نریندر مودی کی اشتعال انگیزی

کالم نگار  |  قیوم نظامی
نریندر مودی کی اشتعال انگیزی

برصغیر کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ اس خطے میں مختلف شکلوں میں انتہا پسندی فروغ پارہی ہے۔ ریاست پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے چیلنجوں کا سامنا ہے جبکہ بھارت کے شہریوں نے انتہا پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی کو اپنا وزیراعظم منتخب کرلیا۔ گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت میں مودی نے جس دہشت گردی اور انتہا ءپسندی کا عملی مظاہرہ کیا تھا اس پر خود امریکہ نے ر دعمل کے طور پر مودی کو امریکی ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ بھارت کی سول سوسائٹی کا خیال تھا مودی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد بھارت کے وسیع تر قومی مفاد میں اعتدال کی سیاست کرینگے مگر افسوس نریندر مودی اپنی انتہا پسندی کی پالیسی پر گامزن ہیں اور یہ ثابت کررہے ہیں کہ شاید وہ وزیراعظم بننے کے اہل ہی نہیں تھے۔ وہ جس انداز سے بھارت کی قیادت کررہے ہیں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ شاید اپنی ٹرم پوری نہ کرسکیں۔ پاکستان نے انکی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے مگر مودی پاکستان کے جذبے کی قدر کرنے کی بجائے پاکستان اور مسلمان دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ گئے ہیں کہ پاکستان کو کھلم کھلا دھمکیاں دینے لگے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے دورے کے دوران 1971ءمیں پاکستان کیخلاف بھارتی افواج کی جارحیت پر فخر کا اظہار کیا۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم نے بھی پاکستان دشمنی کا اظہار کرنے کیلئے مودی کو وہ پورٹریٹ پیش کی جس میں بھارت اور پاکستان کے جرنیل سرینڈر کی دستاویز پر دستخط کررہے ہیں۔ یہ رویے انتہا پسند انہ اور اشتعال انگیز ہیں جن سے خطے کا امن خطرے میں پڑسکتا ہے۔ بھارت کے ایک وزیر نے پاکستان کو جارحیت کی کھلی دھمکی دے دی۔ بھارت کی حکمران اشرافیہ اور میڈیا کو اپنے وزیراعظم کی بلاجواز اشتعال انگیزی کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیئے۔جب کانگرس نے مودی کے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا تو اس پر پاکستان دوستی کا الزام لگادیا گیا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی جناب سرتاج عزیز نے پالیسی بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم مودی اور انکی کابینہ کے وزراءکے بلا جواز انتہا پسندانہ اور معاندانہ بیانات سے پاکستان کا مو¿قف سچ ثابت ہوگیا ہے کہ بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ بھارت کے سیاستدان نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کیخلاف اقدامات میں ملوث ہوئے بلکہ ان پر فخر کا اظہار بھی کررہے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے بنگلہ دیش میں بھارت کے سلامتی کونسل کا رکن بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ سوال یہ ہے ایسا ملک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن کیسے بن سکتا ہے جو خود جموں و کشمیر کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ جناب سرتاج عزیز کا ردعمل متوازن تھا۔ اگر بھارت کشمیر کا تنازعہ حل کرلے تو جنوبی ایشیاءمیں مستقل امن قائم ہوسکتا ہے اور بھارت کا عالمی طاقت بننے کا خواب بھی پورا ہوسکتا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم نہرو خود 3جنوری 1948ءکو کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ میں لے کرگئے تھے اور اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر بعد میں وہ مکر گئے۔ بھارت فوجی طاقت سے کشمیریوں کو غلام رکھنے کی کوشش کررہا ہے مگر تاریخ کا سچ یہ ہے کہ فوجی طاقت سے لوگوں کو زیادہ عرصہ غلام نہیں رکھا جاسکتا۔ برطانیہ، روس اور امریکہ نے فوجی طاقت سے افغانیوں کو غلام بنانے کی کوشش کی مگر ان کو افغانستان سے بے آبرو ہوکر نکلنا پڑا۔ بھارت اور پاکستان دونوں کا مستقبل کشمیر کے پر امن منصفانہ حل میں ہے۔ پاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے نریندر مودی کو اسی زبان میں جواب دیا ہے جس کو وہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ آئی ایس بی آر کےمطابق افواج پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ہندوستانی بیانات یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہیں۔ ملکی سلامتی کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائیگا اور کسی کو پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے نہیں دینگے۔
پاکستان کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی نے بھی بڑی جرا¿ت اور دلیری کےساتھ بھارتی حکومت کے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کی ہے۔ عمران خان، آصف علی زرداری اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی بھارتی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینٹ نے بھارت کے وزیراعظم کے بیان کےخلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کی ہے اور حکومت سے یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں اُٹھانے کی سفارش کی ہے۔ قومی اسمبلی نے بھی ایک قرارداد منظور کرکے نریندر مودی کے بیان کی مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ سے ان بیانات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے سفیروں کی کانفرنس میں بھارتی حکمرانوں کے نفرت انگیز بیانات کے بارے میں دوٹوک مو¿قف اختیار کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نریندر مودی تسلسل کےساتھ پاکستان کےخلاف زبانی اور سرحدی اشتعال انگیزیاں کیوں کررہے ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے مفاہمت اور رواداری کا اظہار کیا جارہا ہے۔ نریندر مودی اپنی طبیعت اور فطرت کے اعتبار سے شدت پسند ہیں جس کا اعتراف وہ خود کرتے ہیں۔ پاکستان کیخلاف نفرت انگیز بیانات دیکر مودی اپنی جماعت کی مقبولیت قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں جو روز بروز گرتی جارہی ہے۔ مودی پریشان ہیں کہ انکے دور حکومت میں کشمیری عوام احتجاجی مظاہروں میں پاکستانی پرچم لہرانے لگے ہیں۔ بھارت کا افغانستان میں اثر و رسوخ کم ہورہا ہے۔ افغان انٹیلی جینس اور آئی ایس آئی کے درمیان مفاہمتی معاہدے نے بھارتی حکمرانوں کے ہوش اُڑا دئیے ہیں۔ بھارتی ایجنسی را نے اس معاہدے کو غیر مو¿ثر بنانے کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے نے بھارتی حکمرانوں کی رات کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان معاشی طور پر اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوجائے۔ نریندر مودی نے چین کی قیادت سے اس تاریخی منصوبے پر احتجاج کیا تھاجسے چین نے مسترد کردیا۔ بھارت اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔ بھارت ضرب عضب کی کامیابی سے بھی فکر مند ہے اور چاہتا ہے پاکستان کے اندر خون بہتا رہے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان اسکی سکیورٹی کونسل کا رکن بننے میں رکاوٹ نہ بنے۔ پاکستان اپنے اصولی مو¿قف پر قائم ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم نہ کرنیوالا ملک سکیورٹی کونسل کا رکن کیسے بن سکتا ہے۔
بھارتی حکمرانوں کو جان لینا چاہیئے یہ 1971`ءنہیں ہے نہ ہی پاکستان بنگلہ دیش ہے جو جی ایچ کیو سے ایک ہزار میل کے فاصلے پر تھا اور جس کے اندر بھارتی اثرورسوخ بہت زیادہ بڑھ چکا تھا۔ آج پاکستان نہ صرف ایٹمی قوت ہے بلکہ اس کا دفاع ہر حوالے سے ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے قابل ہے۔ پاکستانی قوم اگرچہ مختلف نوعیت کی مشکلات اور مصائب کا شکار بنے مگر وہ قومی سلامتی اور دفاع کے سلسلے میں متحد اور منظم ہے اور اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان اس جنوبی ایشیاءکا حصہ ہے جس سے عالمی طاقتوں کی گہری دلچسپی اور مفاد وابستہ ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد جب بھارتی حکمرانوں نے مغربی پاکستان پر حملے کا منصوبہ بنایا تو امریکی صدر نکسن نے روسی صدر برزنیف کو ہاٹ لائین پر رابطہ کرکے انتباہ کیا کہ مغربی پاکستان پر حملہ امریکہ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ 2002ءمیں بھارتی افواج نے پاکستان کی سرحد پر پوزیشنیں سنبھال لیں۔ پاکستان کی افواج بھی صف آراءہوگئیں۔ ایٹمی جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ معروف مصنف سٹینلے والپورٹ کے مطابق امریکہ نے بھارتی جنون کے خاتمے کیلئے عالمی ٹورسٹوں کو بھارت نہ جانے کا انتباہ کیا۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے امریکی اشارے پر اپنے دفاتر بند کرکے بھارت سے سرمایہ منتقل کرنا شروع کردیا۔ اس طرح بھارت کا غرور ختم ہوا اور اس نے اپنی افواج کو سرحدوں سے واپس بلالیا۔ نریندر مودی پاکستان کےخلاف اشتعال انگیز بیان جاری کرکے ریٹنگ بڑھانے کی بجائے عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں۔ فیس بک کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس (ر) مارکنڈے کا ٹجو امریکہ اور کینڈا میں مقیم بھارتی شہریوں کو انتباہ کررہے ہیں کہ وہ دس پندرہ سال بھارت واپسی کا خیال دل سے نکال دیں کیونکہ بھارت کرپشن کے علاوہ مختلف سماجی ، معاشرتی اور معاشی مسائل کا شکار ہے۔ سنگین حالات کے پیش نظر وزیراعظم میاں نواز شریف پاکستان پر رحم کریں اور فل ٹائم وزیر خارجہ مقررکریں تاکہ سفارتخانوں کو متحرک و فعال بنا کر بھارت کی سازشوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔