ہماری معیشت اور امریکہ کی دوغلی پالیسی

کالم نگار  |  شیخ منظر عالم
 ہماری معیشت اور امریکہ کی دوغلی پالیسی

گذشتہ دنوں پاکستان میںامریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کراچی میں منعقدہ پاک امریکہ اقتصادی تعلقات کے موضوع پرمنعقد ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکی پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کررہے ہیں اور گذشتہ ساٹھ سالوں میں امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں 1.3ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے اور امریکی حکومت مختلف شراکت داروں کے ساتھ مل کر پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ اس سے قبل انکے ایک پیشرو کیمرون منٹر نے بھی اسی طرح کئی مواقعوں پر امریکی خدمات اور امریکی احسانات کا ذکر کیا تھا جس کا جواب میں نے اپنے نوائے وقت کے کالموں میں اسی وقت دے دیا تھا ۔ اب موجودہ امریکی سفیر کے تازہ ارشادات بھی اسی طرح سے ہیں جس طرح ہمارے ارباب اختیارگذشتہ اڑسٹھ سال سے اعدادوشماراور الفاظ کے گورکھ دھندوں میں الجھا کر قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صورتحال کا حقیقی اورزمینی حقائق کیمطابق جائزہ لیا جائے تو امریکہ نے گذشتہ اڑسٹھ سال میں ہمارے ساتھ کیاکچھ نہیں کیا، باوجود کہ ہم نے 1949میں روس کی دعوت کو ٹھکرا کر امریکہ کو اپنا دوست اول قرار دیا مگر آج تک اس نے ہمیشہ ہمارے ساتھ سیاسی معاملات میں ،اقتصادی تعلقات میں اور دفاعی معاملات میں ایک بے وفا محبوبہ کا کردار ہی ادا کیا ہے ۔
امریکی حقیقی معنوں میں پاکستان کیساتھ اقتصادی شراکت داری قائم کرتے تو آج پاکستان کا صنعتی اور پیداواری شعبہ بہت ترقی کرچکا ہوتا۔ جیسا کہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے جس میں روئی بکثرت پیدا ہوتی ہے مگر اس روئی سے بڑ ی مقدار میں کاٹن یارن بناکر خام مال کی صورت میں برآمد کردیا جاتا ہے جس سے پاکستان کو سالانہ کروڑوں ڈالرز کے زرمبادلہ کا نقصان پہنچا ہے اس لئے اگر امریکہ ہم پر کوٹہ اور دیگر ناروا پابندیاں نہ لگاتا اور ہم اپنے اس خام مال سے گارمنٹ، بیڈ شیٹ، تولئے اور دیگر ٹیکسٹائل کی تیار شدہ مصنوعات بغیر کوٹے کے برآمد کرتے جس طرح بنگلہ دیش اور دیگر ممالک امریکہ کو برآمد کرتے رہے ہیں تو اس طرح ہمارا صنعتی اور پیداواری شعبہ بھی کئی درجے ترقی کرچکا ہوتا۔حد تو یہ ہے کہ امریکہ نے خود تو ہمارے ساتھ کیا تعاون کرنا تھا اگر پاکستان نے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اورخالصتاً معاشی اور اقتصادی ترقی کیلئے اورپرامن مقاصد کیلئے فرانس سے ایٹمی ری ایکٹر کا معاہدہ کیا تو ہمارے اس نام نہاد ـ"دوست "نے اس کو منسوخ کرادیا۔ اسکے علاوہ ہمارا یہی "دوست "ایران سے گیس پائپ لائن کے منصوبے پر گذشتہ چار سال سے رکاوٹیں پیدا کررہا ہے اور اب جب چین عملی طور پر پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے آگے بڑھا ہے توہمارا یہ "دوست " اسکی راہ میں بھی روڑے اٹکا رہا ہے حالانکہ اگر فرانس سے ہی ہمیں اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وہ ایٹمی پلانٹ مل جاتا تو آج ہمارے ملک میں سال میں 75فیصد صنعتیں بجلی اور گیس کی عدم فراہمی پر بند نہ ہوتیں۔ہمارے اس دوغلے دوست کی منافقانہ پالیسی تو یہ ہے کہ پاکستان اپنی ٹیکسٹائل کے علاوہ زرعی اور کھانے پینے کی اشیاء بھی امریکہ کو برآمد کرسکتا تھا مگراس میں بھی ہمارا یہ "دوست "کوئی مثبت کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ اسی پر مجھے 1997کا اپنا ایک ذاتی واقعہ یاد آگیا جب مجھے ایک تجارتی میٹنگ کیلئے امریکہ جانے کا اتفاق ہوا تو میری بیگم نے دو تین کلو آم اپنے ساتھ رکھ لئے کہ یہ آم میں اپنے بھائی جو ہیوسٹن میں رہائش پذیر ہے اس کو دوں گی مگر ہیوسٹن ائیر پورٹ پر امریکی کسٹم حکام نے ایک بہن کی خواہش یہ کہہ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دی کہ یہ دنیا کے بہترین آم کی قسم ہے مگر ہم پاکستان سے آئے ہوئے چند آموں کو امریکی حدود میں داخل نہیں ہونے دینگے۔ اس ایک چھوٹے سے واقعے سے آپ امریکہ کی اعلیٰ ظرفی کا مشاہدہ کر سکتے ہیں جبکہ اعدادوشمار کیمطابق آج سے بیس سال پہلے پاکستان سے تقریباً 65فیصد ٹیکسٹائل کی مصنوعات امریکہ برآمد کی جاتی تھیں مگر اب وہ 15 سے 20فیصد بھی نہیں رہ گئی ہیں یہی وجہ ہے کہ مکمل صلاحیتوں کا حامل ہونے کے باوجود پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعتیں 2008سے بحرانی کیفیت کا شکار ہیں اور 2008-2010 کے درمیان پاکستان میں تقریباً دو سے ڈھائی ہزار ٹیکسٹائل مصنوعات بنانے والی صنعتیں بند ہوچکی ہیں۔ ان امریکی پابندیوں کی وجہ سے 75فیصد صنعتیں بینک ڈیفالٹ میں چلی گئی ہیں اور انہوں نے بھاری نقصانات اٹھائے ہیں جبکہ یہی امریکی اس وقت بنگلہ دیش، چین اور دیگر ممالک سے ٹیکسٹائل کی تیار شدہ مصنوعات بھاری تعداد میں درآمد کررہے ہیںجبکہ امریکی ارباب اختیار کے زبانی دعوئوں کے برعکس آج بھی امریکہ نے اپنے تاجروں اور صنعتکاروں کو مسلسل ایک ایڈوائس جاری کی ہوئی ہے کہ وہ پاکستان کا سفر نہ کریں اور پاکستان کے سفر کے دوران انکی انشورنس نہیں کی جاسکتی حالانکہ پاکستان گذشتہ پچاس سال سے عموماً اور اور سابقہ سولہ سترہ سالوں سے خصوصاً امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا ہوا ہے اور ہم ہی نے خود امریکی مفادات کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیا ہوا تھا جو امریکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے انکی جنگ اب ہماری ہی جنگ بن چکی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ ہماری تمام غلامانہ روشوں اور تمام امریکی احکامات من و عن ماننے کے باوجود کوئی امریکی تاجر وصنعتکارپاکستان آنے کو تیار نہیں ہے مگر امریکہ کے ریمنڈ ڈیوس جیسے ہزاروں جاسوس بغیر کسی روک ٹوک کے آجا سکتے ہیںجبکہ امریکہ کے صدر کارٹر ہوں، بش ہوں، کلنٹن ہوں یا موجودہ صدر اوبامہ ہوں وہ تجارت کیلئے اپنے سیکڑوں تاجروں اور صنعتکاروں کیساتھ بھارت جاتے رہے ہیں اورموجودہ صدر اوبامہ تو بھارت سے اپنی سالانہ تجارت کا حجم سو ارب ڈالرز سے بڑھاکر پانچ سو ارب ڈالرز تک لے جانے کیلئے چار دن نئی دہلی میں بیٹھے رہے مگر ان کو اسلام آباد آنے کی توفیق بھی نہ ہوئی۔ اب بھی امریکہ اگر پاکستان کے ساتھ سنجیدگی سے اورحقیقی معنوں میں اپنے دعوئوں کے مطابق تجارتی تعلقات بڑھانا چاہتا ہے تواس کیلئے امریکہ کو اپنی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے اقدامات کرنے ہوں ، اپنے تاجروں و صنعتکاروں کو دیئے جانیوالے منفی مشورے بند کرنے ہونگے ، پاکستانی مصنوعات کی امریکہ میں سپلائی کی بے جا پابندیوں کو ختم کرنا ہوگا اور امریکی اور پاکستانی تاجروں و صنعتکاروں کے ایک دوسرے سے ملنے میں حائل دشواریوں کو دور کرنا ہوگا۔ یہ ایسے اقدامات ہیں جس کیلئے امریکہ کو کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے صرف ایک اعلان سے اور اس کو عملی جامہ پہنانے سے ہمارے اقتصادی اور معاشی تعلقات بہت آگے جاسکتے ہیں کیونکہ پاکستانی تاجر وصنعتکار تو خود چاہتے ہیں کہ پاکستانی مصنوعات امریکہ ، یورپ اور دیگر ممالک میں برآمد ہوسکیں۔ میرا یہ ناصرف یقین ہے بلکہ دعویٰ ہے کہ اگر امریکی سفیر رچرڈ اولسن اپنے ان ارشادات میں مخلص ہیں توپاکستان ضرور ترقی کی منازل طے کرسکتا ہے اس لئے امریکی سفیر رچرڈ اولسن صاحب شروعات کریں اور پاکستان کی ٹیکسٹائل کی تیار شدہ مصنوعات، زرعی اجناس، فروٹ اور ڈیری پراڈکٹ کی امریکی منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں توپھر انہیں PL-480 کے تحت کوئی امداد یا یو ایس ایڈ قسم کا زہریلا انجکشن لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ پاکستان کے تاجر وصنعتکار امریکی تاجر وصنعتکار وں کے ساتھ مل کر معاشی اور اقتصادی تعلقات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرینگے۔ اس وقت جو دہشت گردی کی وبا پھیلی ہوئی ہے اس کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی کیونکہ جب پاکستان میں صنعتوں کا پہیہ چلے گا ، پیداواری شعبہ اپنی کارکردگی دکھائے گا تو پاکستان کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار بھی ملے گا اس سے ملک میں امن وامان قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔