عمرا ن خان کی سیاست

کالم نگار  |  رحمت خان وردگ....
عمرا ن خان کی سیاست

خیبرپختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات میں خون خرابہ ہوا اور پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ فساد والے الیکشن ہوئے اور الیکشن کے بعد عمران خان نے تمام تر حالات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈال دی حالانکہ یہ درست نہیں۔ صوبائی حکومت کو چاہئے تھا کہ مرحلہ وار الیکشن منعقد کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کو لکھتی کیونکہ ایک دن میں ہر ووٹر 7پرچیوں پر مہر لگانے سے کنفیوژ ہوگیا تھا اور اسکے علاوہ پولیس و انتظامیہ صوبہ بھر میں سیکورٹی انتظامات نہیں کرسکی۔ صوبائی حکومت اپنے سیکورٹی انتظامات کے مطابق الیکشن کمیشن کو مرحلہ وار الیکشن کا شیڈول دیتی تاکہ خون خرابے سے بچا جاسکتا۔ اب عمران خان کی جانب سے دوبارہ فوج کی نگرانی میں الیکشن کے انعقاد کا اعلان اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے ہے۔ صوبائی حکومت تحریری طور پر الیکشن کمیشن سے فوج اور رینجرز کی تعیناتی کا تحریری مطالبہ کرتی تو یقینی طور پر الیکشن کمیشن فوج کی نگرانی میں الیکشن کراتا لیکن صوبائی حکومت نے بلدیاتی الیکشن میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں جس کے باعث درجنوں معصوم جانوں کا ضیاع ہوا۔ لازمی بھی نہیں تھا کہ ایک ہی دن میں تمام 7پرچیوں کی ووٹنگ کرائی جائے‘ 2-3دنوں تک مرحلہ وار ووٹنگ کرائی جاتی اور اسکے بعد ایک ساتھ نتائج کا اعلان کیا جاتا تو بہتر تھا۔
بہرحال عمران خان نے فوج کی نگرانی میں دوبارہ الیکشن پر آمادگی ظاہر کرکے اپوزیشن کو مطمئن کرنے اور اتفاق رائے کے حصول کیلئے آل پارٹیز کانفرنس طلب کی لیکن اپوزیشن نے اس آل پارٹیز میں شرکت نہ کرکے غلط کیا کیونکہ جب حکمران جماعت ری الیکشن کیلئے تیار تھی اور آل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی گئی تھی تو اس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو شرکت کرنی چاہئے تھی تاکہ ری الیکشن پر اتفاق رائے پیدا کرکے اس کا اعلان کیا جاتا لیکن انہوں نے سیاسی طریقے سے معاملے کو انجام تک پہنچانے کے بجائے سڑکوں پر دنگا فساد کا راستہ اختیار کرلیا ہے لیکن اپوزیشن کا اپنا کردار عوام کی نظروں میں مکمل طور پر عیاں ہے اس لئے 10 جون کو K.P.K. میں اپوزیشن جماعتوں کی اپیل پر کوئی ہڑتال نہیں ہوئی بلکہ زبردستی دکانیں بند کرانے کی کوششیں بھی ناکام ہوئیں۔ میرے خیال میں اپوزیشن جماعتیں حقیقی طورپر ری الیکشن نہیں چاہتیں اور اس معاملے پر صرف سیاست کی جارہی ہے کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ ماضی میں انہوں نے عوام کا جو حشر کیا تھا اس لئے انہیں دوبارہ ووٹ نہیں ملے گا۔ میرے خیال میں تو ری الیکشن سے تحریک انصاف مزید زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کرلے گی۔جس ملک میں روزانہ 10ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے وہاں اگر کسی صوبے میں سیاسی استحکام کیلئے ری الیکشن پر 1ارب روپے خرچ کرنا پڑیں‘ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔K.P.K. میں تحریک انصاف کی جانب سے بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز کا 40%اور اراکین اسمبلی کو 60% دینے کا فیصلہ انتہائی غلط ہے کیونکہ اراکین اسمبلی کا کام صرف اور صرف قانون سازی کرنا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں 2مرتبہ بلدیاتی الیکشن کرائے اور مثالی نظام رائج کیا جس سے ملک بھر میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے اور مکمل ترقیاتی فنڈز کا استعمال بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے ہوا۔ عمران خان کوئی بھی نام رکھ کر جنرل مشرف والا بلدیاتی نظام رائج کرتے تو بہت بہتر تھا۔
بھٹو صاحب کےخلاف قومی اتحاد کی تحریک میں ایئرمارشل اصغر خان بھی عوام میں اسی طرح مقبول شخصیت تھے جس طرح اب عمران خان ہیں اور میڈیا میں دونوں کو بھرپور کوریج ملی لیکن میڈیا کی زینت بننے سے انتخابات میں فتح لازمی نہیں جس کا ثبوت ماضی میں بھی اور اب بھی ہمیں ملا ہے۔ 1977ءکی تحریک میں شامل وہ جماعتیں جو بعد میں ضیا ءالحق کی کابینہ میں شامل ہوئیں وہ فوج سے ملی ہوئی تھیں اسلئے اس تحریک سے صرف وزیراعظم کو ہٹایا جاسکا باقی ملک کے عوام کو اس تحریک سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور عوام کا معیار زندگی مزید بدتر ہوتا چلا گیا۔ عمران خان نے بھی دھرنے کے دوران امپائر کے اشارے کی بات بار بار دُہرائی تو امپائر کون تھا؟ عمران خان نے یہ بات کرکے اپنے دھرنے کی اہمیت مزید کم کردی اور جب انہوں نے یہ بات روز کا معمول بنالی تو تمام سیاستدان ایک ہوگئے اور عوام میں یہ تاثر گیاکہ یہ دھرنا بھی ”کسی“ کے کہنے پر دیا گیا ہے مگر ایک بات واضح ہے کہ ان تمام معاملات سے فوج نے خود کو مکمل طور پر علیحدہ رکھا ۔ جنرل راحیل شریف کی تمام توجہ صرف ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کی جانب مبذول ہے۔ چین نے بھی فوج پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کرکے اقتصادی راہداری سمیت درجنوں منصوبوں کا اعلان کیا جس کا سہرا آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے سر جاتا ہے جنہوں نے چینی انجنیئرز اور عملے کی مکمل سیکورٹی کے لئے فوج کے دستے تعینات کرنے کا اعلان کیا۔جنرل راحیل شریف پر امریکہ‘ چین‘ برطانیہ اور سری لنکا سمیت دنیا بھر کے ممالک اعتماد کرتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کی خودمختاری پر ذرا بھر آنچ نہیں آنے دیتے۔
عمران خان نے کئی یوٹرن لئے ہیں۔ چیئرمین نادرا سے ملاقات کرکے ایاز صادق کے حلقے کی رپورٹ میڈیا کودکھائی اور یہ تاثر دیا کہ انہیں چیئرمین نادرا نے یہ رپورٹ دی ہے لیکن جب چیئرمین نادرا کی جانب سے اسکی پرزور تردید سامنے آئی توعمران خان نے کہا کہ یہ رپورٹ ہمیں چیئرمین نادرا نے نہیں‘ بلکہ الیکشن ٹریبونل نے دی ہے ۔اس طرح کے یوٹرن سے انکی ساکھ بہت متاثر ہوئی ہے ۔عمران خان کے یوٹرن اور K.P.K.بلدیاتی انتخابات میں صوبائی حکومت کی نااہلی کے باعث عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف گرا ہے جس کا ثبوت گلگت بلتستان الیکشن میں ن لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔منڈی بہاﺅ الدین کے ضمنی انتخابات میں بھی مسلم لیگ ن کو واضح فتح حاصل ہوئی اور حکمران جماعت نے تمام سیاسی جماعتوں کو مات دیدی ۔ عمران خان کو اپنی سیاست پر نظرثانی کرنی چاہئے اور عملی طور پر پارٹی کی خامیوں اور خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت کی ناکامیوں کے خاتمے پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔