تعلیم۔۔۔3 مرد، 3 کہانیاں!

کالم نگار  |  نعیم مسعود
تعلیم۔۔۔3 مرد، 3 کہانیاں!

شایدزندگی میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ دوستوں کی بات مان کر میں نے اپنا ہی لکھا اور مکمل کیا ہوا کالم مسترد کر دیا۔ احباب کا کہنا تھا کہ ’’تعلیمی سچ‘‘ کی اس قدر کڑواہٹ ہوتی ہے کہ بس رہنے ہی دیجئے! جس طرح سیانے کہتے ہیں کہ انصاف کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے، اسی طرح سچ کہنا، سچ سننا اور سچ برداشت کرنا بھی ’’اوکھا‘‘ کام ہے۔ پہلا لکھا کالم پھاڑ ڈالا وہ بھی دوستوں کی فرمائش پر۔ دوست بھی تو ٹھیک ہی کہتے ہیں نا، ایک سال سے مسلسل تعلیمی سچ لکھ لکھ کر کیا حاصل ہوا۔ جن کے پاس ’’تعلیم‘‘ ہے ان کے پاس پڑھنے کا وقت ہی نہیں، اور جن کے پاس ’’تعلیم‘‘ سرے سے ہے ہی نہیں، وہ پڑھیں کیوں … ؎
غم بہر رنگ دل کشا ہے مگر
سننے والوں کو تاب نالہ نہیں
18ویں ترمیم نے تعلیم کو اضطراب اور مخمصے میں ڈال رکھا ہے۔ پچھلے دنوں ایک سینئر تجزیہ کار محترم الطاف حسن قریشی نے ایک عشائیہ پر مدعو کیا تو وہاں ایک ’’حکومتی ترجمان عرف صحافی‘‘ سے میں نے پوچھا بھائی کیا سبھی صوبائی وزرائے تعلیم نے 18ویں ترمیم پڑھی اور سمجھی ہو گی؟ تو اس نے بڑی الفت سے جواب دیا ’’کٹھ پتلیاں ترامیم اور کتب نہیں اشارے پڑھا کرتی ہیں!‘‘ میں نے وقتی طور پر دوست کی بات سے اتفاق کر لیا مگر بات ہضم نہ ہوئی۔ گھر آیا، یاد ماضی کے عذاب میں غوطہ زن اور کبھی حسین یادوں کی دل میں انگڑائی۔ یااللہ! سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطاالرحمان، سابق گورنر پنجاب بلکہ گورنر تعلیم جنرل (ر) خالد مقبول، سابق وزیر تعلیم پنجاب میاں عمران مسعود بھی تو تھے۔ 24 گھنٹوں میں 25 گھنٹے تازہ دم، کڑک فون سننا اور ٹھک جواب دینا، عملی مظاہرے، پروٹوکول کی روشنیوں، شادیانوں اور ہارنوں کے باوجود تعلیم کے دوست، تعلیم دوستوں کے دوست۔ بس رہنے ہی دیتا ہوں کسی کی چھاتی پر یہ باتیں بھی مونگ نہ دل دیں اور دوست ہمیں ہی ’’تعلیم دشمن‘‘ کے فتوے سے نہ نوازدیں! ! ! کسی پروفیسر، مولوی اور عورت سے دوستی نبھانا تقریباً جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ قارئین باتمکین! دوستوں کے کہنے پر دل کو جتنا بھی راکھ کا ڈھیر بنائوں لیکن وہ دھڑکن جو صدائے تیشہ ہے اس کا کیا کروں؟ چلیں پھر بھی ہم مشرف دور اور آج کے اقوال اور افعال کا موازنہ نہیں کرتے۔ ہم ازل سے جمہوریت پسند ہیں اور ابد تک رہیں گے لیکن کوئی آمر اگر تعلیم کے رنگ کسی جمہوریت پسند سے زیادہ رکھے تو؟ چلیں ہم بھی چپ سادھ لیتے ہیں اور تذکرہ کرتے ہیں۔ 1۔وزیر مملکت برائے تعلیم وتربیت انجینئر بلیغ الرحمان کا۔ واضح رہے کہ میاں بلیغ الرحمان کے پاس اس کے علاوہ بھی تین چار وزارت مملکت کے قلم دان ہیں۔ 2۔ پھر آج کچھ وہ باتیں بھی سپرد قلم کرتے ہیں جو پچھلے دنوں سابق چیئرمین پاکستان ہائر ایجوکیشن کمشن ڈاکٹر عطاالرحمان سے ہوئیں۔ 3 تیسرا تذکرہ مقصود ہے مشتاق غنی کا جوخیبر پختون خوا کے وزیر تعلیم (ہائر ایجوکیشن) ہیں۔ فکر، محنت اور تعلیم دوستی میں بہرحال یہ نثار کھوڑو سندھ اور رانا مشہود پنجاب جیسے صوبائی وزرائے تعلیم سے قدرے بہتر ہیں۔ کے پی کے حکومت نے بہرحال مرکزی ایچ ای سی کو تقویت بخشی ہے اور اپنی اتھارٹی کو بھی مقدم رکھا ہے (اس کی تفصیلات اور اہمیت انشااللہ اگلے کالم میں)۔ دل ناداں نے میاں بلیغ الرحمان سے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔ تکبر اور اقتدار کے نشے سے پاک یہ وزیر بات سنتا ہے، تو بات کرتا بھی ہے۔ کسی صوبائی وزیر سے رابطہ کرنے کی نسبت بلیغ الرحمان سے رابطہ کرنا ہزار فی صد آسان ہے۔ راقم پچھلے دنوں بہت پریشان تھا کیونکہ مرکزی چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار اور پنجاب ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نظام الدین کے مابین وہ ربط، ضبط اور رسم وفائے تعلیم کا فقدان تھا، اورہے۔ میں نے بلیغ صاحب سے عرض کی کہ صوبوں اور مرکز کے سربراہان کے مابین جلد از جلد تفویضِ کار کرا دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر ترقیاتی و منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل پا چکی ہے جس میں میرے علاوہ ڈاکٹر مختار، سیکرٹری بین الصوبائی کوآرڈینیشن، صوبائی نمائندے سیکرٹری تعلیم یا چیف سیکرٹری حضرات وغیرہ ہوں گے۔ اس میں جائزہ اور سفارشات ہوں گی کہ 1۔ صوبائی ایچ ای سی رہیں نہ رہیں۔ 2۔ مرکزی ایچ ای سی کا کیا وجود ہو اور کیوں ہو۔ 3۔ ڈویژن آف لیبر ہو تو کیا ہو۔ کمیٹی نے چالیس دنوں میں سفارشات مرتب کرنی ہیں (غالباً یہ 18 مارچ کو بنی) مجھے نہیں لگتا پنجاب اور سندھ کی ایچ ای سی پیچھے جائیں۔ یہ رہیں گی۔ سندھ کے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عاصم حسین سابق وفاقی وزیر ہیں اور یہ سر ڈاکٹر ضیاء الدین احمد خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ سر ضیاء الدین کا تعلق سرسیداحمد خان اور علی گڑھ سے گہرا تھا۔  میں کل بھی اور آج بھی مرکزی ایچ ای سی کے حق میں تھا۔ غالباً احسن اقبال بھی اسی سکول آف تھاٹ کے ہیں۔ بہرحال ایک ملاقات میں میں نے سابق چیئرمین بلکہ بابائے ہائر ایجوکیشن کمشن ڈاکٹر عطاالرحمان سے بھی کچھ سیکھنے کی کوشش کی جو قارئین سے شیئر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں لیکن اس سے قبل ایچ ای سی کی ایک تاریخی بات:۔ ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ (23 جولائی 2006) میں نیہا مہتا نے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا "PAK THREAT TO INDIAN SCIENCE" یاد رہے کہ پروفیسر سی این آر رائو نے جولائی 2006 میں بھارتی وزیراعظم کو متذکرہ مضمون کے تناظر میں، (غالباً قبل از اشاعت) تجویز دی کہ بقا کے لئے یو جی سی توڑ کر پاکستان کی طرح ایچ ای سی بنانا لازم ہے۔ گویا بھارت نے بنا دی۔ خیر، بانی ایچ ای سی تو کہتے ہیں کہ صوبوں میں ہائر ایجوکیشن کمشن بنانے کے بجائے ہائر ایجوکیشن کونسل بنائی جائے۔ اس کا ماڈل حال ہی میں بننے والا کے پی کے صوبہ کا ماڈل برائے ہائر ایجوکیشن مدنظر رکھا جائے۔ ہائیرکمشن کے بجائے ’’کونسل‘‘ کہہ لینے میں کوئی حرج بھی نہیں۔ اہم بات یہ کہ انڈیا، ترکی، برطانیہ، کوریا اور چائنہ وغیرہ میں بھی ہائر ایجوکیشن کا ماڈل مرکزی ہے اور اس کا براہ راست قومی ترقی، قومی یکجہتی، قومی نصاب وقومی تحقیق سے تعلق ہے، یہ ایک فیڈرل سبجیکٹ ہے۔ مرکزی ایچ ای سی نے ماضی میں 200 سے زائد سیاستدانوں کی جعلی ڈگریاں پکڑیں۔ ہاں! سندھ ہو کہ پنجاب وہ خبردار رہیں کہ کہیں مذموم ارادوں والے ڈگریوں کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کے کثیر فنڈز اور زمینوں پر قبضوں کے خواب تو نہیں دیکھ رہے۔ وزرائے تعلیم ہوں کہ ڈاکٹر عاصم و ڈاکٹر نظام اس پر غور ضرور کر لیں۔ ایک غور ڈاکٹر مختار بھی کریں کہ، 18 رکنی کمیٹی آف ایچ ای سی کو فنکشنل کریں اور TENURE TRACK SYSTEM کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ تعلیم کو بیورو کریسی کے چنگل سے نکالیں اور سیاست و سیاست دان کو بھی ذرا دور رکھیں۔ وظائف پر جو پی ایچ ڈی کرکے واپس آئے ہیں انہیں ڈاکٹر عطاالرحمان فارمولا کے تحت فوراً نوکریاں دیں۔ کوئی کل نہیں آیا آج آ گیا ہے تو استفادہ کریں! ماہرین تعلیم کورٹ کیسوں میں نہ پھنسیں۔ خدارا سسٹم اور تعلیم پر رحم کریں۔ ہر معاملے میں پھڈے اچھے نہیں ہوتے ترقی رک جاتی ہے۔ ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس بھی بنائو والی چیز ہے اس سے انحراف بھی بگاڑ ہے۔ صوبے مرکز کو سپورٹ کریں اور مرکز صوبوں کی اعلی تعلیم کو تقویت بخشے۔ اسی میں قومی بھلا ہے۔ مرکز میں زنجیری عمل(چین ری ایکشن) لمبا ہو گیا ہے۔ ماضی میں چیئرمین وفاقی وزیر کا خود درجہ رکھتا اور وزیراعظم سے ڈائریکٹ ہوتا۔ اب وزیراعظم تک پہنچنے کا سفر براستہ بلیغ الرحمان براستہ احسن اقبال براستہ ’’شاید منزل‘‘۔ ن لیگ والو! ازراہ کرم تعلیم کو ہموار شاہراہ مہیا کریں نہ کہ کسی سیاسی دشوار گزار پگڈنڈیاں۔ وہ الگ بات ہے کہ کبھی تو وفاقی وزیر سکندر بوسن تک کووزیراعظم سے بات کا وقت نہ ملتا۔ اللہ بھلا کرے عمران خان کے دھرنے کا کہ کئی وزرا کو وزیراعظم سے ملا دیا۔ اللہ کرے کہ حکومت کبھی تعلیم و تعلم و معلم سے بھی مل لے۔ ہاں! وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی کاوشوں اور بلیغ الرحمان کی تعلیم دوستی کو بھی خراج تحسین پیش کرنا ہے کہ پہلی دفعہ اوپن یونیورسٹی کے باسیوں اور محققین کو بھی لیپ ٹاپس نصیب ہوئے۔ جاتے جاتے ایک درخواست یہ بھی ہے کہ آنے والے دنوں میں دس یونیورسٹیوں (پنجاب) کو جو وائس چانسلرز دینے ہیں ان کا چنائو ماہرین تعلیم کریں سیاست دان یا بیورو کریٹس نہیں۔ تحقیق وتعلیم بقا کا دوسرا نام ہے۔ یہی اصل کہانی اور اصل مردانگی ہے! ! !