ماما قدیر او رجنرل درانی

کالم نگار  |  مطیع اللہ جان....ازخودی
ماما قدیر او رجنرل درانی

جس وقت بلوچ قوم پرست ماما قدیر پر ایک خفیہ ادارے کے حکم اور قومی مفاد کے نام پر لاہور یونیورسٹی کے دروازے بند کیے جا رہے تھے تقریبا اسی وقت برطانیہ کی معروف آکسفوڑ یونیورسٹی میں آئی ایس آئی کا ایک سابق سربراہ اسی قومی مفاد کی دھجیاں بکھیر رہا تھا۔ماما قدیر نے تو لاہور کی یونیورسٹی کے طالبعلموں کے سامنے بطور ایک متاثرہ فریق بلوچستان کے لاپتہ افرادکا مقدمہ رکھنا تھا مگر برطانیہ کی آکسفورڈ یونین کے سامنے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے لندن کی اعلی ترین محققین کی برادری کے سامنے پاکستان اور اس کے خفیہ اداروں کی افغانستان میں دوہری پالیسی کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کا دفاع بھی کیا۔جو باتیں جنرل درانی نے آکسفورڈ یونین میںریکارڈ کردہ الجزیرہ ٹی وی پروگرام میں کہیں، وہی باتیں اگر کوئی پاکستانی سیاست دان کر دیتا تو اس کے ساتھ وہی ہوتا جو جاوید ہاشمی کے ساتھ ہوا تھا ،یعنی بغاوت کا مقدمہ اور قید۔مگر شاید پاکستان میں ایسی جراتِ اظہار کا حق صرف ریٹائرڈ جرنیلوں کو ہی ہے۔یہ وہی ریٹائرڈ جرنیل ہیں جو انگریزوں کی یونیورسٹیوں کے انگریز طالبعلموں کے سامنے بیٹھ کر مشکل اور چبھتے سوالات کا اپنی فوجی انگریزی میں جواب دینا قابل فخر سمجھتے ہیںاور پاکستانی یونیورسٹیوںکے طالبعلموں یا ملکی صحافیوں کو وقت دینے یا ان کے سوالات کا جواب دینے میںshut up  (بکواس بند کرو) کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں،آخر جنرل درانی نے انگریزوں کی یونیورسٹی میں انگریزی زبان میں ایسی کیا بات نہیں کہہ دی کہ جو بلوچ قوم پرست ماما قدیر پاکستانی یونیورسٹی میں قومی زبان اردو میں کہہ دیتا تو ہماری قومی سلامتی کا وضوٹوٹ جاتا۔الجزیرہ کے پروگرام (Head to Head)'ہیڈ ٹو ہیڈ' میں موضوع تھا کہ کیا پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ کر رہا ہے یا خود دہشت گردی کے خلاف ہے ؟آئی ایس آئی کے کردار اور گیارہ ستمبر کے بعد طالبان سے رابطوں پر ایک سوال کے جواب میں جنرل درانی کا کہناتھا کہ 2001 ء کے بعد طالبان کی مذاکرات کی پیش کش کو ٹھکرایا گیا۔جس کے باعث ان کو غیر ملکی قبضے کے خلاف کھڑا ہونا پڑا جب کہ افغانستان کی ایک تہائی آبادی بھی طالبان کی ہمدرد تھی۔پوچھا گیا کہ کیا اس ہمدردی کا مطلب یہ تھا کہ طالبان کو دھماکوں کے لیے اسلحہ اور بارود بھی فراہم کیا جاتا ؟تو جواب آیا کہ قوت کے اظہار کے بغیر طالبان سے مذاکرات کے لیے کو ن آمادہ ہوتا۔جب میزبان مہدی حسن نے کہا کہ یہ تو ایک قدیمی طریقہ جنگ ہے تو جواب آیا کہ قدیم نہیں بلکہ جدید طریقہ جنگ ہے ۔اسد درانی نے مزید کہا کہ اگر بیس سے پچیس ہزار افراد پر مشتمل ایک ٹوٹی پھوٹی ملیشیا پاکستان جیسے مبینہ ناکام ملک کی مدد سے اپنا نام بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو پھر ہال میں موجود تمام شرکاء کو کم ا ز کم طالبان اور پاکستان میں ان کے حمایتیوں کے لیے بھرپور تالیوں کے ساتھ خیر مقدم کرنا چاہیے۔میزبان نے سوال کیا کہ اقوام متحدہ کے مطابق اس جنگ میں 75فیصد ہلاکتیں طالبان کے ہاتھوں ہوئیں اور پھر کیا آپ سمجھتے ہیں کہ طالبان کا سکولوں کو دھماکوں سے اڑا دینا جائز ہے ؟اسد درانی کا جواب تھا کہ وہ کسی چیز کو جائزنہیں قرار دے رہے ۔آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے آگے چل کر کہا کہ افغانستان میں اتحادیوں اور پاکستان کے مقاصد الگ الگ تھے۔اس پر جب ان کی توجہ اربوں ڈالر امداد کی طرف دلائی گئی تو اسد درانی نے برجستہ کہا کہ ان کی رائے میں پاکستان کو اتنی رقم نہیں ملی جتنی ملنی چاہیے تھی۔(اس پر پورا ہال قہقے سے گونج اٹھا)جب پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اتحادیوں کو بے وقوف بنا رہا تھا ؟تو اسد درانی نے کہا یقینا ہم نے ان کو بے و قوف بنایا۔
اسد درانی کی دلیل تھی کہ ریاستیں عموماََ دوہرا کھیل کھیلتی ہیں اور اگر پاکستان نے دوہرا کھیل کھیلا ہے تو یہ وقت کی ضرورت تھی۔(میزبان ان سے ریاستوں اور اداروں کی دوہرے کھیلوں کا فرق نہیں پوچھ پایا) اسد درانی نے بے دھڑک کہا کہ ریاستی امور میں اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے مگر پھر ایک سوال کے جواب نے تو شرمناک صورتحال پیدا کر دی۔ جب پوچھا گیا کہ کیا پشاور اسکول کے بچوں کا قتل عام بھی اسی دوہری پالیسی کا نتیجہ تھا؟ تو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے بغیر کسی تاسف کے جواب دیا کہ یہ تو ایک جنگی نقصان (collateral damage)تھا۔( عام زبان میں اسے جنگ کے دوران نادانستہ نقصان قرار دیا جاتا ہے)۔اسد درانی نے اس اعتماد کے ساتھ بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قیمت ہے جو کسی بھی جنگ میں ادا کرنی پڑتی ہے۔میزبان نے یہ نہیں پوچھا کہ اس قیمت کے بعد بھی کیا ریاستی دوہری پالیسی ایک کار آمد پالیسی ہے ؟مگرشاطر میزبان مہدی حسن نے فوراََ پوچھا کہ کیا اسکول کے بچوں کا قتل محض ایک نادانستہ جنگی نقصان تھا؟اس پر اسد درانی نے بغیر کسی شرمندگی کے ساتھ جواب دیا کہ ہمارا حاصل یہ ہے کہ آج افغانستان غیر ملکی تسلط سے کسی حد تک آزاد ہے۔ کچھ بھی قیمت کے بغیر نہیں ملتا۔ یہ کمزور دل لوگوں کا کھیل نہیں۔میزبان نے پوچھا کہ کیا پشاور کے مقتول بچوں کے والدین کو آپ کمزور دل کہہ رہے ہیں؟ اسد درانی نے کہا کہ نہیں وہ کمزور دل نہیں میں ان سے ہمدردی کرتا ہوں۔ پاکستان کی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) اسد درانی ان مردانہ وار اعترافات و انکشافات کے بعد ہال میں موجود ڈاکٹر فرزانہ شیخ، ایسوسی ایٹ فیلو چیٹم ہائوس نے  جنرل درانی کے جوابات کا تجزیہ کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ درانی کے جوابات حقیقی سیاست کا خوفناک پہلو اجاگر کرتے ہیں جس کے باعث درانی کا یہ موقف ہے کہ بغیر قیمت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا مگر پاکستان نے آئی ایس آئی کی پالیسی کے باعث جو قیمت ادا کی ہے وہ بہت زیادہ ہے جیسے کہ 30ہزار سے زائد پاکستانیوں کا اس جنگ میں ہلاک ہونا۔یہ سب ایک انتہائی غلط سمت کی جنگ کی ناکامی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ پالیسی خود فریبی کے باعث بھرپور انداز میں ناکام ہوئی اور اس کے باعث پورے ملک کو ناکام کر دیا گیا۔
اس انٹرویو کو دیکھ کر احساس ہوا کہ ہمارے ملک میں فوجی اور سیاسی شخصیات کے لئے قوانین اور بنیادی حقوق کا معیار مختلف ہے۔ ایک لحاظ سے اسد درانی نے حقیقت سے پردہ اٹھایا مگر اس حقیقت کا دفاع جس انداز میں کیا گیا وہ انتہائی شرمناک تھا۔پشاور اسکول کے بچوں کے قتل عام کو جنگ کی قیمت قرار دینا اور پھر افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے جزوی انخلاء کو اس کا حاصل کہنا یقینا ایک غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویہ ہے۔
اسد درانی کا سچ شاید کوئی ریٹائرڈ جنرل ہی بول سکتا تھا اور پھر اس کا دفاع کرنا ان حقائق کو وسیع تر ملکی مفاد کا لبادہ پہنانا یقینا قابل مواخذہ ہے ۔ اسد درانی بھول گئے کہ وسیع تر ملکی مفاد کا فیصلہ کسی خفیہ ادارے کے بند کمرے میں نہیں بلکہ منتخب حکومت کے ایوانوں میں ہوتا ہے۔مگر پھر اسد درانی جیسے جرنیل کو وزیراعظم اور منتخب نمائندوں سے کیا سروکار۔جو شخص 1990ء میں اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل (ریٹائرڈ)مرزا اسلم بیگ کے ساتھ مل کر سیاست دانوں میں پیسے بانٹتا ہے اور بے دھڑک اقرار کرتا ہے اس شخص کو جمہوریت سے کیا مطلب؟ آکسفورڈ یونین کے لئے ایسے شخص کو دعوت خطاب دینا نجانے کتنے عزت کی بات تھی۔ پاکستان کی تاریخ پر لکھی جانے والی اہم ترین کتابیں غیر ملکی یونیورسٹیوں میں لکھی جاتی ہیں۔یہ کتابیں بڑے فخر کے ساتھ فوجی، نیم فوجی اور سویلین تربیتی اداروں میں رکھی جاتی ہیں۔ ان کتابوں میں یقینا آئی ایس آ ّئی کے قصیدے نہیں ہوتے۔تو پھر ملکی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ماما قدیر جیسے قوم پرستوں کا داخلہ بند کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا ماما قدیر کی باتیں ان حقائق سے مختلف ہیں جو سپریم کورٹ کے معزز ججز صاحبان نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کے دوران احکامات میں تحریر کر دئیے ہیں ۔ ہماری یونیورسٹیوں میںتحقیق و تدریس کے شعبے میں ایک غیر اعلانیہ سنسر شپ لاگو ہے۔ ہر سال درجنوں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی جاتی ہیں مگر تحقیق کے شعبے میں نو گو ایریاز واضح ہیں جیسا کہ مارشل لاء کے ادوار ، سقوطِ ڈھاکہ ، فوج کی کاروباری سرگرمیاں ، بھٹو کی پھانسی اور جنرل ضیاء الحق ، مرتضٰی بھٹو ، بے نظیر بھٹو اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت جیسے معاملات۔ سیاست اور عام زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح فوج نے یونیورسٹیوں کا انتظام بھی سنبھال رکھا ہے۔ ایسے میں ان اداروں کی تدریس و تحقیق کتنی آزاد ہو گی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ لاہور یونیورسٹی میں ایک خفیہ ادارے کے حکم نامے کے ذریعے ماما قدیر کے داخلے پر پابندی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے علاوہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن جیسے اداروں کی پیشانی پر ایک داغ ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں تحریر و تحقیق کی آزادی سے متعلق ایک مفصل رپورٹ جاری کرے ۔مگر جس ملک میں ایپکس کمیٹیوں کے ذریعے فوج کے ساتھ مل کر حکومت چلائی جائے اور منتخب پارلیمنٹ فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آئین میں ترمیم کر دے تو اس ملک میں ماما قدیر جیسے کی کون سنتا ہے؟جب ماما قدیر کی پیدل مارچ کے بعد وزیراعظم نواز شریف کو ہی اس سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو ۔۔۔۔۔انجامِ گلستاں کیا ہو گا؟