امریکہ ۔ سی پیک ۔ کشمیر

کالم نگار  |  محمد صادق جرال
امریکہ ۔ سی پیک ۔ کشمیر

افغانستان اور بھارت مل کر امریکہ کو پاکستان کے خلاف بھڑکا کر رہے ہیں تاکہ پاکستان عدم استحکام سے دو چار ہو ، پاکستان نے افغان جنگ میں بہت جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں ۔ پاکستان امریکہ سے اچھے تعلقات خواہاں ہے اور مل کر چلنا چاہتا ہے لیکن امریکہ کو بھی اپنے رویے پر تبدیلی لانا پڑیگی ۔ پاکستان کسی صوت دہشتگردوں کی پشت پناہی نہیں کرتا ۔ امریکہ نے بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے سی پیک منصوبے پر بھی اعتراض اٹھائے ہیں اور کہا کہ یہ متنازعہ علاقے سے گزار رہا ہے پاکستان اور چین نے امریکہ کے اس اعتراض کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع جیمزمٹیس کیمطابق اس منصوبے کی مخالفت کی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان سے گزرنے والے اس منصوبے کا ایک حصہ کشمیر سے ہو کر گزرے گا اور وہ اس کو متنازعہ علاقہ سمجھتا ہے۔ امریکہ کے پالیسی ساز اداروں کے سامنے پاکستان 70 سال سے کشمیر کے متنازعہ مسئلے کو حل کرنے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم وبربریت کو بند کرانے اور ہلاکتوں کے خلاف بھارت کے کردار اور رویے کی شکایت کر رہا ہے ۔ اسکی داد رسی کے لیے دہائی دے رہا ہے کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے بھارت کی مسلح افواج نے وہاں قبضہ کر رکھا ہے ۔ بھارت خود یہ مسئلہ 1948میں UNOمیں لیکر گیا وہاں ایک درجن سے زائد قراردادیں پاس کی گئیں جس میں کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے کا کہا گیا بھارت نے اقوام متحدہ اور پوری دنیا پاکستان وکشمیری عوام سے بھی استصواب کروانے کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن عملدرآمد سے انکاری ہے، امریکہ کو سمجھ نہیں آرہی ۔بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہا ، اسکے برعکس بھارت مقبوضہ کشمیر میں آئے دن جغرافیائی اور علاقائی تبدیلیاں کر رہا ہے۔
پاکستان کے حصے کے پانی پر 50سے زائد ڈیم تعمیر کر چکا ہے ۔ مزید ڈیم بنا رہا ہے ۔ پاکستان کے حصے کے دریاﺅں کے کٹاﺅ کو تبدیل کر کے ان کا رخ بھارت کی طرف موڑ چکا ہے پاکستان اور چین نے سی پیک ون روڈ بیلٹ منصوبے کے اعتراض کو مسترد کر دیا ہے چین نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ کسی ملک کیخلاف نہیں بلکہ علاقے کی خوشحالی اور ترقی کا منصوبہ ہے ۔ 150سے زائد ممالک اس میگا پراجیکٹ کا حصہ ہیں روس اور برطانیہ بھی شمولیت کے خواہش مند ہیں ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اسے اہم قراردادوں میں شامل کیا ہے بات کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ امریکہ بھارت کو اس علاقے کی اجارہ داری دینے کا خواہش مند ہے اور امریکہ اور بھارت کو کسی صورت قبول نہیں ہے کہ سی پیک ون روڈ بیلٹ کے منصوبے سے یہ خطہ ترقی کرے اس سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور چین کے مو¿قف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے صرف امریکہ بھارت اور اسرائیل کی سازشیں عیاں ہو رہی ہیں ۔ افغانستان ان کا آلہ ¿ کار ہے ۔
آبروئے صحافت ، محسن کشمیر ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم اپنے خطاب اور انٹرویو میں بھارت کو پاکستان کا ازلی دشمن قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ بھارت کے حکمرانوں پر اعتماد نہےں کیا جا سکتا کیونکہ ان کی منافقت اور سازشیں قیام پاکستان سے جاری ہیں اس کا خمیازہ ہم کئی بار بھگت چکے ہیں پاکستان کو دو لخت کر دیا گیا ہم پر تین بڑی جنگیں مسلط کی گئیں جس سے ہماری تعمیر وترقی آگے نہ بڑھ سکی اب بھی مقبوضہ کشمیر میں 7لاکھ فوج صرف کشمیری عوام کو فتح کرنے پر لگی ہوئی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن اور جدید ہتھیاروں کے استعمال سے انسانی جسم کو چھلنی چہروں کو بدنما داغ اور آنکھوں کو بینائی سے محروم کر دیا گیا ہے ۔ پاکستان عالمی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔ خواتین کی چٹیا کاٹنے کی شکایات پوری وادی سے آرہی ہے ۔ حریت رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ ، عمر فاروق اور یاسین ملک سمیت راہنماپابند سلاسل ہیں یا احتجاج کے لیے سڑکوں پر ہیں بھارت کے اس رویئے کی وجہ سے بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کی سنگینی کا سارا الزام بھارتی حکومت کو دیا ہے اور کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بھارتی حکومت کے رویے نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو ابتر کر دیا ہے ۔ حکومت مذاکرات کا راستہ اپنائے ، جبر سے دبانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوئی ۔ پاکستان کے ساتھ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے راہنماﺅں سے بھی مذاکرات کیے گئے اسلامی ممالک کی تنظیم OICنے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اور جاری کردہ رپورٹ میں UNOسے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مسلم آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے سے روکے کیونکہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اس رپورٹ میں بھارتی ظلم میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ بھارت صرف پاکستان کو بدنام کرنے اور کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے دراندازی پر الزام لگارہا ہے حالانکہ بھارت کی ایجنسی را افغانستان میں پاکستان کی کالعدم دہشتگرد تنظیموں TTB الاحراراور دیگر تنظیموں سے رابطہ رکھے ہوئے ہے ۔ افغانستان میں تعمیر وترقی کی آڑ میں بھارت پاکستان کیخلاف تخریبی کاروائیوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔