سیاستدان قائد کے پاکستان کو بٹہ نہ لگائیں

کالم نگار  |  راجہ افراسیاب خاں

بہت عرصہ پہلے میں نے خود آزاد کشمیر کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ جموں و کشمیر سے آنیوالے مہاجرین کی موثر آباد کاری کیلئے میں نے آل جموں و کشمیر مہاجر کانفرنس کی تنظیم پورے پاکستان اور آزاد کشمیر میں قائم کی تھی۔ جلوس اور جلسوں کے ذریعہ مہاجرین کی آبادکاری کے سلسلہ میں موثر نتائج برآمد ہوئے تھے۔ ہر کشمیری مہاجر خاندان کو شروع شروع میں مفت راشن ملا کرتا تھا۔ مفت راشن بند ہونے پر تمام ایسے مہاجرین کو 12 ایکڑ نہری اور 18 ایکڑ غیرنہری اراضیات کی الاٹمنٹ کی گئی تھی۔ بعد میں آسان شرائط پرایسے مہاجرین کو ان آراضیات کی ملکیت مستقل طور پر دے دی گئی تھی۔ اس طرح کشمیر سے آئے ہوئے مہاجرین آباد ہو چکے ہیں۔ میں خود اپنے آپ کو شروع شروع میں کشمیری مہاجر کہا کرتا تھا۔ فخر ہے کہ میں وقت کیساتھ ساتھ پاکستانی کشمیری اسی طرح بن چکا ہوں جس طرح میاں محمد نوازشریف اور میاں محمد شہبازشریف کشمیری پاکستانی بن گئے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ مجھ سے کچھ عرصہ پہلے سرزمین کشمیر سے اس خطے میں آئے تھے۔ ذرا سوچیں اور غور کریں کہ میں کس طرح ناگفتہ بہ حالات میں اپنے خاندان اور دیگر لوگوں کیساتھ پاکستان آیا تھا۔ یہ میرا بچپن کا زمانہ تھا۔ سخت مالی مشکلات کا ہم لوگ دن رات سامنا کرتے تھے۔ کوئی بھی ہمارا پرسان حال نہ ہوتا ۔بڑے بڑے خاندان کے امیر کبیر لوگ مانگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ میں خود مانگنے والے بچوں کیساتھ شامل ہو گیا تھا۔ سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے جسٹس راجہ سعید اکرم کے خاندان کے لڑکے کھاریاں بازار میں مانگنے کا کام کرتے تھے۔ ایک دن میں بھی خود ان لڑکوں کے ساتھ کھاریاں بازار میں مانگنے کے کام میں شامل ہو گیا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مانگتے مانگتے ایک پڑھے لکھے نوجوان کے سامنے ہاتھ پھیلایا تو جواب میں اس نوجوان نے مجھے کہا کہ ’’تمہیں مانگتے ہوئے شرم نہ آتی ہے۔‘‘ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا اس نوجوان کو کوئی جواب نہ دے سکا۔ اس دن میں نے مانگنے سے توبہ کر لی اور اس بات کا عہد کیا کہ محنت مزدوری کروں گا مگر کسی کے سامنے ہر گز ہاتھ نہ پھیلائوں گا۔ ان دنوں حکومت نے ہمیں مفت راشن دینا شروع کر دیا تھا۔ اس مفت راشن سے ہم اپنا پیٹ بھر لیتے تھے۔ میری زندگی میں انقلاب بپا کرنیوالا ایک واقعہ ہوا تھا میں موجودہ جسٹس سعید اکرم کے گھر کی بلکونی میں کھڑا تھا۔ نیچے گلی میں بچوں کو سکول جاتے ہوئے دیکھا تو مجھے بھی تعلیم حاصل کرنے کا دوبارہ شوق پیدا ہوا۔
بڑی مشکل سے تعلیم مکمل کی جو جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ آخری مددگار راجہ سید اکبر خان ایڈووکیٹ (سابق ایڈووکیٹ جنرل مغربی پاکستان) ثابت ہوئے۔ وہ ایڈورڈ روڈ پر رہتے تھے۔ لاء کالج میں پڑھاتے بھی تھے۔ میری قسمت نے پلٹا کھایا تو مجھے انہوں نے اپنے گھر میں جگہ دے دی۔ کھانا اور رہائش اس طرح مجھے مفت مل گئی تھی۔ اس طرح ’’ایل ایل بی‘‘ پاس کر لیا آگے وکالت کرنے کا پروگرام میں نے بنا رکھا تھا۔ ایک دن موصوف مرحوم راجہ سید اکبر خان نے مجھے مشورہ دیا کہ میں کسی آزاد کشمیر کے چھوٹے سے ضلع میں وکالت کا کام کروں ۔ جواب میں میری گزارش یہ تھی کہ لاہور یا کوئی اور چھوٹی جگہ ہو میرے لئے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔ میرا پختہ ارادہ تھا کہ لاہور میں ہی وکالت کا کام کروں گا مرحوم راجہ سید اکبر خان نے ایک وسیع قانونی کتابوں کی لائبریری بنا رکھی تھی۔اس طرح مجھے ادھر قانونی کتابوں کے پڑھنے کا سنہری موقع مل گیا۔ استاد کے ساتھ انکے لفافے اور کتابیں اٹھائے جاتا تھا۔ انکے دفتر میں اور انکے ساتھ بڑے بڑے وکلاء کے ساتھ ملاقات کا موقع ملتا تھا۔ شروع شروع میں مجھے ’’چھوٹے موٹے ‘‘ مقدمات مل جاتے تھے۔ جتنی بھی کوئی فیس دیتا میں خوشی سے اسے قبول کرتا اور بے انتہا محنت اور شوق سے مقدمات تیار کرتا تھا۔ انگریزی زبان میں دلائل خوب زبانی یاد کر لیتا تھا۔ انگریزی زبان میں بحث کرنے کا مجھے بے حد شوق تھا۔ عدالت میں بھی میں نے سوائے انگریزی زبان کے کبھی کسی اور زبان پر انحصار نہ کیا تھا۔ انگریزی زبان بلاشک و شبہ موجودہ دور کی ترقی کا ایک وسیع اور کھلا دروازہ ہے۔ یہ دروازہ ہمیشہ کھلا رکھیں اس دروازے کو بند کرنے کا کبھی بھی سوال پیدا نہ ہو گا اس طرح کی دن رات کی محنت رنگ لائی وکالت میں خوب میں نے دولت کمائی بوڑھے ماں باپ کی مالی خدمت کر کے خوش ہوتا تھا۔ پھر وہ وقت بھی آ گیا کہ میں ایشیاء کی سب سے بڑی بار ’’لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن‘‘ کا صدر منتخب ہو گیا۔ عام وکلاء میرا ساتھ دیتے اور میرے ساتھ بھرپور تعاون کیا کرتے تھے۔ دو دفعہ پنجاب بار کونسل کا رکن منتخب ہوا۔ اس طرح میں بار کونسل پنجاب کا چیئرمین بھی منتخب ہو گیا۔ یہ زندگی بھر کا میرے لئے بڑا اعزاز تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ میں پاکستان کے وکلاء کا عاشق ہوں۔ ایک مٹی میں لت پت وکیل بھی میرے سامنے سونے اور ہیرے جواہرات کا بنا ہوتا ہے۔ 1987ء میں‘ میں لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر ہوا تھا میرا عہد تھا کہ انصاف کے میدان میں انوکھے کام کروں ۔ جنون کی حد تک وقت کا پابند تھا۔ ٹھیک 8 بجے صبح عدالت میں کام شروع کر دیتا تھا۔ گھر سے تمام مقدمات کی تیاری کر کے عدالت میں بیٹھتا تھا۔ بھاری تعداد میں میرے ہاں مقدمات سماعت کیلئے لسٹ پر ہوتے تھے۔ تمام مقدمات کی سماعت کرتا تھا اور ساتھ ہی ساتھ عدالت میں ہی فیصلے کردیا کرتا تھا۔ میں نے خود غربت میں پرورش پائی تھی غریب لوگوں کودل بھر کے ریلیف دیا کرتا تھا۔ غربت اور بے بسی سے ستائے لوگوں کے مقدمات کو دل سے سماعت کرتا تھا۔ سرکاری محکمہ جات کیخلاف غریب لوگوں کو ریلیف دیتا تھا۔ ایسا کرنے سے مجھے روحانی خوشی ہوتی تھی۔ ہمیشہ غریب کے حق میں سرکار کیخلاف فیصلہ کرتا تھا۔ جن قدمات میں دونوں شہری آمنے سامنے ہوتے تو پھر رک جاتا تھا اور سوچ میں پڑ جاتا تھا فیصلہ صرف اور صرف اسکے حق میں دیتا تھا۔ جس کا آئین اور قانون کے تحت حق بنتا تھا۔ ایک دفعہ سب جج صاحبان کی موجودگی میں مسٹر جسٹس سعید الزمان صدیقی چیف جسٹس آف پاکستان نے فرمایا تھا۔ ’’میرے ہاں مقدمات لگوانے کیلئے لوگ ہائی کورٹ کے دفترسے بھاری تعداد میں رجوع کرتے تھے۔ انکی مالی خدمت کر کے میری عدالت میں مقدمات لگوائے جاتے تھے۔ یہ بات بھی یاد رکھی جائے کہ جب تک کارندوں کی ’’مٹھی‘‘ کو گرم نہ کیا جائے تو اس وقت تک من پسند جج کی عدالت میں مقدمہ نہ لگ سکتا ہے۔ بہر حال یہ میری گہری سوچ تھی کہ پاکستان کی عدلیہ ہی بہت حد تک غریب لوگوں کو ریلیف دیتی ہے حکمران تو آنکھیں بند کر کے گھروں اور دفتروں کی چار دیواری کے اندر عیاشی کی زندگی بسر کرتے ہیں یہ لوگ پاکستان میں خوب دولت لوٹ کر اکٹھی کرتے ہیں پھر اس دولت کودنیا بھر کے بنکوں میں جمع کرواتے ہیں ذرا سوچیں کہ ان لوگوں کا یہ کام آئین اور قانون کے کسی خانے میں رکھا جائیگا؟ رشوت اور کرپشن پورے پاکستان میں انتہائی بلندیوں کو چھو رہی ہے ہمارا پاکستان اور ملک بدنامی کے گہرے ’’گڑھے‘‘ میں گر چکا ہے۔ سوائے مایوسی کے اور کچھ بھی دکھائی نہ دیتا ہے۔ آرٹیکل 6 کے تحت محدود کارروائی کرنے سے ملک کے حالات کبھی تبدیل نہ ہو سکیں گے۔ ہمارے سامنے اس وقت اور ان گنت بڑے بڑے مسائل موجود ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی اور تباہی و بربادی کی آگ لگی ہوئی ہے اس خوفناک آگ کوآریکل 6  کے نفاذ سے نہ ختم کیا جا سکے گا اور میری سوچی سمجھی رائے فی الحال یہ غداری کے مقدمات چلانے کا وقت نہ ہے اور یہ وقت تو پاکستان کو بچانے کا ہے اور پاکستان کو ایک دنیا کا طاقت ور ملک بنانے کا وقت صنعتی اور اقتصادی میدانوں میں پاکستان کو جاپان ثانی بنا دو۔ کشمیر ہمارا ہے اس کو بھارت کی غلامی سے آزادی دلائو خود اپنے پائوں پر کھڑے ہو جائو افواج پاکستان ہماری آزادی اور زندگی کی ایک طاقت ور ضمانت موجودہے۔ افواج پاکستان ایک واحد ادارہ ہے۔ جس میں ’’ڈسپلن فیتھ یونٹی‘ نام کی بات موجود ہے۔ باقی تو ہر جگہ ’’افراتفری‘‘ کا عالم ہے۔ لوگ مایوسی‘ محرومی ‘ مہنگائی اور شدت پسندی کی آگ میں مسلسل جلتے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے حکمران ملک میں امن قائم کریں پاکستان میں سیاست دان اور حکمران پوری طرح ناکام ہو چکے ہیں وہ گہری نیند سے جاگ جائیں اور ملک میں امن قائم کریں مہنگائی اور بے روزگاری کو قابو کریں پاکستان میں امن ہو گا تو پھر ہی سرمایہ کاری کاکام بھی شروع ہو سکے گا۔ پاکستان دیگر تمام پاکستانیوں کی ماند مجھے بہت ہی پیارا ہے اس پاکستان کی تعمیر ہم سب نے مل کرنی ہے۔ سیاسی میدانوں میں ذاتی دشمنی کو ترک کرنا ہی پڑیگا مجھے تو افواج یاکستان بہت ہی پیاری ہیں یہ افواج دن رات پاکستان اور قوم کی حفاظت کا کام کرتی ہیں۔ مجھے تو ڈاکٹر عبدالقدیر‘ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ان کے تمام سیاستدان ساتھی بہت ہی پیارے اور قابل احترام ہیں مجھے تو افواج پاکستان کے تمام سپہ سالار بھی دل سے پیارے لگتے ہیں انکی عزت و احترام کرنا ہمارا فرض اول ہے۔ اگر ہمارے حکمران اور سیاستدان ایمانداری اور دیانت داری سے حکمرانی کرینگے تو پاکستان میں کبھی مارشل لاء کا نفاذ نہ ہو گا۔ حکمرانوں کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ ملک و ملت کی خدمت دل کی گہرائی سے کریں یہ سیاستدان تھے جنہوں نے قائداعظم کے پاکستان کوتوڑا تھا۔
ہمارے شہر کراچی‘ کوئٹہ پشاور اور ملک کا کونہ کونہ آئین پاکستان کو توڑتا ہوا نظر آتا ہے زیارت میں قائداعظم کی رہائش گاہ کو جلا دیا گیا تھا۔ کیا ملزمان گرفتار ہوئے ہیں؟ وہ کب گرفتار ہونگے؟ میرے نزدیک یہ سارے کام غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات سے میں سخت پریشان ہوں۔ پاکستان سے بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام کب ختم ہوگا؟ آئین اور قانون کی حکمرانی کا نفاذ کب ہو گا؟ پاکستان زندہ باد‘ عدلیہ زندہ باد‘ جھوٹ فریب‘ چور بازاری‘ ڈاکہ زنی‘ شدت پسندی‘ ملک دشمنی مردہ باد ۔