احتجاجی مظاہرے ہی شنوائی کا ذریعہ کیوں…؟

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری
 احتجاجی مظاہرے ہی شنوائی کا ذریعہ کیوں…؟

یہ کوئی اچنبے کی بات ہے نہ پہلی بار ایسا ہوا ہے، احتجاجی مظاہروں کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج کا حربہ اختیار کر رکھا ہے جبکہ اب مظاہروں کو منتشر کرنے کے لئے سردیوں میں ٹھنڈا پانی اور گرمیوں میں رنگدار گرم پانی پھینکنے کے لئے واٹر کینن کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں مظاہرین زخمی نہیں ہوتے اور آسانی سے منتشر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ملزموں سے تفتیش کا پرانا طریقہ بھی ’’چھترول‘‘ اور ’’ڈنڈا کاری‘‘ ہے۔ اعلیٰ پولیس حکام جو تعلیم یافتہ ہیں اور بیرون ملک سے تربیتی کورسز بھی کر کے آتے ہیں مگر ان کی اس جدید تعلیم و تربیت کے ثمرات سے محکمہ پولیس تاحال فیض یاب نہیں ہو سکا۔ پولیس نے تشدد کو ہی اعترافِ جرم کا واحد طریقہ جان لیا ہے اس کے نتیجے میں آئے روز زیر حراست ملزمان کی ہلاکتوں کی خبریں سننے میں آتی ہیں۔ ہربنس پورہ لاہور کا واقعہ تازہ ترین واقع ہے۔ دراصل پولیس اہلکار جو لوگوں کو گرفتار کرنے، تھانے کی حوالات میں بند کرنے، کسی بھی نوع کا مقدمہ بنانے اور تفتیش کے نام پر تشدد کا اختیار رکھتے ہیں، ہر قسم کے مواخذہ سے آزاد ہیں۔ چند سال پیشتر جب میں باقاعدہ رپورٹنگ کرتا تھا ایک پریس کانفرنس میں ایک اعلیٰ پولیس افسر سے سوال کیا گیا کہ غیر قانونی واقعات میں ملوث اور عوامی شکایت پر پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ آفیسر موصوف نے جواب دیا ’’اس طرح پولیس فورس کا مورال ڈاؤن ہوگا۔‘‘ پولیس جو پیشہ ورانہ اعتبار سے عوام کی جان و مال کی محافظ اور معاشرہ کو جرائم سے پاک رکھنے کے لئے مجرموں کی سرکوبی کی ذمہ دار ہے بلاشبہ اس کا مورال بلند ہونا چاہئے لیکن پولیس کا مورال بلند رکھنے کے لئے عوام کو تختۂ مشق بنانا، ان کے ساتھ زیادتی ضروری نہیں ہے۔ اعلیٰ پولیس حکام خود کو ایئرکنڈیشنڈ کمروں تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی اعلیٰ تعلیم اور بیرون ملک تربیت کو پولیس کی اصلاح کے لئے بھی بروئے کار لائیں۔
ویسے جہاں تک احتجاجوں کا تعلق ہے ملک کے اکثر شہروں کے پریس کلبوں بالخصوص لاہور پریس کلب کے باہر کوئی ایک دن کیا دن میں کئی کئی بار کسی نہ کسی زیادتی یا مطالبے کیلئے احتجاجی مظاہرہ ہو رہا ہوتا ہے۔ پیر کے روز پنجاب اسمبلی کے سامنے شہریوں کا مظاہرہ بھی دراصل مسائل کے ستائے لوگوں کا تھا جس سے پورے شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ کیا یہ قابل غور نہیں ہے کہ مسائل اور زیادتیوں کے شکار لوگ احتجاج اور مظاہرے کرتے ہیں، سڑکیں بلاک کرتے ہیں، لاٹھی چارج، آنسو گیس برداشت کرتے ہیں، زخمی اور گرفتار ہوتے ہیں تب متعلقہ حکام متوجہ ہوتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سب کچھ ہونے سے پہلے مسائل کیوں حل نہیں ہوتے، شنوائی کیوں نہیں ہوتی اس کا ایک جواب تو حکمرانوں کی نااہلی اور بیڈ گورننس ہے۔ دوسرا جواب بیوروکریسی ہے جو معاملات کو الجھانے کا ’’شغل‘‘ جاری رکھتی ہے حالانکہ مسائل کو سلجھانے کی صلاحیت ان میں ہے۔ اس کے زندہ مظاہرہ کا میں عینی شاہد ہوں۔ گزشتہ دنوں نابینا افراد جو ماسٹرز اور گریجوایٹ تھے نوکریوں کے لئے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کر رہے تھے۔ ایک افسر ان سے بار بار کہہ رہے تھے ’’ 31 مارچ تک مسئلہ حل نہ ہو تو پھر میرے پاس آئیں‘‘ ایک نابینا نوجوان کے ہاتھ میں وزیراعلیٰ کے احکامات کی فوٹو کاپی پر تمام ڈی سی اوز کو انہیں فوری ملازمتیں دینے کی ہدایات (With Immediate Effcet ) کے الفاظ کے ساتھ دی گئی تھیں میں نے اس آفیسر سے جو محکمہ سوشل ویلفیئر کے ڈائریکٹر تھے، پوچھا اس لیٹر میں تو 31 مارچ کہیں تحریر نہیں ہے؟ انہوں نے فرمایا میں نے تمام ڈی سی اوز کو لیٹرز بھیجے ہیں اور ان سے استفسار کیا ہے کہ اس آرڈر پر عمل کیوں نہیں ہوا اور جواب کے لئے 31 مارچ تک کی تاریخ دی ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو معاملے کو اتنا لمبا کرنے کا اختیار ہے؟ فرمایا آخر جواب میں کچھ وقت تو لگے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے آج کے جدید دور میں جبکہ کمپیوٹر کے ذریعہ ایک سیکنڈ میں صوبے کے تمام ڈی سی اوز کو لیٹر بھجوائے جا سکتے ہیں اور فیکس کے ذریعہ چند منٹوں میں یہ کام ہو سکتا ہے اور اسی طرح ایک دو دن میں جواب موصول ہو سکتے ہیں۔ اس کام کے لئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ کا کیا جواز ہے۔ کیا ڈی سی اوز کے ہرکارے بیل گاڑیوں پر بیٹھ کر جواب لے کر آئیں گے۔ عوام کے مسائل حل نہ ہونے کی تیسری اور سب سے بڑی وجہ ایک مخصوص اشرافیہ کا مختلف سیاسی جماعتوں کے نام پر اقتدار و اختیارات پر تسلّط ہے جو استحصال کرنے والوں کے پشتیبان بھی ہیں۔ پتوکی میں منہیس برادری کے 90 سالہ بزرگ باباجی راوی ہیں قیام پاکستان سے قبل پنجاب کے نائب وزیراعظم سر چھوٹو رام نے کسانوں سے خطاب میں کہا تھا کہ ’’میں نے تمہیں بنیوں سے نجات دلائی ہے۔ پاکستان بن گیا تو ان سے زیادہ بڑے ’’بنیئے‘‘ تمہارا استحصال کریں گے اور تمہیں کوئی نجات دلانے والا نہیں ہوگا۔‘‘ سرچھوٹورام کی اس بات کو پاکستان کے حوالے سے خبثِ باطن کا نام دیا جا سکتا ہے۔کیا پیارے پاکستان میں کسان اور ہاری استحصال سے محفوظ ہیں، اسمبلیوں میں موجود بڑے زمیندار ہر سال کسان کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے نام پر زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں لیکن کسی آنکھ نے کسان اور ہاری کی بدلی ہوئی حالت دیکھی ہے؟ بلکہ وہ تو خود، اُس کے بچے بچیاں اور بیویاں تو’’ ہر ’’بلاول‘‘ ہے قوم کا مقروض، ننگے پاؤں ہیں ’’بینظیروں‘‘ کے‘‘ کی عملی تصویر ہیں۔ وہ اپنے جائز مطالبات کے لئے احتجاج کریں تو انہیں وہاڑی، پاکپتن اور دیگر شہروں میں پولیس کی لاٹھیوں سے جواب ملتا ہے۔ میرے پیارے پاکستان میں کسانوں اور مزدوروں کا یہی مقدر رہے گا جب تک انہیں موجودہ ’’دجالی نظام‘‘ سے نجات دلانے کے لئے کوئی عیسیٰؑ صفت رہنما نہیں ملے گا۔