جسٹس فار زینب، باضمیر باوقار اصغر خان

کالم نگار  |  قیوم نظامی
جسٹس فار زینب، باضمیر باوقار اصغر خان

بلّھے شاہ کے شہر قصور میں معصوم بچی زینب کے المناک سانحہ نے پورے پاکستان کو سوگوار کردیا ہے۔ ایک انسان نما وحشی درندے نے زینب کو اغوا کیا اسے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا اور اسے قتل کرکے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ قصور میں اس نوعیت کے سنگین واقعات پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں مگر افسوس صد افسوس ہمارے سکیورٹی کے ادارے اور خفیہ ایجنسیاں وحشی مجرموں کو گرفتار کرنے اور عدالتیں ان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام رہی ہیں۔ جس سماج میں کڑا احتساب اور کڑی سزائیں نہ ہوں اس سماج میں جرائم تیزی سے پھیلتے ہیں اور پھر معصوم بچے بھی محفوظ نہیں رہتے۔ زینب کا اندوہناک سانحہ ہمارے اجتماعی شعور، ریاستی نظام، سیاست، منبر و محراب، صحافت، تعلیمی اداروں، خاندانی نظام اور عدالت کیلئے تازیانہ اور لمحۂ فکریہ ہے۔ روایت پڑچکی ہے کہ جب کوئی دلدوز سانحہ ہوتا ہے منصب دار ’’فرض کفایہ‘‘ کی طرح اس کا ’’نوٹس‘‘ لیتے ہیں اور جے آئی ٹی تشکیل دے کر اقتدار کی مصلحتوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ تیس سالوں کے دوران کوئی ایک سانحہ بھی ایسا نہیں ہے جسے منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہو۔ جو لوگ سرعام پھانسیوں کیخلاف ہیں وہ طاغوتی ذہن کے مالک ہیں اور خدائی انصاف میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جن ملکوں میں کڑی سزائیں دی جاتی ہیں وہاں پر جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ سعودی عرب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ خالق کائنات نے قتل کی سزا قتل رکھی ہے مگر ہمارے ’’روشن خیال‘‘ جزا اور سزا کے خدائی نظام کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور متبادل مؤثر نظام عدل دینے سے بھی قاصر ہیں۔ بدعنوان مقتدر اشرافیہ انسانی حقوق کے نام پر سزائے موت کی اس لیے مخالفت کرتی ہے تاکہ وہ خود اور اس کے حواری سزائے موت سے بچ جائیں۔ تحقیقی رپورٹوں کے مطابق سزائے موت پر عملدرآمد روکنے سے جرائم میں اضافہ ہوا ہے مگر مجرمانہ ذہنیت کی حامل مقتدر اشرافیہ نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ اگر افواج پاکستان، عدلیہ اور انتظامیہ زینب کے المیہ کو ٹیسٹ کیس بنا کر مجرموں کو سرعام پھانسی دینے پر یکسو ہوجائیں تو وحشیانہ سانحوں اور المیوں کو روکا جاسکتا ہے۔

امن و امان کا قیام اور شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے۔ اللہ اور عوام کی نظر میں شریف برادران کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ پنجاب کے عوام کو پروفیشنل، اہل، آزاد، غیر سیاسی اور عوام دوست پولیس نہیں دے سکے۔ سانحہ ماڈل ٹائون، فیض آباد دھرنا اور سانحہ قصور حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پولیس ہجوم کو کنٹرول کرنے کی اہل نہیں ہے اور عوام کو سیدھی گولیاں مارتی ہے۔ پنجاب کے عوام اگر اپنی اور اپنے بچوں کی جان و مال اور عزت کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ان کا پہلا مطالبہ غیر سیاسی اورعوام دوست پولیس ہونا چاہیئے۔ مسلم لیگ(ن) کے متوالے اللہ سے ڈریں اور اپنے لیڈروں کی خوشامد کے بجائے ان سے جان و مال کے تحفظ کی گارنٹی مانگیں۔ پاکستانی سماج وحشانہ ہوتا جارہا ہے۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں۔ انہیں کسی صورت تنہا نہ چھوڑیں اور قریبی عزیزوں پر بھی اعتماد نہ کریں۔ پاکستان کے غریب عوام لاوارث ہوچکے ہیں۔ ان کیلئے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ’’خونی انقلاب‘‘ کی پیشین گوئی پوری کردکھائیں۔ عوام دشمن مفاد پرستوں کو چن چن کر عبرت کا نشان بنادیں تاکہ معصوم اور بے گناہ مقتولوں کی روحوں کو قرار اور چین نصیب ہو۔ جب تک معصوم زینب کے والدین کو انصاف نہیں ملے گا اس کی روح ہر اس گھر کو تڑپاتی رہے گی جس گھر میں معصوم بچے رہتے ہیں۔ عزیزم اکمل اویسی نے ہم سب کی بیٹی زینب کے بارے میں ایک نظم ارسال کی ہے۔
نیلی آنکھوں والی گڑیا ہم تجھ سے شرمندہ ہیں
ماں تیری روز مرے گی جب تک قاتل زندہ ہیں
ہم اس قوم کے غافل لوگ سب ہی جواب دہندہ ہیں
زینب ہم شرمندہ ہیں
گزشتہ دنوں ایئرمارشل اصغر خان ایک بھرپور فوجی اور سیاسی زندگی گزارنے کے بعد 97 سال کی عمر میں چل بسے۔ ایم آر ڈی اور اے آرڈی کی تحریکوں کے دوران ان سے ملاقاتیں رہی ہیں۔ جناب اصغر خان 14اگست 1947ء کے استقبالیہ میں شامل تھے جو گورنر جنرل پاکستان قائداعظم نے دیا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ جب کرنل اکبر خان نے قائداعظم کو فوج میں پروموشن کے بارے میں تجویز دینے کی کوشش کی تو قائداعظم نے اسے ڈانٹا اور کہا کہ تمہارا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ حکومتی پالیسیاں سویلین لیڈر بناتے ہیں۔ جناب اصغر خان باضمیر باوقار، اہل اور دیانتدار شخصیت تھے۔ انہوں نے ایئر مارشل چیف کی حیثیت میں پاکستان ائیر فورس کو مضبوط، منظم اور مستحکم بنایا۔ جب جنرل ایوب خان نے ان کو جنرل یحییٰ کے ہمراہ جاکر سکندر مرزا سے استعفیٰ لینے کی ہدایت کی تو آنریبل اصغر خان نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ صدر پاکستان سے استعفیٰ لینا انکے فرائض میں شامل نہیں ہے۔ جناب اصغر خان کی مہارت، وقار اور حب الوطنی کی بناء پر انہیں ’’فادر آف پاکستان ائیر فورس‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ریٹائرمینٹ کے بعد ان کو پی آئی اے کا چیف ایگزیکٹو نامزد کیا گیا۔ انہوں نے پی آئی اے کو دنیا کی بہترین ائیر لائینوں میں شامل کردیا۔ ثابت ہوا کہ اہلیت اور دیانت کے بغیر ریاستی ادارے مستحکم نہیں بنائے جاسکتے۔ نااہل اور بدنیت حکومتی منصب دار ریاست پر بوجھ ہوتے ہیں۔
جناب اصغر خان نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے ’’میں 1970ء کی انتخابی مہم کے دوران کمر درد کی تکلیف کے باعث کمبائنڈ ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں داخل تھا۔ جنرل یحییٰ خان کے بھائی آغا محمد علی ڈائریکٹر آئی بی میری تیمار داری کیلئے آئے اور ایک بریف کیس میرے کمرے میں بھول گئے۔ میں نے بریف کیس دیکھا وہ نوٹوں سے بھرا ہوا تھا ۔ میں نے آغا محمد علی کو دوسرے دن بلایا اور بتایا کہ وہ بریف کیس میرے کمرے میں چھوڑ گئے تھے انہوں نے کہا یہ کرنسی صدر پاکستان نے انتخابی مہم کیلئے بھجوائی ہے۔ میں نے بریف کیس شکریے کے ساتھ واپس کردیا‘‘۔[ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا صفحہ 220] اگر جناب اصغر خان بریف کیس واپس نہ کرتے تو 1990ء کے انتخابات کے دوران سیاستدانوں میں قومی دولت کی تقسیم کے سلسلے میں سپریم کورٹ میںپٹیشن دائر نہیں کرسکتے تھے۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ عوام کسی دیانتدار اور اہل شخصیت کو اپنا لیڈر تسلیم نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ جناب اصغر خان کی سربراہی میں تشکیل پانے والی نظریاتی جماعت تحریک استقلال عوامی مقبولیت حاصل نہ کرپائی البتہ انہوںنے سینکڑوں سیاسی کارکنوں کی سیاسی تربیت ضرور کی جو دوسری سیاسی جماعتوں میں بڑے عہدوں پر فائز ہوئے۔ وہ پی این اے میں شامل رہے اور کلیدی کردار ادا کیا۔ انکی جانب سے جیل سے سروسز چیفس کے نام لکھا گیا خط جمہوری اُصولوں کے منافی تھا جس میں فوج کو ٹیک اوور کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں شمولیت کی دعوت مسترد کردی اور نظر بندی کی صعوبتیں برداشت کیں اور ایم آر ڈی میں شامل ہوکر مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کیلئے یادگار خدمات انجام دیں۔ جناب اصغر خان دلیر اور باوقار سولجر اور محب الوطن باضمیر سیاستدان تھے۔ اللہ انکے درجات بلند کرے ۔ انکی رحلت پر یہ شعر یاد آتا ہے۔
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جائوں گا