عصبیت کے بچے

کالم نگار  |  ڈاکٹر علی اکبر الازہری
عصبیت کے بچے

آج کے کالم کیلئے میں نے تھرپارکر میں فاقہ کشی پر لکھنے کی ذہن سازی کی تھی جہاں موت روٹی کے ایک نوالے کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی عیش پرستی اور بھوک سے بلکتے بچوں کی بے بسی ہمارے معاشرے کے دو الگ الگ حصے ہیں اور دونوں کے درمیان خلیج وسیع ہورہی ہے جو ایک خطرناک صورتحال کی خبر دے رہی ہے۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں جرم اتنا بہادر اور جرات مند ہورہا ہے کہ اس نے مزار قائد پر پہنچ کر ان کی قبر کو بھی روند دیا ہے۔ اہل فکر و بصیرت کیلئے اس روح فرسا اقدام کے تمام متعلقین کی جرا¿ت و ڈھٹائی پر گہری تشویش ہے۔ اسی طرح گذشتہ ہفتے دو ماﺅں نے اپنے جگر گوشوں کو اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے اور اس میں بھی ہمارے معاشرے کی گھناﺅنی منظر کشی ہورہی ہے جس کا سامنا ہم میں سے کوئی نہیں کر پارہا۔ یہ سارے سلگتے ہوئے موضوعات میرے حاشیہ خیال میں کروٹیں لے رہے ہیں مگر میں آج اپنے سابقہ موضوع کو ہی آگے بڑھاﺅں گا جس میں فتنوں کی ماں۔عصبیت کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس تحریر کے ردعمل میں قارئین نے معمول سے زیادہ رسپانس دیا ہے۔ لہذا آج میں چاہوں گا کہ قارئین کو بھی اس کی ایک جھلک دکھادوں۔ مدعا یہ ہے کہ عام لوگوں کے ذہن میں پنپنے والے تحفظات، خدشات اور بے چینی کی نوعیت کو قریب سے دیکھا جائے۔ نیز وہ اسباب جن کا تعلق ہمارے فکرو شعور اور علم و تحقیق کے ساتھ ہے ان کو اگر ہم مثبت تبدیلی کیلئے استعمال کرنا چاہیں تو بلاشبہ ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے وسیع حلقہ میں اسکے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ خصوصاً تعلیمی ادارے اور ان اداروں کے اندر پڑھانے والے اساتذہ اور علماءحضرات سوسائٹی کو اس تکلیف دہ صورتحال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہمارے ایک دیرینہ قاری جو ایک مقامی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں (ان کا نام مصلحتاً نہیں لکھا جارہا) انہوں نے اپنے ایک تفصیلی خط میں اپنے ذاتی مشاہدات و تجربات بیان کرتے ہوئے ”مذہبی عصبیت“ کے دیگر گوشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ قارئین کو انکے خط کے مندرجات سے آگاہ کرنے سے قبل اسی تحریر سے متعلق ایک وضاحت گوش گزار کرلوں۔
چند قارئین نے مجھ سے گلہ کیا ہے کہ آپ نے سابقہ امیر جماعت اسلامی محترم قاضی حسین احمد مرحوم کا نام لے کر ان پر فرقہ پرستی کا الزام لگادیا ہے حالانکہ وہ ساری زندگی اتحاد و اتفاق کی کاوشیں کرتے رہے۔ ان دوستوں سے میری گزارش ہے کہ میں نے مرحوم پر الزام نہیں لگایا اظہار تعجب کیا ہے۔ انکی مرنجاں مرنج، صلح کلی کی حامل اور ہمدرد ملت شخصیت سے میرا خود قربت اور محبت کا تعلق رہا ہے۔ میں نے تو سابق وزیر داخلہ معین الدین حیدر کا ایک جملہ کوٹ کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم شخصیات سے اوپر اٹھ کر ملک و ملت کے احترام اور دین و شریعت کے ان اصولوں کی بات کررہے ہیں جو ہمارے خالق و مالک نے اپنے محبوب رسول کے ذریعے ہمیں عطا فرمائے۔ ان اصول و ضوابط میں احترام انسانیت سب سے پہلا ضابطہ ہے۔ ہمارے آئمہ دین نے ہمیشہ خون خرابے سے اجتناب کیا ہے۔ لہذا ایسے نظریات اور تعصبات جن سے کسی مخصوص طبقے، جماعت اور گروہ کو دوسروں پر مسلط ہونے کا راستہ ہموار ہوتا ہو ان کی آبیاری قطعاً دعوت دین یا خدمت اسلام نہیں کہلاسکتی۔ احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ اپنی جگہ مگر مسلمان اگر معمولی اختلافات کو قتل و غارت گری کا بہانہ بنالیں گے تو انکے خلاف دشمنوں کو کوئی سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
اب آیئے اس خط کے اقتباس کی طرف: وہ لکھتے ہیں ”محترم ڈاکٹر صاحب! آپکی حقیقت نگاری قابل ستائش ہے۔ تاہم اس موضوع کے بعض پہلو ابھی تشنہ بیان ہیں کیونکہ مسلکی تعصب اور عصبیت کی فتنہ سامانی ہمہ گیر ہے اور اس سے بہت پیچیدہ مسائل پیدا ہورہے ہیں۔یہ صرف سیاست کے میدان میں ہی تنگ نظری، انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ نہیں دے رہی بلکہ عصبیت پر مبنی یہ رویے حکومتی اداروں خصوصاً سرکاری یونیورسٹیوں کے شعبہ جات اور بالخصوص علوم اسلامیہ کے شعبوں میں، عدل و انصاف، بین المسالک، رواداری اور میرٹ کا قتل عام کرنے میں دیدہ دلیری کے ساتھ ملوث ہے۔ جس یونیورسٹی کے وائس چانسلر یا صدر شعبہ بعض مخصوص مسالک سے تعلق رکھتے ہیں وہاں انکے مخالف مسلکوں کے اساتذہ کا مقرر ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اسی طرح داخلہ کے خواہش مند طلباءبھی میرٹ اور صلاحیت کی بجائے اسی ”عصبیت“ کی چھلنی سے گزارے جاتے ہیں اور ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی مخالف مسلک کے طالب علم کو اہلیت کی بنیاد پر داخلہ دیا گیا ہو۔ یہ الزام تراشی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ آپ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ میں اساتذہ اور طلباءکے حوالے سے ہی پچھلے پندرہ بیس سالوں کا سروے کرالیجئے حقائق خود کھل کر سامنے آجائینگے۔ اس سے آپکو ملک میں موجود سرکاری تعلیمی اداروں میں برتے جانیوالے امتیازی سلوک اور وہاں جاری صریح زیادتیوں کے حجم کا اندازہ ہوجائیگا۔ یہ معمولی مسئلہ نہیں بلکہ سوسائٹی میں اس کا ردعمل بہت گہرا ہورہا ہے۔ یہ عصبیت بے چینی اور باہمی نفرت کو جنم دے رہی ہے۔ پاکستان میں حالیہ خون خرابہ اور کھلی جنگ اسی نظریاتی عصبیت کے باعث جاری ہے۔ اس عصبیت کا حکومتی اور علمی سطح پر سد باب نہ کیا گیا تو گلی گلی میں لاشیں گریں گی اور شہر شہر میں تصادم ہونگے۔ اس خانہ جنگی پر ابلیس فتح کے جشن مناتا ہوا امت مسلمہ کی حماقتوں پر ہنس رہا ہوگا اور ہم ملک و ملت کے دشمنوں کو خوش کررہے ہونگے۔ فاٹا، وزیرستان اور بلوچستان سمیت کراچی جیسے اہم شہر میں یہی تعصب کی آگ لگی ہوئی ہے اور ہر روز کئی خاندان اجاڑ رہی ہے۔ خدارا اہل فکر ونظر اور خصوصاً حکومت اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس عصبیت کو اگر ختم نہیں کرسکتی تو اسے کمزور بہر صورت کرے ورنہ اس کے شعلوں میں ہمارے وطن عزیز کا وجود اور ہماری نسلوں کا مستقبل جل کر راکھ ہوجائیگا۔ عصبیت کے ان بچوں کو اگر ہم نے اسی طرح جوان ہونے دیا تو یاد رکھیں ہم کہیں کے نہیں رہیں گے“۔