بلوچستان کی المناک کہانی اور شخصی روئیے

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
بلوچستان کی المناک کہانی اور شخصی روئیے

کوئٹہ شہر ایک بار پھر لہولہان ہے اس بار پولیس کے جانباز افسر حامد شکیل 3 اہلکاروں سمیت شہید ہوئے جب کہ 7 افراد شدید زخمی ہوئے۔

دم توڑتی بغاوت کو سہارا دینے کے لئے باغیوں نے کوئٹہ کو ہدف بنا لیا ہے نواب وزیر جوگیزئی مدتوں پہلے قلعہ سیف اللہ کو خیر آباد کہہ کر اسلام آباد کی اشرافیہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ شخصی رویوں کے حوالے سے وہ بتا رہے تھے کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ کو کالعدم قرار دے کر ترقی پسند ،قوم پرست ولی خان اور غوث بخش بزنجو، شیر محمد مری سمیت 80 پختون اور بلوچ رہنماؤں کو غدار قرار دے کر حیدر آباد جیل میں ڈال دیا تھا۔ جنہیں جنرل ضیاء الحق جیسے ڈکٹیٹر نے اس بندی خانے سے نکالا جس پر یہ راہنما مدتوں اْس کے مشکور رہے۔یہ بھٹو اور جنرل ضیاء کے شخصی رویوں کا فرق تھا کہ جس نے بظاہر اس پیچیدہ معاملے کو لمحوں میں حل کر دیا۔ ایک فوجی حکمت کار نے اس کالم نگار کو بتایا کہ بھٹو دَور میں اکبر بگٹی کی مدد سے ہونے والی فوجی کارروائی کی وجہ سے بلوچستان کے حالات بہت خراب ہو چکے تھے جن کو سلجھانے کے لئے مرحوم ضیا نے انوکھا طریقہ اپنایا اور ایک دوپہر بذات ِخود حیدر آباد جیل میں جا کر بلوچ اور پختون رہنماؤں کی قیدی قیادت کے ہمراہ ظہرانہ کیا۔ یکطرفہ طور پر حیدر آباد ٹریبونل توڑنے کا اعلان کیا اور بھٹو سے غداری کے تمغے پانے والے روشن خیال، قوم پرست رہنماؤں کو بیک جنبش ِقلم رہا کر دیا جس کے بعد لمحوں میں بلوچستان میں جاری فتنہ و فساد اپنی موت آپ مر گیا۔ ایسا آج کیوں نہیں ہو سکتا؟
ہو سکتا ہے صرف تھوڑی سی ہمت کی ضرورت ہے آزادی سے پہلے بلوچستان کا منظر نامہ متحدہ ہندوستان کے دیگر علاقوں جیسا ہی تھا۔ اْس وقت کا ہندوستان دو اکائیوں میں بٹا ہوا تھا، برطانوی عملداری والا ہندوستانی علاقہ‘ جہاں برطانیہ اپنے وائسرائے کے ذریعے حکومت کرتا تھا، ہندوستان کے اس علاقے میں جدید انتظامی ڈھانچہ بروئے کار تھا، پولیس تھی، عدالتیں لگتی تھیں ریل چل رہی تھی، سرکاری شفاخانے، ادویات اور معالج سب کچھ موجود تھا۔ امن و امان کا یہ عالم تھا کہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے یہ علاقہ اس وقت یورپ کے صنعتی انقلاب سے مکمل طور پر مستفید ہو رہا تھا۔ جدید تہذیب کی روشنی چھنا چھن تاریکیوں کو تا ر تار کررہی تھی جبکہ عین اْسی وقت سینکڑوں راجواڑے، ریاستیں اور جاگیریں ایسی تھیں جو برطانوی سرکارکی باج گزار اور تاج برطانیہ کی سرتاپاوفادار لیکن برطانوی ’’سامراج‘‘ کی انتظامی عملداری سے باہر تھیں۔ جہاں پر پتھر کے دور کے رسم و رواج جاری و ساری تھے انسانی حقوق، جمہوریت اور انصاف کا نام و نشان تک نہیں ملتا تھا۔ راجے، مہاراجے، رانے، مہارانے اپنے اللوں تللوںمیں غرق تھے۔
برٹش بلوچستان میں پشتون غالب اکثریت میں تھے جبکہ بلوچوں کے دو بڑے قبائل بگٹی اور مری اس وقت کے ضلع سبی میں آباد اور برٹش بلوچستان کا حصہ تھے۔نصیر آباد، کوئٹہ، پشین، نوشکی، ژوپ، لورالائی اور سبی یہ تھا برٹش بلوچستان! جس میں مری بگٹی کے ساتھ ساتھ جمالی، بادینی، مینگل، براہوی، گچکی، زہری، رند، مگسی، ریئسانی، بزینجو، بجارانی اور کھوسو، قبائل تاج برطانیہ کی عملداری کا حصہ تھے۔ جہاں پرقبائلی لیویز پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا ڈھیلا ڈھالا، مگر موثر انتظامی ڈھانچہ بروئے کار تھا۔ اسی حصے میں سیاسی ادارے جماعتیں اور قدآور رہنما بھی موجود تھے۔ اور یہی پر مسلم لیگ کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے سیاسی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سردار عثمان خان جوگیزئی، میر جعفر خان جمالی، سردار غلام محمد خان ترین سے لے کر قاضی عیسٰی اور ماضی کے دھندلکوں میں گم ہو جانے والے طالب علم رہنما، شعلہ بیان مقرر غفور درانی نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند کیا تو نئے سال کا سلام کرنے کے لئے نواب شہباز اکبر خان بگٹی کے والد نواب محراب خان بگٹی دیگر بلوچ اور پختون سرداروں کے ہمراہ نئے سال کے موقع پر جواں سال انگریز ڈپٹی کمشنر کو اطاعت گزاری کے علامتی اظہار کے لئے سلام کرنے ساتھیوں سمیت سارا دن ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے برآمدے میں باریابی کے منتظر رہتے تھے۔ ایک داستان گو بتاتے ہیں کہ سال کی آخری شب کی رنگینیوں کا اسیر وہ نوجوان انگریز ڈپٹی کمشنر انہیں شرف ملاقات تو کیا بخشتا، اندر سے اپنے بٹلر کے ذریعے سلام ’’قبول‘‘ کرنے کا پیغام بھجواتااور یہ جری سردار اس عنایت پر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے رخصت ہوجاتے۔
صدیوں سے خون میں شامل روایات اور رویوں کی وجہ سے بلوچ طبعاً ویرانوں کو پسند کرتے۔ شہری بودباش انہیں آج بھی گوارا نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچوں کی اکثریت بلوچستان کے باہر رہتی ہے۔ سندھ کے چانڈیو، جتوئی، زرداری، پنجاب کے لغاری، کھوسہ اور مزاری سب بلوچ ہی تو ہیں جو نسلوں، صدیوں پہلے پانی اور چارے کی تلاش میں بلوچ سرزمین کو خیر آباد کہہ گئے تھے۔ جبکہ قلات، خاران، لسبیلہ اور مکران کی نیم خود مختار لیکن تاج برطانیہ کی باج گزار ریاستوں میں عوام ظلم و بربریت کا شکار تھے۔ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے ہر سو چھائے ہوئے تھے۔ تحریک آزادیٔ پاکستان کے دوران کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس میں ایک استثنا والی قلات خان احمد یار خان تھے جو قائداعظم کو اپنا بڑا بھائی قرار دیتے تھے۔ جناب قائد اْن کے وکیل بھی تھے تحریک پاکستان کے دوران والی قلات نے قائدا عظم کو سونے میں تلوایا اور سونا بطور چندہ مسلم لیگ کی نذر کر دیا لیکن اس سب کے باوجود اپنی ریاست میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی تھی۔ کیونکہ سیاست گری اور شعور لازم و ملزوم ہیں جو شرف انسانی اور اس کے حقوق سے باہم مربوط ہوتے ہیں۔ پتھر کے دور میں رہنے والے عوام کے لیے اِن ریاستوں میں اس شعور، شرف انسانی اور حقوق کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس لئے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت کیوں دی جاتی۔
قیام پاکستان کے بعد 1953 تک برٹش بلوچستان والے اپنے علاقے کو باضابطہ صوبہ بنوانے کے لئے سر توڑ کوششیں کرتے رہے، اس وقت کے وزیر سرحدات وقبائلی اْمور محمود حسین نے بڑے وعدے وعید کئے لیکن ہوا کچھ بھی نہیں--- نتیجہ یہ نکلا کہ بلوچستان کا صوبہ بنانے کی بجائے بنگالیوں کی اکثریت کو ختم کرنے کے لئے تخلیق کردہ ’’ون یونٹ‘‘ کا حصہ بنادیا گیا۔ جمہوریت، انسانی شعور، عقل و فہم کے ارتقا کی انتہا اور انعام یہ ہے ہم نے اس کے مسلمہ طریق کار سے انحراف کرتے ہوئے اپنے اقتدار اعلیٰ کو غیر فطری طریقے سے بچانے کے لئے بنگالی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی حماقت کی۔ نتیجہ کیا نکلا؟
دْنیا کی جدید سیاسی تاریخ میں پہلی بار اکثریت ’’ظالم اقلیت‘‘ سے الگ ہو گئی، پاکستان کے حقیقی اور اصل وارث بنگالی ہمیں خدا حافظ کہنے پر مجبور ہوگئے۔ ون یونٹ بنانے والا بھی ایک جرنیل' ایوب خان تھا اور اسے بعداز خرابی بسیار ختم کرنے والا بھی ایک جرنیل یحیٰی خان تھا۔ لیکن اس سفر میں 1969 تک بنگالیوں کو یقین ہوچکا تھا کہ اردو بولنے والی اشرافیہ اور پنجابی مافیا کسی بھی قیمت پر ووٹ کے ذریعے اقتدار اْن کے حوالے نہیں کرے گی۔ بدقسمتی سے 1970 کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے اس وہم، اس خیال کو یقین محکم میں بدل دیا اور پھر چاروناچار مجیب الرحمن کو، جو برملا یہ کہا کرتا تھا کہ جس پاکستان کے لئے میں نے جوانی گنوا دی، کالے بال سفید کئے اس سے جدا کیسے ہو سکتا ہوں-وہ غدار کہلایا، بنگلا دیش کا بانی قرار پایا۔ واہ مالک تیرے رنگ نیارے! یہ کیسا ملک ہے، یہ کیسا سماج تھا جہاں اکثریت اقلیت سے جان چھڑا کر بھاگ گئی۔ ون یونٹ کی تدفین کے بعد آج کا بلوچستان معرض و جود میں آیا- بھان متی کاکنبہ، یہ بلوچستان جو مختلف اجزا پر مشتمل ایسی کھچڑی جسے باہم زبردستی ملا دیا گیا۔ یہ ہماری اجتماعی کوتاہی اور غفلت کی داستان ہے آج کا بلوچستان ہماری بے حسی اور سنگدلی کا حقیقی مظہر 'ناقص انتظامی حکمت عملی اور حماقتوں کا شکار صوبہ جہاں چند خاندان قبائل نہیں صرف چند خاندان اقتدار کے مزے لوٹتے رہے باپ کے بعد بیٹا حکمران رہا لیکن ہوا کیا ۔بدلا کچھ بھی نہیں۔
اختر مینگل اور سردار عطااللہ مینگل جام غلام قادر اور جام یوسف -نواب غوث بخش ریئسانی اور سردار اسلم ریئسانی چیف آف ساراوان ان کے بعد چیف آف جھالا وان نسل در نسل حکمران لیکن بلوچستان کے بلوچوں اور پختونوں کو کیا ملا؟ آج بھی غربت اور جہالت اْن کا مشترکہ ورثہ ہے۔
پختون اور بلوچ نسلی اور لسانی تضادات کے باوجود باہم ہم آہنگ ہو کر صدیوں سے اپنے اپنے علاقوں تک محدود دنیا میں خوش وخرم ہاں اگر کبھی کبھار تنازعہ کھڑا بھی ہوا تو اس کا واحد سبب وسائل کی تقسیم اور ’’مال پانی‘‘ پر پیدا ہونے ازلی و ابدی اختلافات ہوتے تھے جو سگے بھائیوں کوبھی ایک دوسرے سے جدا کر دیتے ہیں۔جائیداد کے تنازعوں میں خون سفید ہوجاتا ہے۔ دولت چیز ہی ایسی ہے بھلا اس سے بلوچوں اور پختونوں کو کیسے استثنا ہوسکتا ہے لیکن ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح ان بلوچ اور پشتون قبائل میں روایتی قبائلی دشمنیوں کا کوئی چلن نہیں تھا۔ جبکہ بلوچ قبائل کی اندرونی سیاست کی وجہ سے خون ریزی ، قتل عام اور جلاوطنیوں کے سلسلے آج تک جاری ہیں۔ان تمام تر تضادات کے باوجود سماجی سطح پرشہروں میں آباد بلوچوں اور پختونوں میں باہم میل ملاپ معمول کا عمل ہے۔ جبکہ پنجاب میں 70 برس گذرنے کے بعد بھی مقامی اور غیرمقامی کی تفریق، سیاست ہو یا سماجی معاملات ختم نہیں کی جا سکی۔ بلوچستان ہماری اشرافیہ کے رویوں کی وجہ سے مسائل میں گھرا ہوا ہے جب حکمرانوں کے روئیے ٹھیک ہو جائیں گے تو باغی بلوچ بھی بندوقیں پھینک دیں گے۔ پہلے بھی بارہا ایسا ہو چکا ہے اب بھی ہو گا صرف دْرست سمت میں پیش قدمی ضرورت ہے۔