ناشتے کی محفل : تاریخی حوالوں سے حالات حاضرہ تک) (2

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
ناشتے کی محفل : تاریخی حوالوں سے حالات حاضرہ تک) (2

مجھے اس بات کا افسوس رہا کہ مہمانوں کو خوش آمدید کہنے اور فر داً فرداً ان کا احوال دریافت کرتے ہوئے انہیں نشست کے لان میں لانے کے دوران بہت سے دوستوں کی گفتگو نہیں سن سکا لیکن کان کھلے تھے کچھ نہ کچھ سن رہا تھا ۔بہر حال عام مہمانوں کو بٹھانے کے بعد الگ الگ بات چیت کرنے اور انکے خیالات سے آگاہ ہونے کا خوب موقع ملا ۔چلتے چلتے میں نے سنا کوئی صاحب فرما رہے تھے کہ عمران خان کو ان کے دھرنوں ، جلسوںاور جلوسوں کے دوران انکی پارٹی کے عہدیداروں نے ان کےلئے وہ کام نہیں کیا جو ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور پرویز رشید نے کر دکھا یا، بات دل کو لگی ۔واقعی ان دونوں کے مخالفانہ بیانات کپتان خان کے حق میں جاتے رہے اور وہ انکی احمقانہ مخالفت سے بھی فائدہ اٹھاتے رہے ۔ سیانے کہتے ہیںکسی بات کو نظر اندا ز کرنا ہو تو اس پر کسی قسم کے رد ِعمل کا اظہار نہیں کیا جاتا۔ بچے کسی ضعیف العمر لاٹھی بردار کو ” پاگل اوئے پاگل اوئے “ کہہ کر اس کا پیچھا کرتے ہوں تو سیانا آدمی خاموشی سے چلتا رہتا ہے۔ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا تھوڑی دیر میں بچے خاموش ہو جاتے ہیں اگر اس نے پیچھے مڑ کر بچوں پر پتھر اٹھالیا تو بس پھر بچے تو اسے گھر ہی چھوڑ کر آتے ہیں۔کچھ ایسا ہی یہاں بھی ہوا تھا۔ عمران خان کی بات چلی تو انکی شادی کا ذکر بھی آیا اور وہ خاتون بھی مو ضوع سخن بنیں جو پی ٹی آئی اور عمران کی بہنوں کی بھابھی بننے والی ہیں۔ کسی نے کہا اللہ نے جوڑی خوب ملائی ہے۔ خداشادو آباد رکھے دونوں کو اور دونوں کے بچوں کو بھی۔ محفل چونکہ اہلِ علم و دانش کی تھی لہذا ذاتی معاملات پر مزید کوئی بات کرنے سے گریز کیا گیا تاہم سیاسی حوالے سے یہ متفقہ رائے سامنے آئی کہ عمران خان کی نوجوانوں میں مقبولیت کا گراف کافی نیچے آگیا ہے جسے دوبارہ استوار کرنے کےلئے انہیں کافی وقت درکار ہوگا۔ اس دوران مڈٹرم الیکشن کا دورانیہ بھی گزر جائےگا لہذا ن لیگ کی حکومت کیلئے خیر ہی خیر ہے۔ اس عرصے میں وہ عوام کی فلاح و بہبود کےلئے کچھ کر گزرے تو آئندہ بھی لوگ یاد رکھیں گے لیکن اگر کا رکردگی گزشتہ ڈیڑھ سال والی رہی تو پھر خود اس کیلئے مشکل ہو جائےگی۔ سیاسی کھیل میں ایسا موقع بار بار نہیں ملاکرتا۔

انیق احمد اور اوریا مقبول جان پاکستان میں تعلیمی پسماندگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دور کرنے کے اقدامات اور تجاویز پر گفتگوکرتے رہے۔ اوریا مقبول جان تو خیر دوسال قبل اس سمت عملی قدم بھی اٹھا چکے ہیں اور علم کی روشنی بانٹنے میں بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔ انیق احمد بھی اس سمت کچھ کرنے کے بارے میں سنجیدہ نظر آرہے تھے تاہم ان کا کہنا تھا جہاں نئی نسل کےلئے تعلیم ناگزیر ہے وہاں ہماری نسل کے لوگ نظام عدل کو اسلامی خطوط پر دیکھنا چاہتے ہیں ۔یہاں بتایاگیا کہ والی ِمصر نورالدین زنگی کو لوگ سلطان عادل کے نام سے جانتے ہیں اور تاریخ بھی انہیں ایک عادل سلطان مانتی ہے۔ یہ وہی نور الدین زنگی ہیں جنہیں حضور پاک ﷺ کے پائے مبارک کی زیارت نصیب ہوئی کہ خواب میں حضور پاک ﷺ نے انہیں بلاوا بھیجا تھا کہ آکر میری قبر سیدھی کر جاو¿ یہودی تنگ کر رہے ہیں چنانچہ نور الدین زنگی نے گھوڑے پر دس روز کا سفر 6دن میں طے کیا اور مدینہ پہنچ کر گورنر مدینہ کو طلب کر کے تمام شہریوں کی ضیافت کا اہتمام کروایا ۔بار بار یہ یقین دہانی حاصل کرتے رہے کہ تمام شہری یہاں پہنچ گئے ہیں مگر انہیں اس ہجوم میں وہ دو افرا د نظر نہیں آئے جو انہیں خواب میں دکھا ئے گئے تھے انکی بابت پوچھا تو بتایا گیا وہ دو یہودی تارک الدنیا ہیں۔ حضور پاک ﷺ کے مزار کے پاس ہی ان کا خیمہ ہے ۔نورالدین زنگی اس خیمے میں پہنچے اور کچے فرش پر بچھی دری اٹھائی تو سرنگ کا انکشاف ہو ا جو ان کے خیمے سے حضور پاک ﷺ کے روضے تک جا رہی تھی نور الدین زنگی سرنگ میں چلتے چلتے روضے تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں حضور ﷺ کے پائے مبارک مزار سے باہر نکلے ہوئے تھے ۔سلطان عادل نے پہلے دونوں یہودیوں کے قتل کا حکم صادر کیا جنہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ حضور ﷺ کے جسد خاکی کو یہاں سے نکال کر یہودیوں کی بستی میں لے جانا چاہتے تھے بعد میں انہوں نے لحد درست کرا کر مزار کی ازسرِ نو تعمیر کرائی اور چاروں طرف سیسہ پلائی دیوار بنائی گئی ۔ یہ اس اعزاز ہی کا ثمر تھا کہ نور الدین زنگی اور ان کے ہونہار اور جانباز بھیتجے صلاح الدین ایوبی نے آدھی سے زیادہ دنیا میں اسلام کا نور پھیلایا اور یورپ میں بھی اسلام دشمنوں کا ناطقہ بند کر دیا ۔۔ محفل میں یہ گفتگو حضور ﷺ کے یوم ِ ولادت کے حوالے سے زیر ِعنوان آئی ۔ یہاں ایک دوست نے ذکر کیا کہ آج کی محفل میں نظام عدل کا حوالہ آیا تو نور الدین زنگی کی یاد آئی اور پھر ذہن حضور ﷺ کے نظام عدل کی طرف گیا جہاں چوری پر ایک صحابیؓ نے ہاتھ نہ کاٹنے کی سفارش کی تو فرمایا گیا خدا کی قسم میری بیٹی فاطمہ ؓ چوری کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کٹوا دیتا ۔ معاشرے اسی لئے نہیں سدھرتے کہ کمزور پر قانون لاگو اور طاقتورقانون سے مبرا ۔ فرمایا کہ یہیں سے بگاڑ شروع ہوتا ہے۔تمام حاضرین محفل اپنے دل میں محسوس کر رہے تھے کہ ہمارے ہاں بگاڑ کی اصل وجہ ہی ہمارا ناقص نظام عدل ہے ۔10ہزار رشوت لینے والا اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور10 ارب ڈکارنے والا ملک سے باہر نکل جاتا ہے یا یہیں قانون و انصاف کو خرید لیتا ہے ۔ یہ بڑی فکری گفتگو تھی مگر جس کونے میں ہو رہی تھی فوج کے سابق عہدیداران اس سے ذرا دُور بیٹھے اپنی باتوں میں مصروف تھے ۔ جنرل جاوید، جنرل حسین مہدی، جنرل مصطفےٰ ،بریگیڈیئر غضنفر اور بریگیڈیئر فاروق وہ محب وطن لوگ ہیں جن کی عسکری خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ جنرل حسین مہدی رینجیر ز کے ڈی جی بھی رہے وہ عہدے سے سبکدوشی کے بعد عام طور پر تقریبات سے دور رہتے ہیں مگر راقم کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ اس کی ہر تقریب میں شامل ہوتے ہیں۔
حالات حاضرہ کی مناسبت سے تقریب میں موجود عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے تناظر میں فوجی عدالتوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت تھی ۔ یہ عدالتیں قائم کرنے کی سمت پیش رفت درست اور بروقت اقدام ہے۔ تینوں سابق جرنیل اور دونوں بریگیڈئیر بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر بار بار حملوں پر سخت نالاں اور بر ہم نظر آرہے تھے۔ انہوں نے اس واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا کہ بی ایس ایف نے فلیگ میٹنگ کے بہانے پاک فوج کے دو جوانوں کو دھوکے سے بلا کر شہید کر دیا اس پر پاک فوج کو جوابی کارروائی کرنی چاہیے تھی ۔خدا جانے سر حد پر موجود پاک فوج کی قیادت کس مصلحت کا شکار ہوئی ورنہ یہ موقع ایسا تھا کہ بی ایس ایف کو ناکوں چنے چبوائے جا سکتے تھے انہی میں سے ایک صاحب نے کہا کہ پاک فوج یقینا جوابی کارروائی کرتی اگر اسے سول قیادت کی طرف سے درگزر کرنے کا پیغام نہ ملا ہوتا ۔سول قیادت نے ایسا کیو ں کیا ؟ ۔محفل جاری تھی کہ نماز جمعہ کی دوسری اذان کا وقت ہو گیا ۔ گورنر چوہدری محمد سرور اٹھ کھڑے ہوئے کہ وہ نماز جمعہ اپنی مسجد میں ادا کرنا چاہتے تھے ۔ چنانچہ کچھ دوست میرے گھر کے سامنے والی مسجد کی جانب چل دئیے اور باقی احباب اپنی گاڑیوں میں روانہ ہوئے کہ بر وقت اپنے گھروں کی قریبی مساجد میں پہنچ سکیں۔(ختم شد)