بانی پاکستان اور آئین کی حکمرانی

کالم نگار  |  قیوم نظامی
بانی پاکستان اور آئین کی حکمرانی

سیاستدان قائداعظم کے اصولوں اور نظریات کی پیروی کرنے کے زبانی دعوے تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر ان دعوں پر پورے نہیں اُترتے۔ آج قوم بانی پاکستان کا 66واں یوم ولادت منا رہی ہے۔ حکمران بھی قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے میں آگے آگے ہوں گے۔ ان کی طرف سے یہ احسن عمل ہے لیکن یہ قائد کی تعلیمات، اصول پسندی اور آئین و قانون کی پابندی کو مشعل راہ نہیں بناتے۔ قائداعظم برصغیر کے مایہ ناز بیرسٹر تھے انہوں نے زندگی بھر آئین اور قانون پر عمل کیا۔ برصغیر کے دوسرے لیڈر آئین توڑتے اور ان کو پابند سلال ہونا پڑتا۔ قائداعظم کو آئین پرست ہونے کی بناءپر ایک دن کے لیے بھی جیل نہ جانا پڑا۔ قائداعظم نے گورنر جنرل کا منسب سنبھالنے کے بعد نہ صرف خود 1935ءکے ایکٹ پر عمل کیا بلکہ افواج، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو بھی قانون پر عملدرآمد کی ہدایت کرتے رہے۔ 1935ءکا ایکٹ پارلیمانی تھا جس میں وزیراعظم چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے اور گورنر جنرل کو کلیدی نوعیت کے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ قائداعظم نے ازخود یہ معاملہ کابینہ کے اجلاس میں اُٹھایا۔ کابینہ نے متفقہ فیصلہ کیا کہ گورنر جنرل نہ صرف حکومت کی رہنمائی کریں بلکہ حکومتی فیصلے ان کی تائید اور حمایت سے کیے جائیں۔ قائداعظم پر یہ الزام بے بنیاد ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کے آئینی اختیارات سلب کرلیے۔ پاکستان کی نئی ریاست کو قائداعظم کی رہنمائی کی ضرورت تھی لہذا کابینہ کے وزراءنے خصوصی اجلاس میں ایک کنوینشن کی منظوری دی جس کے مطابق طے پایا۔ پالیسی اور اصولی فیصلہ کابینہ کے اس اجلاس میں کیا جائے گا جس کی صدارت قائداعظم کریں گے۔ کابینہ اور قائداعظم کی رائے میں اختلاف کی صورت میں قائداعظم کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ قائداعظم کو حکومت پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور کابینہ کے سیکریٹری کو طلب کرنے کا اختیار ہوگا اور وہ قائداعظم کی خواہش کے مطابق ہر اطلاع اور فائل پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔ یہ کنوینشن قائداعظم کی ذات تک محدود رہے گا اور اس وقت تک موثر رہے گا جب تک پاکستان کا آئین نافذ نہیں ہوتا۔
قائداعظم خود بھی آئین اور قانون پر عمل کرتے تھے۔ قائداعظم کے اے ڈی سی میجر جنرل گل حسن نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے۔ ”قائداعظم گورنر جنرل ہاﺅس سے ملیر کی جانب جارہے تھے راستے میں ریلوے کا پھاٹک بند ملا۔ گاڑی آنے میں چند منٹ باقی تھے۔ گل نے پھاٹک کھلوایا مگر قائداعظم نے آگے جانے سے انکار کردیا اور کہا گل دیکھو اگر میں قانون توڑوں گا تو میری قوم قانون پر عمل کیسے کرے گی“۔ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے علاقوں کی تقسیم کے سلسلے میں ایوارڈ میں دھاندلی کی جس سے قائداعظم سخت مضطرب ہوئے۔ ان کے رفقاءنے ایوارڈ مسترد کرنے کا مشورہ دیا مگر آئین پرست قائداعظم نے کہا ۔
"No we agreed to arbitration... we must abide by that arbitration"
ترجمہ:۔ ”ہم نے ثالثی پر اتفاق کیا لہذا اب ہمیں ثالث کے فیصلے کو تسلیم کرناہے“۔ (قائداعظم بحیثیت گورنر جنرل)
1945-46ءکے انتخابات میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے پارٹی ٹکٹوں کے معاملے میں قائداعظم سے صوبائی پارلیمانی بورڈ سے سفارش کی درخواست کی۔ قائداعظم نے مسلم لیگ کے دستور کے مطابق مداخلت سے انکار کردیا اور مولانا عثمانی سے کہا کہ اگر ان کی حق تلفی ہو تو وہ مرکزی پارلیمانی بورڈ میں اپیل کریں۔ پاکستان کی کتنی سیاسی جماعتیں پارٹی دستور کی پابندی کرتی ہیں۔ پارٹی ٹکٹ مرکزی قیادت کی مرضی اور منشا سے ہی جاری کیے جاتے ہیں۔ اب تو کروڑوں روپے میں ٹکٹوں کی فروخت کے انکشافات بھی ہو رہے ہیں۔ سیاسی لیڈر اپنی سیاسی جماعتوں کو دستور کے مطابق نہیں چلاتے اور حکومت سنبھالنے کے بعد آئین پر حلف اُٹھانے کے باوجود آئین پر عمل نہیں کرتے۔ قیام پاکستان کے بعد گورنر جنرل کے طیارے کا آرڈر دیا گیا۔ طیارہ ساز کمپنی نے پرواز کے دوران سرکاری کام کے لیے کچھ اضافی لوازمات تجویز کیے۔ گورنر جنرل نے ان اضافی اخراجات کی منظوری دے دی۔ وزارت خزانہ نے فائل پر نوٹ لکھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم ہیں۔ گورنر جنرل قوم کے باپ ہیں۔ وزارت خزانہ ان کے طیارے کیلئے انتظام کرے گی البتہ اضافی اخراجات کے لیے وزارت خزانہ کی منظوری ضروری تھی۔ قائداعظم نے وزیر خزانہ غلام محمد کے نوٹ سے اتفاق کیا اور اپنی غلطی تسلیم کرکے اضافی اخراجات کا آرڈر منسوخ کردیا۔ آج ہمارے حکمران نہ صرف خود چارٹرڈ طیاروں میں سفر کرتے ہیں بلکہ دوستوں کو بھی اپنے خصوصی طیاروں میں ملاقات کے لئے بلواتے ہیں۔
جنوری 1948ءمیں کراچی میں فسادات ہوئے اس موقع پر چند صوبائی وزیروں نے کرفیو توڑتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی۔ فوج نے وزیروں کو حراست میں لے لیا۔ یہ مسئلہ گورنر جنرل قائداعظم کے پاس پہنچا۔ صوبائی وزیروں نے مو¿قف اختیار کیا کہ وہ امن و امان قائم کرنے کے لیے صوبائی انتظامیہ کی معاونت کررہے تھے۔ کراچی کے جی او سی جنرل اکبر نے کہا کہ امن و امان کا قیام ان کی ذمے داری ہے۔ قانون کے مطابق وزراءمداخلت نہیں کرسکتے۔ قائداعظم نے جنرل اکبر کی رائے سے اتفاق کیا۔ وزراءکو قانون کا پابند بنانے کے لیے ان سے معافی نامہ تحریر کرایا البتہ سیاسی نمائندوں کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے قائداعظم نے جنرل اکبر کو ہدایت کی کہ وہ وزیروں سے ہاتھ ملائیں اور ان کو کار تک چھوڑ کرآئیں۔ قائداعظم پنجاب میں ممتاز دولتانہ اور نواب ممدوٹ کی سیاسی کشمکش کی وجہ سے سخت تشویش میں مبتلا تھے۔ ڈان کے پہلے ایڈیٹر الطاف حسین نے قائداعظم کو پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کا مشورہ دیا۔ قائداعظم نے فرمایا قانون ان کو یہ اختیار اس وقت دیتا ہے جب ریاست کی سکیورٹی خطرے میں ہو۔ ممدوٹ دولتانہ کشمکش اندرونی مسئلہ ہے لہذا قوانین کے مطابق گورنر راج نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ کاش پاکستان کی سول سوسائیٹی آئین کی حکمرانی کو تسلیم کرلے اور سیاستدانوں پر بھی دباﺅ ڈالے۔ عدلیہ حکمرانوں کے آئین کے خلاف فیصلوں کو مسترد کرے تو سول سوسائیٹی عدلیہ کے ساتھ کھڑی رہے۔ آئین اور قانون پر عمل کر کے ہی عوام کو اچھی حکومت فراہم کی جاسکتی ہے۔