"ربیع الاول …مضامین قرآن"

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ

ڈھائی سال قبل مئی اور جون2011 میں، میں نے نوائے وقت کے انہی صفحات پر دو کالم بعنوان ’’زائرین گنبد خضرائ۔احتیاط" لکھے۔ ان تحریروں پر مجھے مختلف علمائے کرام اور قارئین کے کئی خطوط اور ٹیلی فون موصول ہوئے۔ ان کالموں میں میں نے ایک شخصیت کا ذکر کیا تھا جن سے میری پہلی ملاقات روضہ اطہرﷺ کی خدمت پر مامور ایک اردو بولنے والے منتظم مظہر السلام نے کروائی۔ یہ ملاقات روضہ اطہرﷺ کے خارجی دروازے پر گنبد خضراء کے سرسایہ ہوئی۔ یہ صاحب ڈاکٹر اطہر محمد اشرف ہیں۔ آپ قرآ ن پاک پر مضامین القرآن کے حوالے سے تحقیق کر رہے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ ساڑھے سات سال سے قرآن پاک میں دئیے گئے مختلف موضوعات کو ایک جگہ اکٹھا کر رہے ہیں ۔میں نے ان سے کہا کہ مولانا ابو علیٰ مودودی نے ’’تفہیم القرآن‘‘ کی ہر جلد کے آخر میں اس طرح کا انڈکس دیا ہے تو پھر آپ کی تحقیق میں نئی بات کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب نے تفہیم کی ہر جلد میں شامل پاروں میں دئیے گئے عنوانات کے حوالے سے الگ الگ فہرست بنائی ہے جب کہ میں پورے قرآن میں پھیلے ہوئے اس مضمون کو ایک جگہ یکجا کر رہا ہوں۔
ڈاکٹر اطہر صاحب کی یہ کاوش چند ہفتے پہلے مکمل ہو گئی ہے۔ انہوں نے تقریباً دس سال کی سعی مسلسل کے بعد چار جلدوں پر مشتمل ڈھائی ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل اشارات قرآن پاک پر مبنی یہ تخلیق تیار کی ہے۔ربیع الاول کے با برکت مہینے میں قارئین نوائے وقت سے آج اس حوالے سے گفتگو کر نا چاہتا ہوں۔ ڈھائی ہزارسے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب اپنی نوعیت اور معلومات کے لحاظ سے ایک منفرد اور بے مثال کاوش ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قاری کو علوم اور مضامین قرآن پر بڑی حد تک دسترس ہو جاتی ہے۔اس اشارئیے کے بار ے میں صاحب علم و فکر اور تحقیق کرنیوالے افراد کو کہنا ہے کہ قرآن مجید کی تفاسیر، تراجم اور اشارئیے اسلامی ادب میں بکثرت موجود ہیں۔ لیکن کوئی ایسا آسان مختصر اور عام فہم زبان میں قرآنی مطالب کی آگاہی کا دوسرا اشاریہ دستیاب نہیں۔ یہ اشاریہ نہ صرف عام مسلمانوں کے لیے مفید ہے بلکہ پڑھا لکھا طبقہ اور علماء بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس کا مطالعہ تبلیغ اسلام کو موثر طریقے سے کرنے میں بھی معاونت کر سکتا ہے۔
اس تحقیق کے ذریعے مضامین قرآن کریم کا ایک ایسا جامع موضوعاتی اشاریہ مرتب کیا گیا ہے جس میں ہر موضوع سمٹ آیا ہے اور کوئی بھی شخص کسی بھی موضوع پر قرآن کریم سے رہنمائی لے سکتا ہے ۔ اس اشاریہ کی مدد سے آپ کسی بھی لفظ سے متعلق کوئی آیت یا آیات تلاش کرنا چاہیں تو بلا توقف و تکلف با آسانی کر سکتے ہیں۔اس کی ترتیب و تدوین ڈکشنری کی طرز پر ہے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر صاحب نے لفظ’’قل‘‘ جو قرآن کریم میں 332بار آیا ہے کی نشاندہی کرتے ہوئے اس لفظ کے اس آیت میں سیاق و سباق کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔اردو حروف کے لحاظ سے الف کے باب میں آئیں اور اگر آپ اعضائے جسمانی کے بارے میں معلوم کرنا چاہتے ہیں تو انسان کے سر کے بال سے لیکر ٹخنے تک کے اعضاء کا قرآن پاک میں جہاں جہاں اس کا تذکرہ ہے اس کو یکجا کر دیا ہے۔ آیت نمبر اور سورۃ کا نام بھی بتلا دیا گیا ہے۔جس سے مضامین قرآن پر تحقیق کرنیوالے طلبہ کیلئے بڑی آسانی ہو گئی ہے۔
آج کے دور میں جو افراد انٹر نیٹ کی وجہ سے دنیا کو گلوبل اسٹریٹ کی صورت میں دیکھتے ہیں وہ جس طرح دوسرے موضوعات پر صرف ایک معمولی سے اشارے سے اپنے اسٹڈی روم میں بیٹھے بیٹھے لندن، نیو یارک اور پیرس پہنچ جاتے ہیں کیلئے بھی اس کتاب نے بہت آسانی پیدا کر دی ہے۔
ڈاکٹر اطہر محمد اشرف کا قرآن پاک کا انتہائی عمیق گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ ہے انہوں نے قرآن پاک کے ہر لفظ بلکہ ہر حرف کے ماخذ کو جاننے کے لیے سخت محنت سے کام لیا ہے۔ انہوں نے اسے عام قاری کیلئے قابل مطالعہ بنانے کیلئے وہ تمام مشکلات اورفہم کی دشواریاں دور کرنے کی کوشش کی ہے جن کے سبب ناظرہ قرآن کے قاری، ترجمہ قرآن تک محدود رہنے والے عام مطالعہ نگار اور ذاتی حیثیت میں قرآن فہمی میں مشکلات محسوس کرتے تھے۔ ان کیلئے اس اشارئیے نے بڑی آسانی پیدا کر دی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے قرآنی سورتوں کی فہرست بناتے ہوئے اسکی تخصیص کئی اعتبار سے کی ہے۔ ایک فہرست بلحاظ توفیقی ہے تو دوسری بلحاظ حروف تہجی، تیسری فہرست بلحاظ نزول اور چوتھی فہرست بلحاظ تعداد آیات ہے۔ ڈاکٹر اطہر محمد اشرف صاحب کی تحقیق وتدوین کی یہ چاروں جلدیں شیخ زید اسلامک ریسرچ سنٹر جامعہ کراچی نے شائع کی ہیں۔ڈاکٹرصاحب شادمان ٹائون کراچی کے رہائشی ہیں۔ ان سے فون نمبر03333269772پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ انکی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین۔