قائداعظم علالت سے وفات تک

قائداعظم علالت سے وفات تک

 بانی پاکستان کی صحت اور علالت کے حوالے سے معلومات بہت کم ہیں‘ انکی بیماری کی جو معلومات ہیں وہ انکی زندگی کے آخری عشروں سے متعلق ہیں۔ سید شمس الحسن نے اپنی تالیف Plain Mr. Jinnah میں لکھا ہے کہ فروری 1927ءمیں لیگ آفس کی دہلی منتقلی کے بعد مسٹر جناح جب کبھی دہلی تشریف لاتے تو میں انکی دیکھ بھال کرتا۔ مسٹر جناح دوسرے امور میں تو محتاط تھے لیکن صحت کے معاملے میں احتیاط نہیں برتتے تھے۔ دہلی کی سردی انکے موافق نہیں ہوتی تھی وہ اکثر ٹھنڈ او رفلو کے شدید حملوں کا شکار ہو جاتے اور بیمار ہونے پر ڈاکٹر انصاری سے علاج کرواتے تھے ایک دفعہ ڈاکٹر انصاری نے انکے لیے بنگال کیمیکلز کی تیار کردہ دوا Lecivan تجویز کی ۔ اس سے انکی صحت خاصی بہتر ہو گئی ، یہ دوا کئی برس تک انکے زیر استعمال رہی ۔ 1935ءمیں انگلستان سے واپسی کے بعد وہ مس فاطمہ جناح کی زیر نگرانی رہے انہوں نے قائد اعظم کی دیکھ بھال انتہائی چاہت سے کی اور وہ ان کی صحت کے بارے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی تھیں ۔ ان سالوں میں انہیں انتخابی مہم چلانا پڑی اور انہوں نے تھکا دینے والی جدوجہد کی اور بالآخر قرارداد لاہور کی منظور ی تک آ پہنچے۔ 1940ءمیں قرار داد پاکستان کی منظوری کے دنوں میں پانچ فٹ ساڑھے دس انچ قد کیساتھ قائداعظم کا معمول کا وزن 112 پاﺅنڈ تھا۔ مگر حصول پاکستان کی جدو جہد اور کام کی زیادتی کی وجہ سے وہ ایک ایک اونس کر کے اپنا وزن کھونے لگے پھر بھی صحت کی طرف توجہ نہ دی ۔ صدر مسلم لیگ کی حیثیت سے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرنے کے علاوہ انہیںسنٹرل لیجیسلیٹو اسمبلی میں مسلم لیگ پارٹی لیڈر کی حیثیت سے بھی کام کرنا پڑتا تھا ۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنی کتاب میرا بھائی میں رقمطراز ہیں کہ انہیں گذشتہ کئی روز سے بخار آرہا تھا اس کے باوجود وہ اوائل نومبر 1940ءمیں اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے بذریعہ ٹرین بمبئی سے دہلی روانہ ہوئے اور دوران سفر رات کے کھانے کے بعد لیٹے ہی تھے کہ اچانک زور سے چلا اٹھے۔ ایسے لگا جیسے کسی نے لوہے کی گرم سلاخ ان کے جسم میں داغ دی ہو۔ چیخ سن کر میں ان کے پاس پہنچی اور بلبلا اٹھنے کی وجہ پوچھی مگر در د کی شدت نے ان کی قوت گویائی سلب کر لی تھی چنانچہ کچھ بولنے کی بجائے انہوں نے انگلی سے ریڑھ کی ہڈی کے دائیں جانب اشارہ کیا ۔ میں نے متاثرہ حصہ کو ملنا شروع کیا مگر تکلیف بڑھتی گئی ۔ ٹرین میں ہی گرم پانی کی بوتل سے ٹکور کرنے سے کچھ افاقہ ہوا۔ علی الصبح دہلی میں 10 اورنگزیب روڈ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر پہنچے اور ڈاکٹروں سے تفصیلی معائنہ کرایا جنہوں نے بتایا کہ قائداعظم کے پھیپھڑے کی جھلی پر ورم آگیا ہے لہذا انہیں لازمی طور پر دو ہفتے آرام کرنا چاہئے مگر صرف دو دن آرام کرنے کے بعد وہ معمول کے کاموں میں مصروف ہو گئے بلا شبہ وہ انتھک اور بے چین شخص تھے جو اپنی قوم کی تاریخ کے پریشان دور میں پیدا ہوئے تھے۔ پھیپھڑے کی جھلی پر ورم کا یہ حملہ ان کے لیے مرض الموت ثابت ہوا۔ وہ مرض پر قابو پا سکتے تھے اگر وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ۔ مگر انہوں نے کام کو آرام پر ہمیشہ ترجیح دی ۔صحت کی شدید خرابی کے باوجود بانی پاکستان کام ، کام اور بس کام کرتے رہے۔
 27 اگست کو عیدالفطر کے موقع پر قوم کے نام پیغام دیا ۔ 29 اگست کو یکایک انکی قوت ارادی جواب دینے لگی۔ یکم ستمبر کو ڈاکٹر نے فاطمہ جناح کو بتایا کہ قائد پر ہیمرج کا حملہ ہوا ہے ۔ ان کی حالت خراب ہونے لگی 5 ستمبر کو نمونیے کا حملہ ہوا۔ پاﺅں پر سوجن اور جسم پر سرخی مائل داغ پڑ گئے۔ 9 ستمبر کو حالت تشویشناک ہو گئی۔ 10ستمبر کو کرنل الٰہی بخش نے فاطمہ جناح کو بتا دیا کہ امید کی کوئی کرن باقی نہیں۔ اگلی صبح کوئٹے کے ہوائی اڈے پر تین طیارے اترے جن میں ایک قائداعظم کا حسین Viking بھی تھا۔ دوپہر دو بجے قائد کو اسٹریچر پر ہوائی اڈہ لایا گیا تو جہاز کے عملے نے سلامی دی اس پر قائدنے بمشکل اپنا کمزور ہاتھ اٹھا کر جواب دیا۔ جہاز نے پرواز کی اور کوئٹہ کی ناہموار پہاڑوں پر سات ہزار فٹ بلندی پر چلا گیا جس سے قائد کو آکسیجن کی شدید کمی کے باعث ماسک لگا دیا گیا سوا چار بجے جہاز کراچی کے ماڑی پور ائرپورٹ پر اترا تیرہ ماہ قبل اسی مقام پر لاکھوں پاکستانی اپنے مسیحا کے استقبال کے لیے جمع ہوئے تھے مگر آج صرف چند آدمی تھے۔ کیونکہ قائد کی کراچی آمد کو خفیہ رکھا گیا تھا ۔ وزیر اعظم کو بھی ہدایت تھی کہ وہ گورنر جنرل اور بابائے قوم کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ نہ آئیں۔ جہاز کے پاس کرنل جیفر نولز کھڑے تھے۔ انہوں نے اسٹریچر کو باہر جاتے دیکھا اور جب اسٹریچر کا رخ سورج کی طرف ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ قائداعظم نے اپنا ہاتھ چادر میں سے نکالا اور آنکھوںپر رکھ لیا تاکہ سورج کی روشنی ان پر نہ پڑے ۔ اسٹریچر ایک فوجی ایمبولینس میں رکھ دیا گیا ۔ فاطمہ جناح اور سسٹرڈنہم بھی ساتھ سوار ہو گئیں ۔ تقریباً چار میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد گاڑی مہاجروں کی گنجان بستی سے ذرا آگے پہنچی تو انجن نے ہچکی لی اور پھر اچا نک بند ہو گیا ۔ فاطمہ جناح لکھتی ہیں کہ پانچ منٹ بعد میں نیچے اتری تو بتایا گیا کہ ایمبولینس میں پیٹرول ختم ہو گیاہے میں کچھ دیر بعد اندر آئی تو قائد نے آنکھوں سے استفہامیہ انداز میں دیکھا میں نے جھک کر کہا ایمبولینس کا انجن خراب ہو گیا ۔ پیچھے کیڈلک کار پر ڈاکٹر الٰہی بخش اور دوسرے آرہے تھے۔ گرمی ناقابل برداشت تھی مستزاد یہ کہ بیسیوں مکھیاں انکے چہرے کے نزدیک منڈلانے لگیں۔ میں اور سسٹر ڈنہم باری باری انکے چہرے پر پنکھا جھلتے دوسری ایمبولینس کا انتظار کرنے لگے ۔ اسٹریچر کو کیڈلک کار میں منتقل نہیں کیا جاسکتا تھا چنانچہ کم از کم ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا ۔ فاطمہ جناح کے بقول میری پوری زندگی میں کوئی گھنٹہ اس ایک گھنٹے سے زیادہ طویل اور دردناک نہیں گذرا“ پھر دوسری ایمبولینس آئی اور ایک گھنٹہ میں چھ بجکر دس منٹ پر قائد گورنر جنرل ہاﺅس پہنچے۔ ڈاکٹروں نے معائنہ کیا او رمقوی قلب دوا پلانے کی کوشش کی لیکن دوا حلق میں اترنے کی بجائے دہانے سے باہر نکل گئی ۔ ڈاکٹر نے اینٹیں رکھ رک پائنتی ذرا اونچی کر دی تاکہ دل کی طرف دوران خون تیز ہو سکے ۔ پھر ٹیکہ لگانا چاہا لیکن رگیں بے جان ہو چکی تھیں ۔ نو بجکر پچاس منٹ پر کرنل الٰہی بخش نے کہا جناب ہم نے طاقت کا ٹیکہ لگایا ہے آپ بہتر ہو جائیں گے اس پر قائد نے سر کو جنبش دی اور کہا نہیں ، اب میں نہیں بچوں گا ۔ پھر وہ سو گئے فاطمہ جناح ان کے پاس تھیں انکے بقول پھر انہوں نے اچانک آنکھیں کھولیں اور سرگوشی میں بات کرنے کی کوشش کی ’فاطی خدا حافظ‘ اور پھر رُک رُک کر کلمہ پڑھا ۔ان کا سر آہستگی سے دائیں جانب ڈھلک گیا اور آنکھیں بند ہو گئیں ۔