہوتی ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ان رازوں سے پردہ اٹھایا جائے جنہیں اپنے جرائم چھپانے کےلئے قوم سے چھپایا جاتا رہا کُل یہی ہے 12 اکتوبر 1999 کی کہانی جس سے دھیرے دھیرے اسرار کے پردے ہٹ رہے ہیں۔ (ختم شد)