چیئرمین سینٹ پر اتفاق اور عمران خان مرد بحران

کالم نگار  |  قیوم نظامی
 چیئرمین سینٹ پر اتفاق اور عمران خان مرد بحران

سینٹ کے انتخابات مجموعی طور پر اطمینان بخش تھے ان انتخابات میں انفرادی سطح پر ہارس ٹریڈنگ کے مناظر سامنے آئے البتہ روایتی ہتھکنڈے اور حربے استعمال نہ کیے جاسکے اور سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی پارلیمانی طاقت کے مطابق سینٹ کی نشستیں حاصل کرلیں۔ سینٹ ریاست کا سب سے بڑاوفاقی ادارہ ہے اس ادارے کی ہیئت ملاحظہ فرمائیے آپ کو اس ادارے میں گہری تقسیم نظر آئے گی جو قوم اس حد تک تقسیم ہوچکی ہو وہ کامیابی سے ہمکنار کیسے ہوسکتی ہے۔ انتخابات کے بعد پی پی پی اکثریتی پارٹی بن کر ابھری ہے اس کی 27 نشستیں ہیں جو بلوچستان سے منتخب ہونے والے آزاد رکن یوسف بادینی کی پی پی پی میں شمولیت کے بعد اب 28 ہوگئی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) سینٹ کی دوسری بڑی جماعت ہے جس کے پاس 26 نشستیں ہیں۔
آصف علی زرداری مفاہمت کی سیاست کے دعوے کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں۔ مفاہمت کی سیاست کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ دونوں بڑی جماعتیں عملی مفاہمت کا مظاہرہ کرکے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین پر سمجھوتہ کرتیں تاکہ ان کو چھوٹے گروپوں کی بلیک میلنگ کا سامنا نہ کرنا ۔ آصف زرداری اپنے سیاسی مستقبل کے لیے سینٹ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ میاں نواز شریف سمجھتے ہیں کہ سینٹ میں بالادستی کے بغیر وہ اپنے قومی ایجنڈے پر عمل نہیں کرسکیں گے۔ آصف علی زرداری نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطے شروع کردیئے ہیں ان کو اگر ایم کیو ایم (8)، جمعیت العلمائے اسلام (5)، اے این پی (7)، بی این پی (2) اور مسلم لیگ (ق) کے چار سینٹروں کا تعاون حاصل ہوگیا تو وہ سینٹ کی جنگ جیت جائیں گے۔
میاں نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت بھی ان کے پاس ہے لہٰذا وہ آصف علی زرداری کی نسبت سینٹروں کے دل جیتنے کے لیے بہت کچھ کرسکتے تھے۔ مرکز کی وزارتیں، قومی اداروں کی سربراہی، بیرونی ملکوں میں سفارتیں اور پارلیمانی کمیٹیوں کی چیئرمینی ایم کیو ایم اور جمعیت علمائے اسلام اور آزاد اراکین کو رام کر سکتے تھے۔ اسحق ڈار، میاں شہباز شریف، پرویز رشید اور خواجہ سعد رفیق پر کشش پیش کشوں اور مراعات کے ساتھ سینٹ کی تمام پارلیمانی جماعتوں اور آزاد اراکین کے ساتھ رابطے میں بھی رہے۔ مسلم لیگ(ن) پی پی پی کے اُمیدوار کو شکست دینے کے لیے چیئرمین سینٹ کے کسی متفقہ اُمیدوار کو بھی قبول کر سکتی تھی کیونکہ فتح کی صورت میں چیئرمین کی لگامیں مسلم لیگ(ن) کے ہاتھ میں ہونی تھیں جبکہ پی پی پی کا چیئرمین مرکزی حکومت کو بہت ٹف ٹائم دے گا۔ آصف علی زرداری پارلیمانی سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں وہ حکومتی جماعت کو مات بھی دے سکتے ہیں۔ فاٹا میں انتخابات کے بعد ہی سینٹ کا ادارہ مکمل ہوگا۔ پاکستان کے سینئر ماہر قانون ایس ایم ظفر کے مطابق فاٹا میں انتخابات سے پہلے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات غیر آئینی ہوں گے۔ ایسے انتخابات سے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل ہوجائیگا اور ان کو عدالت میں چیلنج کردیا جائیگا۔ حکومت نے فاٹا کے چھ اراکین اسمبلی کے کارٹیل کو ختم کرنے کے لیے عجلت میں رات کے اندھیرے میں صدارتی آرڈی نینس جاری کردیا تھا جسے الیکشن کمشن نے قبول نہ کیا کیونکہ انتخابی شیڈول جاری ہوچکا تھا لہذا فاٹا میں انتخابات روک دئیے گئے۔ صدارتی آرڈی نینس کی وجہ سے حکمران جماعت کو مشکلات کا سامنا رہا۔ فاٹا کے اراکین اسمبلی مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ناراض ہیں۔ میاں نواز شریف کے تعلقات سینٹ کے اراکین سے خوشگوار نہیں ہیں۔ وزیراعظم کی حیثیت میں انہوں نے سینٹ کے اجلاسوں میں شرکت نہ کی۔ سینٹر ان کیخلاف احتجاج بھی کرتے رہے۔ آصف زرداری نے رضا ربانی کو چیئرمین سینٹ کے لئے نامزد کیاہے۔دوسری جماعتیں انہیں چیئرمین کو قبول کرنے پر آسانی سے مائل ہوگئیں۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا منصب چھوٹے صوبے سے تعلق رکھنے والی اہل اور دیانت دار شخصیت کو ملنا چاہیئے تاکہ وفاق مضبوط ہو اور چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی پیدا نہ ہو۔
سینٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے رہنما عمران خان مرد بحران بن کر ابھرے ہیں۔پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ(ن)،پی پی پی ، اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخواہ میں خصوصی دلچسپی لے رہیں تھیں۔ عمران خان ان جماعتوں کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں لہٰذا ان جماعتوں کی زبردست خواہش تھی کہ عمران خان کی تحریک انصاف سینٹ میں قابل ذکر نمائندگی حاصل نہ کرسکے اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرکے تحریک انصاف کے اُمیدواروں کو شکست سے دوچار کردیا جائے۔ اس مقصد کی خاطر گلزار خان فیملی کو میدان میں اُتارا گیا جو سینٹ کے ہر انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ کرکے اپنے خاندان کے تین سینٹرز منتخب کراتے رہے ہیں۔ ٹارگٹ تحریک انصاف تھی۔
25 اراکین پر مشتمل فارورڈ بلاک اور پانچ کروڑ روپے ایک ووٹ کی قیمت لگ رہی تھی۔ عمران خان کو اللہ تعالیٰ نے یقین محکم کی دولت عطا کررکھی ہے وہ خوف زدہ ہوکر جوڑ توڑ کرنے میں ملوث ہونے کی بجائے اپنے اصولوں پر کھڑے رہے۔ انہوں نے نڈر ، دلیر لیڈر کے طور پر واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ تحریک انصاف کا جو رکن پارٹی سے بے وفائی کرے گا۔ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور ہارس ٹریڈنگ کی صورت میں پختونخواہ اسمبلی کو توڑ کر نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔ عمران خان کے جنون اور نظریے نے سرمائے اور سازش کو شکست دے دی اور تحریک انصاف کی جانب سے سینٹ کے اُمیدوار فتح یاب ہوئے۔ وسیع پیمانے پر اور حسبِ روایت ہارس ٹریڈنگ کرنے والوں کو پہلی بار ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا اور اراکین اسمبلی کو پارٹی ڈسپلن کے اندر رکھنے میں کامیاب رہے۔ عمران خان ورلڈکپ، شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر اور تاریخ کے طویل دھرنے کے دوران بھی مرد بحران ثابت ہوئے تھے۔ پاکستان مختلف نوعیت کے بحرانوں کی زد میں ہے اسے ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو مرد بحران ہو۔عمران خان موجودہ حالات میں پاکستان کی قیادت کرنے کے لیے انتہائی موزوں سیاستدان ہیں۔
آصف علی زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس بلا کر ان سے سینٹ انتخابات کے سلسلے میں مشاورت کی جس میں بطور چیئرمین سینٹ رضاربانی کا نام فائنل ہوا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی پارلیمانی جماعتوں کے لیڈروں کو ظہرانہ دیا اور ان سے چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ مشاورت اور مفاہمت سے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ رضا ربانی کو اپوزیشن نے چیئر مین نامزد کیا۔ رضا ربانی با اصول اور باکردار سیاستدان ہیں اور چیئرمین سینٹ کے لیے انتہائی موزوں شخصیت ہیں۔انکے نام پر مسلم لیگ ن نے بھی اتفاق کیا جسے پاکستان کی کشیدہ فضا میں ہوا کا خوشگوار جھونکا قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگرتمام سیاسی جماعتیں ان پر اتفاق کرلیں تو رضا ربانی کے چیئرمین بننے سے ریاست کے اہم قومی ادارے کے وقار میں بھی اضافہ ہوگا اور وہ اس ادارے کو آئین اور جمہوری اصولوں کے تحت غیر جانبداری کے ساتھ چلا کر روشن مثال قائم کریں گے۔