فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ

مغلیہ سلطنت کے زوال اور برصغیر میں انگریزوں کے عروج کے ساتھ بسنے والے مسلمانوں کی بدبختی کا آغاز ہو گیا تھا ۔جوںجوں انگریزوں کی حکمرانی مضبوط ہوتی گئی مسلمانوں کی حالت ابتر ہوتی گئی۔ اسکی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انگریزوں نے اقتدار چونکہ مسلمانوں سے چھینا تھا وہ انکو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ ہندو ویسے ہی سینکڑوں برس کی مسلم حکمرانی کی وجہ سے دل سے انکے خلاف تھے ۔چنانچہ انگریزوں کی حکمرانی میں ہندو انگریزوں کے قریب اور مسلمان دور ہوتے گئے ۔کچھ تعلق اِس میں مسلمانوں کی سوچ کا بھی تھا۔اقتدارسے محروم کئے جانے کی وجہ سے وہ انگریزوں کے خلاف تھے اور ہر اُس چیز کو شک کی نظر سے دیکھتے تھے جس پر انگریزیت کا شبہ بھی ہوتا ۔نتیجہ یہ نکلا مسلمان تعلیم،معیشت اور سیاست کے میدان میںپیچھے ہٹتے گئے اور خالی ہونے والی جگہ ہندو پُر کرتے گئے ۔وقت گزرتا گیا ۔مسلمانوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی گئی ۔آخر وہ موقع آپہنچا جب انگریز ہندوستان کو آزادی دیکر برصغیر سے رخصت ہونے والے تھے۔ علامہ اقبال کی دوربین نگاہوں نے دیکھ لیا کہ انگزیزوں کے چلے جانے کے بعد برصغیرکے مسلمان کلیتًا ‘‘ ہندوئوں کے دست ِ نگر ہوجائیں گے اور تعصب کی بنا پر اُنکی حالت قابلِ رحم بنا دی جائیگی۔ اقبال کو مسلمانوں کا مستقبل محفوظ بنانے کی ایک ہی صورت نظر آئی، وہ تھی برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ مملکت کا قیام ۔سوال یہ پیدا ہواکہ اِس مملکت کے قیام کیلئے جس کوشش اور جدوجہد کی ضرورت تھی اُسکی قیادت کون کریگا؟ ۔اِسکا حل بھی اقبال ہی نے دریافت کیا اور محمد علی جناح کو دعوت دی کہ وہ لندن میں اپنی رہائش اور وکالت ترک کرکے واپس ہندوستان لوٹ آئیں اور اِس اہم مشن ، ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے حصول کیلئے مسلمانوں کی قیادت کریں۔قائداعظم نے شروع شروع میں اقبال کی تجویز کو سنجیدگی سے نہ لیا لیکن اقبال کی پُر زور وکالت نے بالٓاخر قائد کو قائل کر لیا اور اُنھوں نے ہندوستان آکر منتشر مسلمانوں کو ایک پرچم تلے اور ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ یوں حصولِ پاکستان کی عظیم الشان تحریک کی شروعات ہوئی ۔اِس تحریک میں برصغیر کے تمام مسلمان شریک تھے۔کوئی شیعہ تھا نہ سنی ،دیوبندی تھا نہ بریلوی،صرف مسلمان تھے ۔ایک کلمہ پڑھنے والے ۔ایک قرآن سے رہنمائی لینے والے ایک دین کے اُمتی اور ایک کعبہ کی طرف رُخ کرکے خدا کے حضور سجدہ ریز ہونیوالے ۔یہ شیعہ سنی کی تفریق یہ دیوبندی بریلوی اختلافات کہیں نظر نہ آتے تھے ۔بے شمار لوگوں کو علم بھی نہ ہو گا کہ وہ قائد جس کی ولولہ انگیز قیادت میں اُنھوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن حاصل کیا۔ وہ رہنماجسکی تقریر وہ سن تو سکتے تھے سمجھ نہیں سکتے تھے (قاید بالعموم انگریزی میں تقریر کرتے تھے) پھر بھی کہتے تھے کہ نہیں معلوم کہ قائد کیا کہہ رہے لیکن یہ یقین ہے کہ جو کچھ کہہ رہے سچ کہہ رہے ہیں۔اِس قائد کا تعلق فقہی اعتبار سے اہل تشیع سے تھا ۔جی ہاں وہی فرقہ جسے آج چند سر پھرے کافر قرار دلوانے پرمصر ہیں۔فرقوں کے اعتبار سے جتنی یہ قوم منقسم آج ہے اگر تحریک پاکستان کے دوران بھی ہوتی تو پاکستان کا حصول ایک حقیقت نہیں ایک خواب ہی ہوتا۔
ابتدا میں مسلمانوں میں وہ اختلافات نہ تھے جو بدقسمتی سے آج اِس قوم کی توانایاں سلب کئے دیتے ہیں۔ محرم کا مہینہ آتا ، سکون سے گزر جاتا تھا ۔حضرت امام حسین کی عظمت اور عظیم قربانی تمام مسمانوں کیلئے یکسیاں اہمیت رکھتی ہے ۔محرم کے جلوس ،مجالس ،شام غریباں خونیں حادثوں کے اندیشوں سے پاک صاف اور محفوظ ہوتی تھیں۔اُسکے مقابلے میں آج کے حالات دیکھیے ۔وطنِ عزیز میں بسنے والے ایک دوسرے کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔کافر قرار دینے پرمصر ہیں۔نہ مسجدیں محفوظ ہیں نہ امام بارگاہیں۔اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا توذکر ہی کیا ۔یہ اُس ملک میں ہو رہا ہے جسکے خالق نے اپنی پالیسی تقریرمیں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ آپ اپنے مندروں میں جانے میں آزاد ہیں اپنی مساجد میں جانے میں آزاد ہیں ۔آپکا کیا مذہب ہے اِس سے حکومت کا کوئی سروکار نہیں یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے ۔ہمیں دعویٰ اُس نبیؐ کے اُمتی ہونے کا ہے جس نے یہودیوں کے ایک وفد کو مسجد نبوی میں عبادت کی اِجازت دی۔اِس رواداری کی رمق بھی آج اپنی صفوں میں نظر نہیں آتی ۔فرقہ واریت،مذہبی انتہا پسندی اور اِن دو کی بنا پر قتل وغارت آئے دن کے واقعات ہیں ۔سینکڑوں ،ہزاروں مسلمان ،کلمہ گو ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک کئے جاتے ہیں۔یہ ایسے مذہب کے پرستاروں کا رویہ ہے جو کہتا ہے ایک بے گناہ کا قتل ایسا ہے گویا کل انسانیت کو ہلاک کر دیا جائے۔
   بد قسمتی سے فرقہ وارانہ تشدد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔اِن میں خودکش حملے بھی ہو جاتے ہیں‘ جسکے سبب بے شمار جانیں تلف ہوجاتی ہیں۔پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز(Pak institute for peace studies) کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ2011 میں شروع ہوا اور آنے والوں سالوںمیں بدستور جاری رہا۔اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک بھر میںفرقہ وارانہ تشدد کے کل 208واقعات ہوئے جن میں 658 لوگ ہلاک اور195 لوگ زخمی ہوئے ۔
ہر چند کہ بعض دوست نما دشمن ممالک دامے، درمے سخنے اپنے ہم مسلک فرقوں کی مدد کرتے ہیں اور اِسی طرح ہمارے ملک میں خونریزی کی مدد کرتے ہیں۔اگر ان فرقوں کو باہر سے ملنے والی رقوم روک دی جائیںتو پاکستان میں فرقہ واریت کو کنٹرول کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ایک دوسرے کے خلاف اشتعال دلانے والے لٹریچر کی چھپائی اور تقسیم پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ مساجد اور ملک کی عبادت گاہوں میںلگے ہوئے لائو ڈسپیکرز بھی صرف محدود مقاصد کیلئے استعمال ہونا چاہئیں۔موخرالذ کرمقاصد کے حصول میں صوبائی انتظامیہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہیں۔گڈ گورنس کے دعوے تو بہت ہوتے ہیں اب انکے عملی مظاہرے کی ضرورت ہے اَبھی فرقہ وارانہ مخاصمت قابو سے باہر نہیں ہوئی ہے۔علماء اور مذہبی سکالرز اسے قابو میں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اگر یہ فتنہ قابو سے باہر ہو گیا تو اس سے مملکت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔اپنے داخلی اور خارجی مسائل حل کرنے میں پاکستان کو مکمل اتحاد کی ضرورت ہے۔فرقہ واریت کا عفریت جو روز افزوں ترقی کر رہا ہے ۔ہماری ترقی کی راہ میں ایک زبردست رکاوٹ بن سکتا ہے۔اِسے ہر قیمت پر روکنا چاہئے۔جو فتنہ آج ایک چنگاری کی حیثیت رکھتا ہے۔اگرآج ہی اِس پر قابو پانے کی تدبیر نہ کی گئی تو کل یہ ایک جوالہ بن کر پوری مملکت کو بھسم کر سکتا ہے۔