قومی مفاد پر شرمندگی کیوں؟

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری
قومی مفاد پر شرمندگی کیوں؟

پیہم بے بسی اور لاچاری کا اظہار کیوں؟ اگر فوجی عدالتوں کا قیام ناگزیر ضرورت ہے دہشت گردی کے قلع قمع کیلئے یہی واحد صورت ہے اور اسکے حق میں فیصلہ بہترین قومی مفاد میں کیا گیا ہے تو پھر اس سے دامن بچانے کی سعی لا حاصل کیوں؟ قوم کے منتخب نمائندوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کی راہ ہموار کرنے کیلئے 21 ویں آئینی ترمیم پر دستخط فرمائے یہ کسی خفیہ اجلاس میں نہیں بھری پارلیمنٹ میں ہوا پھر بھی ”Never Fel so Ashamed As Today“ کا کیا جواز ہے اگر یہ ضمیر کی چبھن ہے تو پھر صاحب کردار لوگوں کی طرح کسی نفع و نقصان کو خاطر میں لائے بغیر ضمیر کی آواز پر لبیک کیوں نہیں کہا گیا رضا ربانی، اعتزاز احسن تو آئین کی سربلندی اور جمہوریت کے چیمپئن ہیں اور اگر مرض اتنا بگڑ گیا تھا کہ نشتر زنی لازمی تھی تو پھر سر عام آہوں اور سسکیوں کا کیا جواز، پورے اعتماد سے کہا جاتا ہاں بے قابو دہشت گردی کا یہی علاج ہے یا استعفے لیکر پارلیمنٹ سے باہر آ جاتے موجودہ طرز عمل اس شعر کے مصداق کیوں؟ ....

اے نوحہ گرو جرا¿ت کے کردار بھی کرتے
حق کی تھی اگر بات سر دار بھی کرتے
البتہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے دو طبقات کی جانب سے تحفظات و شکوک و شبہات سامنے آئے ہیں ایک قانون دان طبقہ دوسرے دینی مدارس کے متعلقین اس پر حکومت یا مقتدر قوتوں کی جانب سے بھی دو طرح کا جوابی ردعمل ہو سکتا ہے اول یہ کہ جو درست سمجھا گیا کر دیا گیا کوئی چیخ و پکار کرتا ہے تو کرتا رہے۔ دوسرا رد عمل مخالفانہ نقطہ نظر کو رسانیت سے سننا اور درپیش صورتحال کی سنگینی کا ٹھوس دلائل کے ساتھ احساس دلا کر تشفی کرانا ہے یہ صائب انداز اس لئے ہے کہ اس سے شکوک و شبہات سے بوجھل فضا باد نسیم کے جھونکوں میں بدل سکتی ہے حکمت و دانش رہنماہو تو لاینحل عقدوں کی گر ہیں چٹکیوں میں کھل جایا کرتی ہیں مذہبی جماعتوں کے ردعمل کا سبب مذہب، فرقے اور مسلک کی بنیاد پر دہشت گردی کو فوجی عدالت کے دائرہ عمل میں لایا جانا ہے اگر اس کا اطلاق ہر قسم کی دہشت گردی پر کر دیا جاتا تو تحفظات اور اعتراضات کی گنجائش ہی نہ رہتی، جیسا کہ بعض مذہبی تنظیموں کو کالعدم قرار دیئے جانے پر اختلافی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا کیونکہ اس سے کسی ایک مذہب، فرقہ یا مسلک کے ساتھ امتیازی سلوک کا تاثر پیدا نہیں ہوا تھا کالعدم قرار دی جانے والی تنظیمیں حسب ذیل ہیں۔
تحریک نفاذ شریعت محمدی، لشکر طیبہ، سپاہ محمد، لشکر جھنگوی، تحریک جعفریہ، سپاہ صحابہؓ، جیش محمد، القاعدہ، ملت اسلامیہ، تحریک اسلامی، اسلامی تحریک پاکستان، ملت اسلامیہ، خدام اسلام، خیرالناس انٹرنیشنل ٹرسٹ، جمعیت الانصار، حزب التحریر، جمعیت الفرقان، شیعہ طلباءایکشن کمیٹی، اسلامک سٹوڈنٹس آف پاکستان، تحریک طالبان پاکستان (مختلف دھڑے) لشکر اسلامی، مرکز سبیل آرگنائزیشن گلگت، انصار الاسلام، اہل سنت و الجماعت، رابطہ ٹرسٹ، انجمن اسلامیہ گلگت، الحرمین فاﺅنڈیشن، تنظیم نوجوانان اہل سنت گلگت، تنظیم اہل سنت و الجماعت (بریلوی)، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، گلگت بلتستان، مجاہدین اسلام، عبداللہ عزام بریگیڈ، تحفظ حدود اللہ، جیش اسلامی، ویسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک جہاد یونین، اسلامک موومنٹ آف ازبکتستان، امر بالمعروف و نہی عن المنکر (حاجی نامدار گروپ) یہ تنظیمیں یا گروپ وہ ہیں جن کی اسلامی شناخت ہے انکے وابستگان کی سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرے میں آئیں گی اور ان کیخلاف مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا جبکہ کالعدم قرار دیئے جانے والے دیگر گروپس اورگروہ یہ ہیں لشکر بلوچستان، بلوچستان مسلح دفاع تنظیم، بلوچستان ری پبلکن پارٹی، بلوچستان بنیاد پرست آرمی، بلوچ سٹوڈنٹس ارگنائزیشن، خانہ حکمت اور جئے سندھ محاذ، ان سے متعلق افراد کے خلاف مقدمات پہلے سے قائم انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں چلیں گے جن کے سربراہ جج صاحبان ہیں اور انکے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل بھی کی جا سکتی ہے۔
حکومتی بزر جمہر کمال کرتے ہیں ٹی وی پر یہ اشتہار چلوایا کہ عوام مساجد اور مدارس پر نظر رکھیں اور کوئی مشکوک نظر آئے تو 1717 پر اطلاع دیں یہ یوں بھی ہو سکتا تھا کہ عوام مساجد اور مدارس سمیت ہر جگہ نظر رکھیں اس سے یہ تاثر پیدا نہ ہوتا کہ مساجد اور مدارس ہی نشانہ ہیں 21 ویں ترمیم کی رو سے جماعت اسلامی، جمعیت اہلحدیث، جمعیت علماءاسلام، جمعیت علماءپاکستان، دعوت اسلامی وغیرہ سے وابستہ افراد اگر دہشت گردی کی تعریف میں آنیوالے جرم کا مرتکب ہوا تو اس کیخلاف مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا، جبکہ مسلم لیگ (تمام دھڑے) پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، اے این پی اور ایم کیو ایم وغیرہ جیسی جماعتوں کے متعلقین کے ایسے ہی جرم کا مقدمہ سول خصوصی عدالت میں چلے گا وفاقی وزیر داخلہ کے بقول دس فیصد مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں ان دس فیصد کا نمدہ کس دیا جائے باقی نوے فیصد کو ”نیک چلنی“ کا سرٹیفیکیٹ مل جائےگا۔
دوسرے یہ احتیاط کر لی جائے کہ کسی مدرسے سے وابستہ فرد اگر دہشت گردی میں ملوث ہے تو اس کا ذمہ دار مدرسے کو نہ قرار دیا جائے جس طرح کسی ڈاکو، چور یا جیب تراش کے جرائم کی وجہ سے اسکے گھر یا گھر والوں کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاتا ہاں اگر کوئی مدرسہ ایسی سرگرمی میں ملوث ہے تو اسے عبرت کا نشان بنا دیا جائے مولانا فضل الرحمن نے جو تین تجاویز پیش کی ہیں ان پر غور کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کو مذہب، فرقہ اور مسلک سے منسلک نہ کیا جائے، فوجی عدالتوں کی مدت دو سال سے ایک دن زائد نہ ہو، فوجی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے اس آخری تجویز سے جہاں انصاف کے تقاضے پورے ہونے کا احساس جنم لے گا وہاں یہ قانون دان برادری کیلئے بھی ذہنی آسودگی کا باعث بن سکتا ہے۔