تلوار کا لکھا

کالم نگار  |  مطیع اللہ جان....ازخودی
تلوار کا لکھا

قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے۔مگر اس تلوار کا مقابلہ کون کرے جس کی نوک انسانی حقوق اور عوامی امنگوں کے خون کی سیاہی سے لیس ہو۔ اس تلوار کا لکھا ہوا کون مٹا سکتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کی تاریخ اور تقدیر ایسی ہی قلم نما تلوار سے لکھی جا رہی ہے۔ یہ قلم نما تلواریں عدالت اور صحافت کی زرہ بکتروں سے بے نیام ہونا شروع ہیں۔ آزادی صحافت و عدلیہ اور قومی سلامتی کے نعروں کی گونج میں تلوار قلم کی مانند چل رہی ہے اور قلم تلوار کی مانند۔ انسانی حقوق اور عوام کی امنگوں کے سر تن سے جدا ہو رہے ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ آئندہ سال مارچ سے پہلے اس جنگ کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنا لازمی ہیں چاہے اس کیلئے آمریت کے چنگیزوں کو کھوپڑیوں کے کتنے ہی مینار بنانے پڑیں۔ صحافی اور تجزیہ کار فیصلے سنا رہے ہیں اور منصف شہ سرخیاں بنا رہے ہیں۔ ایک گھمسان کا رن ہے جس کا انجام سب کو پتا ہے۔ سب کویہ بھی پتا ہے کہ اس تمام افراتفری کے پیچھے کون ہے۔ آئین کی کتاب نیزوں پر اٹھائے اور احتساب کے نعرے کا ورد کرتے اس لشکر کا مقابلہ کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ آخر جلدی کس بات کی ہے۔ ستر سالہ انصاف کی ک±ڑک مرغی نے اچانک انڈے دینے کیسے شروع کر دیے ہیں؟ اور وہ بھی سونے کے انڈے؟ خدا کے نام لیوا آئین اور قانون کے باغیوں کا نام لینے کو کوئی تیار نہیں۔
آئین اور قانون کے تحفظ کا حلف اٹھانے والے سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے فیصلوں اور رنجش و بغض بھرے ریمارکس کے ذریعے قانونی نکات کی وضاحت کی بجائے سیاسی وذاتی نوعیت کی حملے کر کے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا ثبوت دے رہے ہیں۔ زعم اس بات کا ہے کہ ملزم کے پاس بے گناہی کے ثبوت نہیں اور پیش کرنے کو دلیل نہیں۔ کردار اور ایمانداری کا جو معیار سیاست دانوں کیلئے ہنگامی عدالتی عمل کے ذریعے مقرر کیا جا رہا ہے اس پر اعتراض نہ بھی ہو تو اس کی رفتار یقینا شک سے بالانہیں۔ کیا جج نہیں جانتے کہ حکومتی معاملات میں فوج کی مداخلت کا ماضی، حال اور مستقبل کیا نظر آ رہا ہے۔یہ واضح نہیں کہ کون سی قوت آئندہ سال مارچ میں سینیٹ کے انتخابات سے پہلے موجودہ سیاسی عمل کابوریا بستر گول کرنا چاہتی ہے؟ یقینا مدعی سست اور گواہ کو چست نہیں ہونا چاہیے مگر جب ایک "سازش کے ٹائم شیڈول" کےسامنے آنے کے باوجودکوئی منصف اپنے "درست فیصلوں "کے ذریعے ہی مقدمات کھولے ، بند کرے یا ان کا فیصلہ کرے تو یہ بھی تاریخ میں سیاہ حروف سے ہی لکھے جاتے ہیں۔ قوموں کی تاریخ گواہان کو یاد نہیں رکھتی بلکہ ان فیصلوں کے پس منظر اور ان کے ملکی سیاست پر اثرات کو یاد رکھتی ہے۔
آج مولوی تمیزالدین کیس، بھٹو پھانسی کیس اور بدعنوانی پر برطرف ہونے والی سیاسی حکومتوں کے مقدمات کو جس انداز میں یاد کیا جاتا ہے اس کی بنیاد گواہان یا شواہد نہیں بلکہ ماضی کا وہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے جس نے اس قوم کو اس حال میں پہنچایا۔ انصاف تو جنرل ضیا الحق کے دور میں بھی کچھ چوروں اور ڈاکوو¿ں کو جیل اور پھانسی کے ذریعے دیا گیا مگر کیا اس دور کی عدلیہ ، اس کے ججز صاحبان یا ان کی بعد کی نسلیں اس پر سر عام فخر کر سکتی ہیں؟ کیا یہ معلوم نہیں کہ اس ملک میں سیاسی حکومت کا مطلب ہمیشہ سے "حکم مت " رہا ہے یعنی جس کو " حکو مت چلاو¿ ہم پر" کا واضح پیغام دیا جاتا ہے۔ کیا زمینی حقائق سے نظریں چرا کر آئین و قانون کی کتابوں کے ڈھیر پیچھے چھپ جانا ہی عدالتوں کا کام ہے بالکل نہیں۔ عدلیہ کا وقار ہونا چاہیے۔
اس تمام صورتحال میں لگتا ہے آئندہ سال مارچ کے سینیٹ انتخابات سے پہلے سیاسی عمل اور موجودہ "جمہوری" سیٹ اپ میں کوئی تبدیلی آنی ہے۔ایسا ہوا تو عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہوں گے کہ نام نہاد اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے درمیان ماضی کے قابل اعتراض تعلقات کی چنگاری پھر بھڑک اٹھی ہے۔ ایک بار پھر جمہویت کے خشک اور بے رنگ گلشن میں اس وقت آگ لگائی گئی ہے جب انتخابات کی بہار آنے میں کچھ ہی وقت رہ گیا تھا۔
کیا وجہ ہے کہ ایک ہی خاندان کا احتساب مارچ سے پہلے ہونا ضروری قرار پایا ہے۔اس طرح کے ریمارکس کا مظاہرہ کبھی لاپتہ افراد کے مقدمات یا جنرل مشرف کے خلاف آئین سے سنگین غداری کے مقدمات میں دیکھنے کو ملتا تو بات بھی تھی۔افسوس اور ندامت کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہنگامی حالت میں زبان کے نیچے رکھنے والی گولی کو سینے کی تکلیف پر روزانہ پانی کے ساتھ نگلنے والے لوگ آج انصاف کو تحریک کی شکل دے رہے ہیں۔بیری کے پکنے میں ابھی کچھ وقت ہے مگر احتساب خان ہیں کہ کچی بیری کھانے پر مصر ہیں۔ اس کچی بیری سے کالے کوٹ کی جیبیں بھری جا رہی ہیں اور کالے بوٹ بھی انصاف کے اس درخت پر پیر جمانے میں ان کی خوب مدد کر رہے ہیں۔
قلم کی تلوار کا بھی خوب استعمال ہو رہا ہے۔ "ہیروں"کی مانند تراشے ہوئے قلم نے بھی انصاف ، قانون اور انسانی حقوق کی مقتل گاہوں کو خوب آباد کر رکھا ہے۔ یہ وہ قلم ہے جو آئینی سول عدالتوں کو فوجی عدالتوں کی طرز پر انصاف کرتا دیکھنا چاہتا ہے۔ جن جذباتی اور شدت پسند نظریات کے خلاف "جوابی بیانیہ" قومی ترجیح قرار دیا جاتا ہے انہی نظریات کی جھلک خود عدالتی فیصلوں میں بھی نظر آتی ہے۔ نفرت جرم کے خلاف نہیں ملزم کے خلاف پیدا کی جا رہی ہے۔
عدالتی عمل سے اس معاشرے کو ایک ایسے ہجوم میں تبدیل کیا جا رہا ہے جس نے مشعال خان جیسے نوجوان کو ایسے ہی جذباتی اور شدت پسند بیانیے کے ساتھ قتل کیا تھا۔ قلم چلانے والے زبان کی تلوار بھی چلانا شروع ہوگئے ہیں۔ آئین میں فوج اور عدلیہ پر تنقید سے ممانعت غیر مشروط نہیں۔جو ماورا آئین سیاست اور حکومت کرے گا یا اس پر اثر انداز ہو گا تو اسے عوام کے سوالات اور تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ آئندہ چند ماہ میں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے ملک میں سیاست اور انصاف کسی ٹائم شیڈول کے مطابق چل رہے ہیں یا نہیں۔