آخری فتح

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
 آخری فتح

دہشت گردی کے خلاف جنگ حکومتیں اور عوام مل کر لڑتے ہیں لیکن کیا ہم نے اس جنگ کو افواجِ پاکستان کو آئوٹ سورس کر دیا ہے ؟کوئی یہ بتائے کہ دہشت گردی کو ختم کرنا کیا صرف فوج کی ذمہ داری رہ گئی ہے؟ جب تک یہ جنگ جاری ہے کیا صوبائی حکومتوں کی کوئی ذمہ داری نہیں اور انہیں آخری فتح حاصل ہونے تک بھنگ پی کر سو جا نا چاہئے؟ کیا صوبائی حکومتوں کو دہشت گردی کو کچلنے کیلئے ضلع، تحصیل اور ٹائون کمیٹیوں کی سطح تک سرگرمِ عمل نہیں ہو جانا چاہئے؟کیا عوام کی شمولیت اور انہیں فتح کا یقین دلائے بغیر دہشت گردی کیخلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے؟ کیا میں، آپ اور ہم سب صرف اخبارات میں خبریں پڑھنے ، ٹیلیویژن پر ٹاک شوز دیکھنے اور محفلوں میں بحث کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرینگے؟ کسے نہیں پتہ کہ پاکستان دہشتگردی کیخلاف اپنی طویل ترین جنگ لڑ رہا ہے، یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کا آغاز تو معلوم ہے لیکن یہ کب اور کیسے اپنے انجام کو پہنچے گی اسکے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔کئی سالوں سے دہشت گردی کے سلسلہ میں القاعدہ اور طالبان کے نام معروف ہیں جن میں افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کی علیحدہ علیحدہ شناخت ، مقاصد اور طریقہ کار ہیں۔اب گذشتہ چند ماہ سے داعش نامی تنظیم نے دنیا کی توجہ حاصل کی ہے ، فی الحال یہ عراق اور شام میں ہے لیکن آنیوالے وقت میں مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں بھی داعش کا خطرہ سر اٹھا رہا ہے جو عراق اور شام کی جغرافیائی حدود سے باہر نکلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ابوبکر البغدادی نامی خلیفہ نے اپنی اعلان کردہ خلافت کے بہت سے صوبوںکا اعلان کر دیا ہے جس میں مشرق وسطی، افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک اسکے صوبے کہے گئے ہیں۔ ان میں خراسان نامی صوبہ میں افغانستان اور پاکستان کو شامل کیا گیا ہے اور حافظ سعید خان کو اس صوبہ کی امارت دینے کا اعلان بھی ہے۔کتنے پاکستانی عراق اور شام جا کر داعش کی طرف سے لڑ رہے ہیں اور کتنے وہاں سے ٹریننگ لیکر واپس پاکستان آکر داعش کی کارروائیاں شروع کرینگے؟ گویا دہشت گردی کیخلاف جنگ کا دائرہ کار جو فی الحال القاعدہ اور طالبان تک محدود ہے، آگے چل کر داعش کیخلاف تک پھیل سکتا ہے۔ کیا ہم اس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں؟اس ضمن میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمہ تک جاری رہے گی۔ اس آخری فتح کو حاصل کرنے میں میں کتنے سال یا عشرے لگ جائینگے یا پاکستان کی کتنی نسلیں اس عذاب کو بھگتیں گی ، فی الحال اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
دنیا کی تاریخ میں دہشت گردی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اسکی تاریخ سینکڑوں سال پرانی ہے۔ یورپ کے تمام اہم ممالک نے 1648 ء میں ویسٹ فالیا ٹریٹی کے نام سے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں دہشت گردی کے روک تھام کیلئے تمام یورپی حکومتوں نے دستخط کئے تھے۔ امریکہ کے مشہور تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن نے اپریل 1962 میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا جس کے اہم نکات میں کہا گیا تھا کہ حکومتوں کے فرائض میں شامل ہے کہ :
(الف) ان تمام سیاسی، معاشی، فوجی اور دوسرے عوامل کی درست نشاندہی جو دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں اور ان کا درست حل۔
(ب) ملکی آبادی کو دہشت گردوں سے محفوظ بنانا ، انکے اعتماد کو مضبوط بنانا اور ساتھ لے کر چلنا۔
(ج) آبادی میں سیکورٹی فورسز کی ہمہ وقت موجودگی تاکہ لوگوں کا مورال بلند رہے۔
(د) ملکی آبادی کی طرف سے درست، بروقت اور مکمل انسانی انٹیلی جنس کی فراہمی۔
(ر) ایسے تمام اقدامات سے مکمل پرہیز جو ملکی آبادی میں اشتعال کا باعث بن سکیں۔
(س) ملکی آبادی کو یقین دلا دینا کہ وہ جیت رہے ہیں اور آخری فتح انکی ہو گی۔
رینڈ کارپوریشن کے اس مقالہ کو شائع ہوئے 53 سال ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اس وقت کے مقابلہ میں کمیونیکیشن، ٹیکنالوجی، ذرائع آمدورفت اور ابلاغیات میں انقلاب آچکا ہے لیکن دیکھا جائے تو بنیادی باتیں وہی ہیں جو اس وقت کہی گئی تھیں۔ اصل کام حکومت کا ہے جسکے ذمہ بروقت اقدامات اور درست پالیسیاں بنانا ہے۔ پاکستانی فوج دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ضربِ عضب کر رہی ہے جس میں فاٹا ایجنسیوں میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے تباہ کئے جا رہے ہیں۔جو علاقے دہشت گردوں کے کنٹرول میں تھے انہیں واگذار کرایا جا رہا ہے تاکہ وہاں معمول کی زندگی دوبارہ شروع ہو سکے۔ آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے ان علاقوں میں آبادی کا بہت بڑا انخلا ہوا ہے جنہیں آئی ڈی پیز کہتے ہیں۔حالات کے معمول پر واپس آنے کے بعد سب سے بڑا چیلنج آئی ڈی پیز کی بحالی اور ان علاقوں کی تعمیرِ نو کا کام ہو گا۔ آئی ڈی پیز کی تعداد اور درست فہرستوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان موجود ہے۔ اگر ڈیٹا ہی غلط ہو تو اس کی بنیاد پر ہونے والی منصوبہ بندی کس قدر کارگر ہو گی؟سانحہ پشاور کے بعد نیشنل ایکشن پلان کا اعلان ہوا۔ اس 20 نکاتی پلان پر کتنا عمل در آمد ہوا ہے؟بہت سے سوالات جواب طلب ہیں مثلاً ملٹری کورٹس کے قیام اور کام میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ کتنا نفرت انگیز لٹریچر اور تقریریں ضبط اور دہشتگردوں کی کتنی فنڈنگ بلاک ہوئی ہے؟مدرسوں کی رجسٹریشن میں کتنی پیشرفت ہوئی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ کیوں کچھ عناصر متفقہ فیصلوں کے بعد انہیں متنازعہ بنا نے کیلئے عدالتوں میں چلے گئے ہیں؟ کون کون سی سیاسی جماعتیں دہشت گردی کی مذمت میں ابھی تک معذت خواہانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں؟وکلاء ، ڈاکٹروں ، اساتذہ اور دیگر پروفیشنلز کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی دہشت گردی کے خلاف کس حد تک متحرک ہیں؟
دنیا کے مختلف ممالک دہشتگردی سے نبردآزما رہے ہیں، ان میں سے بہت سے ملکوں نے اس پر قابو بھی پا لیا ہے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے کیلئے نہ صرف طاقت کا استعمال ضروری ہے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کو مضبوط کرنیوالے عوامل کو شکست دینا بھی اتنا ہی اہم ہو تا ہے۔انہیں فنڈنگ اور اسلحہ دینے والے افراد، ادارے اور ممالک، دہشتگردوں کی ریکروٹمنٹ کرنے اور تربیت دینے والے مراکز اور انکے ہمدردوں، خیر خواہوں، قصیدہ خوانوں اور رابطہ کاروں کا مکمل قلع قمع بھی اتنا ہی اہم ہے۔ پہلے القاعدہ یا طالبان اور اب داعش کی متوقع کاروائیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کی مرکزی اور تمام صوبائی حکومتیں اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ بال کو فوج کی کورٹ میں پھینک دینے سے دہشت گردی ختم نہیں ہو گی، اس پر ہٹیں حکومت کو ہی لگانا ہونگی۔ زبانی جمع خرچ حکومت کی طرف سے ہویا دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرف سے، میڈیا ہو، سول سوسائٹی ہو یا پیشہ ورانہ تنظیمیں، ان سب کو دہشتگردی کیخلاف میدانِ عمل میں آنا ہو گا۔ جہاں تک داعش کا تعلق ہے تو ہم سب کا فرض ہے کہ اسے پاکستان میں جڑپکڑنے سے پہلے ہی اسے اکھاڑ پھینکنا ہو گااور آخری فتح کے حصول تک ہر قسم کے’ اگر مگر‘ کو اٹھا کر بحیرہ عرب میں پھینک دینا ہو گا۔