چیئرمین سینٹ کا الیکشن۔۔۔سبھی ایک ہوئے

کالم نگار  |  خالد محمود ہاشمی
چیئرمین سینٹ کا الیکشن۔۔۔سبھی ایک ہوئے

سوئس حکومت نے 20 سال میں 2.5 ارب ڈالر نائیجریا، فلپائن اور میکسیکو کی حکومتوں کو واپس کئے۔ مارکوس کے لوٹے ہوئے 684 ملین ڈالر فلپائن کی حکومت کو واپس ملے۔ ہمارے ہاں لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لئے خط و کتابت سے ہی دل کو بہلایا گیا۔ 1988ء میں بے نامی لین دین کے لئے بھارت میں قانون بنایا گیا مگر ہمارے ہاں اس بارے میں کوئی سوچتا ہی نہیں۔ ہنڈی کا کاروبار عروج پر ہے۔ سوئس حکومت نے ناجائز اثاثے واپس کرنے کا قانون 2010ء میں پاس کیا تھا جسے ہماری وزارت خزانہ، نیب اور ایف بی آر کے تھنک ٹینک پڑھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کر سکے۔ کسی کو درد دل ہو تو کچھ کرے!
وہ دور اور تھا جب مزدور اصلاحات کے لئے لیبر پالیسی بنتی تھی بھٹو نے معاشرہ میں استحصال کو دیکھتے ہوئے سوشلزم کی بات کی تھی جسے بعد میں اسلامی مساوات اور اسلامی سوشلزم کہا جانے لگا۔ بھٹو نے نیشنلائزیشن کی طرف قدم بڑھائے یہ عمل بھی انتہا پسندی تھی۔ کسی کی پراپرٹی پر اپنا بورڈ سجا دینا کون سا انصاف ہے۔ بھٹو کے بعد فوجی آمریت نے بھٹو کے نام نہاد اسلامی سوشلزم پر پانی پھیر دیا اور ڈی نیشنلائزیشن کا عمل شروع ہوا جسے نج کاری کا نام دیا گیا۔ نج کاری پر کتابیں لکھی گئی ہیں آج کل پھر نج کاری کے خلاف واپڈا مزدور سراپا احتجاج ہیں۔ بھٹو دور کے خاتمے کے بعد سے اب تک مزدور، استحصالی دور کی واپسی کے خلاف سراپا احتجاج رہے ہیں لیکن ان کا احتجاج ہمیشہ ہی صدا بصحرا ثابت ہوا۔ شریف حکومت کے تیسرے دور میں تیل اور گیس کی نجکاری پہلے نمبر پر ہے۔ حالانکہ او جی ڈی سی ، ایس این جی پی ایل اور پی ایس او منافع بخش ادارے ہیں۔ تیل اور گیس صارفین کی بنیادی ضرورت ہے۔
اسے ہر قیمت پر خریدنے کو تیار رہتے ہیں گذشتہ دنوں کے بحران میں بلیک میلروں نے 300 روپے لٹر تک پٹرول بیچا تھا۔ اتنے بڑے بحران کی سزا کسی کو بھی نہ ملی۔ ملازمت سے معطلی یا تبادلہ کوئی سزا نہیں۔ افسر کو او ایس ڈی بنا دینا اسے آرام فراہم کرنا ہے، اصل سزا ملازمت سے برخواست کرنا اور اس کی ناجائز کمائی کو بحق سرکار ضبط کرنا ہے۔ سول ایوی ایشن بھی نج کاری کی ہٹ لسٹ پر ہے۔ 1998ء میں ایشیائی ترقیاتی بنک نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ نج کاری کے بعد صرف 22 فیصد ادارے صحیح کام کر رہے ہیں۔ نجی مالکان کو مزدور کی خوشحالی نہیں منافع عزیزہوتا ہے۔ منافع کے لالچ میں تو بڑے بڑے سٹور ایکسپائری ڈیٹ والی ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء بیچ ڈالتے ہیں شادی ہالوں اور ہوٹلوں کے لئے مردار گوشت سپلائی ہوتا ہے۔
شریف حکومت نے آتے ہی 32 اداروں کے شیئرز بیچنے کا فیصلہ کیا جن میں پی آئی اے اور پاکستان سٹیل بھی شامل ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بھی نج کاری کا حصہ بنیں گی۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نج کاری کے خلاف ہیں۔ سینٹ کے انتخابات میں ن لیگ دوسرے اور پیپلز پارٹی پہلے نمبر پر رہی ہے نج کاری کے باب میں دونوں ایک پیج پر نہیں رہیں۔البتہ نام نہاد جمہوریت بچانے اور باریاں لینے کے لئے وہ ایک پیج پر دکھائی دیتی ہیں۔اب سینٹ کے چیئرمین کا انتخاب ہوا تو دونوں ایک ہوگئے۔ حکومت کی خوش قسمتی اور مزدوروں کی بدقسمتی ہے کہ آئی ایم ایف نج کاری لسٹ میں شامل 32 اداروں کو اوکے کرچکی ہے۔
حکومت وہی کرتی ہے جس کے لئے اسے آئی ایم ایف سے گرین سگنل مل جاتا ہے۔ حکومت اپنے مفادمیں اٹل فیصلے کرتی ہے۔ دھرنے اور احتجاجی ریلیاں اس کے لئے رکشے کے شور سے زیادہ نہیں ہوتیں۔ اکنامکس کے طالب علم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں سرمایہ داری نظام جڑیں پکڑ چکا ہے۔ نئی سے نئی ہائوسنک سکیموں کا جال پھیلتا جا رہا ہے۔ مہنگے ترین تعلیمی ادارے اور میڈیکل کالج وجود میں آرہے ہیں۔ غریب طالب علموں نے تو ایچی سن کالج کی دیوار تک نہیں دیکھی۔ ہم پاکستان کو ویلفیئر سٹیٹ بنانے کا صرف خواب دیکھ سکتے ہیں۔ ضیا دور کے بعد سے آج تک پاور جنریشن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ سارے منصوبے پائپ لائن میں ہیں جنہیں دیکھا نہیں جاسکتا ۔
ان کے بارے میں خبریں پڑھی اور سنی جاسکتی ہیں۔ بجلی کی ترسیل کا نظام از کار رفتہ ہے بجلی کا بریک ڈائون کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی واپڈا، پی آئی اے، ریلوے، سٹیل مل جاندار ادارے ہوا کرتے تھے اب ردی اخباروں کے بنڈل دکھائی دیتے ہیں۔ سرکاری اداروں پر ایک ہی الزام عائد ہوتا ہے کہ وہاں اوور سٹافنگ ہے۔ سیاسی بھرتی نے ان اداروں کو نڈھال کیا وغیرہ وغیرہ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان اداروں کے ڈرائیور سارا ڈیزل بیچ کھائیں تو پھر گاڑی کہا چل سکتی ہے۔ڈیزل بھرا ہو تو گاڑی فراٹے بھرتی چلی جاتی ہے۔