امّہ کا اتحاد

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
 امّہ کا اتحاد

محترم وزیر اعظم صاحب سعودی عرب کا تین روزہ دورہ مکمل کر کے پچھلے ہفتے وطن واپس تشریف لا چکے ہیں۔یہ دورہ کئی لحاظ سے مسلم امہ اور پاکستان کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔اس دورے کی خصوصی بات یہ تھی کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان تمام سیکورٹی خدشات اور پروٹوکول کی ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر بنفس نفیس جناب وزیر اعظم پاکستان کا استقبال کرنے کیلئے ائیر پورٹ پر تشریف لائے۔انکے ساتھ اہم وزراء اور شہزادگان بھی موجودتھے اور یہ بڑی غیر معمولی بات ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔مزید یہ کہ یہ ملاقات شاہ سلمان کی ذاتی دعوت پر ہوئی۔شاہ سلمان کو ملکی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ابھی کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اس عر صہ میں باراک اوبامہ سمیت مصر کے صدر جنرل السیسی ،ترکی کے صدر طیب اردگان اور قطر کے امیر بھی سعودی شاہ سے ملاقات کرچکے ہیں۔ ان اہم شخصیات کے دوروں کے بعد جناب وزیر اعظم پاکستان کو خصوصی دعوت کے ذریعے بلا کر مشورہ کرنا کسی اہم مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ کیونکہ اسوقت خطے میں اہم تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جن میں سب سے زیادہ متاثر مسلمان ممالک ہیں۔ شاہ سلمان خادم حرمین شریف ہونے کے ناطے مسلم امہ کے روحانی لیڈر بھی ہیں۔ مسلم امہ میں اتفاق پیدا کرنا، انہیں غیر ضروری خونریزی سے بچانا اور ان کی بہتری کیلئے کام کرنا شاہ کے فرائض میں شامل ہے۔
جناب وزیر اعظم صاحب اور شاہ سلمان کی ملاقات میں ویسے تو کئی موضوعات زیر بحث آئے جن میں سیکورٹی، دفاعی خدشات، بنیادی انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون پر زور دیا گیا لیکن سب سے اہم بات شاہ کا یہ اعلان تھا کہ ’’دہشت گردی دونوں ممالک کی مشترکہ دشمن ہے اور مشترکہ طور پر ہی اس دشمن سے نبٹا جائیگا‘‘ یہی اسوقت مسلم امہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ شام میں باغی ، عراق اور شام میں داعش ،یمن میں القاعدہ اور پاکستان میں طالبان نے ان ممالک میں خونریزی پھیلا رکھی ہے۔اس دہشتگردی سے خلیجی ممالک ،سعودی عرب، مصر،شام ، عراق ،یمن ،ایران اور ترکی تک محفوظ نہیں۔ اس لئے تمام مسلم ممالک کو مل کر اس خطرے سے مقابلہ کرنا چاہیے اور یہی سعودی عرب کا مقصد نظر آتا ہے ۔یہ بھی تقدیر کا عجیب مذاق ہے کہ پاکستان مجاہدین اور طالبان کا خالق مانا جاتا ہے اور اب یہی طالبان پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیں ۔اسی طرح داعش کی تخلیق میں سعودی عرب شامل تھا اور اب یہی داعش سعودی عرب کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ سعودی عرب کی اپنی دفاعی صلاحیت شاید داعش کو شکست دینے کی پوزیشن میں نہیں ۔ گو سعودی عرب تمام مسلمان ممالک کیساتھ اپنے سیاسی اور دفاعی تعلقات مضبوط بنا رہا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام مسلمان ممالک میں سے پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سے مشکل وقت میں فوجی امداد ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے اس لئے وزیر اعظم پاکستان کو خصوصی پروٹوکول دیا گیا اور تعلقات یقیناً مستقبل میں اور زیادہ مضبوط ہونگے۔
یہاں یہ بات بھی خصوصی طور پر ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات نئے نہیں ۔دونوں ممالک پاکستان کے یوم پیدائش سے لیکر آج تک برادر مسلم ممالک ہونے کی وجہ سے سیاسی، معاشی، مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی رشتوں میں منسلک ہیں ۔ہر پاکستانی کے دل میں اس مقدس سر زمین کا نہ صرف بہت احترام ہے بلکہ ہر پاکستانی اس سر زمین کی خدمت کرنا اپنا فرض تصور کرتا ہے ۔یہ احترام کا رشتہ بہت گہرا ہے جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا نہیںہونے دیتا۔ دونوں ممالک فطری دوست اور جڑواں بھائی ہیں۔سعودی عرب نے ہر مشکل مر حلہ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے ۔ہر قسم کی مدد کی ہے۔
 ابھی ڈیڑھ سال پہلے جب ہماری معاشی حالت بہت خراب تھی تو سعودی شاہ نے ڈیڑھ بلین ڈالر کی امداد دے کر ہمیں اس مشکل سے نکالا تھا جس کیلئے ہم واقعی سعودی عرب کے شکر گزار ہیں ۔اسوقت کئی ہزار پاکستانی سعودی عرب میں کام کر کے روزی کما رہے ہیں جو کہ پاکستان کی سب سے بڑی مدد ہے۔ مجھے خود وہاں سعودی ملٹری اکیڈیمی میں تین سال خدمات کا موقع ملا۔
 سعودی پاکستانیوں کی کتنی عزت کرتے ہیں ایک ذاتی واقعہ پیش خدمت ہے۔ اکیڈیمی میں ایک دن جب کیڈٹس کو پڑھا رہا تھا تو لفظForeignerانہیں سمجھ نہیں آرہا تھا ۔جب با ر بار سمجھانے کے باوجود یہ لفظ میں نہ سمجھا سکا تو میں نے اپنی مثال دی یعنی ’’میں آپکے ملک میں Foreigner ہوں‘‘۔اس پر ایک کیڈٹ نے کھڑے ہو کر جواب دیا کہ:No sir.
You are not a foreigner in Saudi Arabia.It is your second home.  
’’نہیں سر آپ اس ملک میں غیر ملکی نہیں ہیں۔یہ آپکا دوسرا گھر ہے۔‘‘
میں ذاتی طور پر اس بات سے بڑا متاثر ہوا لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ سارے سعودی ہی اسی طرح کے تھے ۔بعد میں کچھ بہت تلخ تجربات بھی ہوئے لیکن یہ اسوقت ہوئے جب بہت سے ہندوستانی وہاں آچکے تھے اور ہندوستانی فلموں کی مارکیٹ میں بھر مار تھی ۔ان سب باتوں کے باوجود دونوں ممالک کی دوستی اور تعلقات بہت فطری ہیں۔ ذاتی طور پر تلخ تجربات کے باوجود پاکستانیوں کے دل میں جو اس سر زمین کی عزت ہے اسے نکالا نہیں جا سکتا۔
شاہ سلمان کی مصر ،ترکی ،قطر اور پاکستان کے راہنمائوں سے ملاقات امہ کی بہتری اور اتفاق کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جو وقت کی ضرورت بھی ہے لیکن اس سے ایک منفی تاثر بھی ابھرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ شاہ نے اب تک ایران کو نظر انداز کیا ہے جو کہ خطے کا ایک بہت ہی اہم ملک ہے اور اسکے بغیر کوئی اتحاد کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ان ممالک کے راہنمائوں سے ملاقاتوں سے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ شاید یہ ایران کے گرد گھیرائو ڈالا جا رہا ہے۔ایران اہل تشیع مسلمانوں کا لیڈر ہے۔ ایران با عزت اور خودار ملک ہے جو امریکہ اور مغربی دنیا سمیت کسی کی دھونس دھاندلی قبول نہیں کرتا ۔یہاں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ کسی اور مسلمان ملک میں امریکہ اور مغرب کے سامنے ایران کی طرح سینہ تان کر کھڑے ہونے کی جراٗت نہیں ۔ ایران اسوقت ایٹمی توانائی حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے جس میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔ ایران کے ایٹمی طاقت بننے سے اسرائیل، سعودی عرب اور خلیجی ممالک بہت خوفزدہ ہیں اس لئے یہ تمام ممالک ایرانی خواہشات کیخلاف ہیں۔ اسرائیلی عداوت تو سمجھ آتی ہے لیکن سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی مخالفت مسلم امہ کے اتفاق میں دراڑ کے مترادف ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے حال ہی امریکہ جا کر کانگریس میں ایرانی بم کے متعلق بہت شور مچایا ہے لیکن اوبامہ نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔
ایٹمی توانائی پر ایران اور امریکہ میں مذاکرات چل رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ نگاروں کی نظر میں اس ماہ کے آخر تک معاہدہ ہونے کا امکان ہے جو کہ اسرائیل کیلئے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ عرب ممالک کا خوف بھی اپنی جگہ قائم ہے۔شاید اسی خوف کے پیش نظر شاہ سلمان یہ پیش بندی کررہے ہیں اور اگر یہ خدشات درست ہیں تو پاکستان کو بہت احتیاط سے قدم اٹھانا ہوگا۔ کسی مغربی مفکر نے سچ کہا تھا :’’ مسلمان اتحاد کی قوت سے عاری ہیں۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن انکے اپنے ہی دینی بھائی ہیں ۔‘‘