ستم گر تُجھ سے اُمیدِ وفا

کالم نگار  |  نعیم قاسم
ستم گر تُجھ سے اُمیدِ وفا

جہاں سانحہ پشاور نے ہر حساس دل کو رُلا کر رکھ دیا ہے، روح کا چین اور دل کا قرار پاش پاش کر دیا ہے ”ضبط لازم ہے مگر دُکھ ہے قیامت کا فراز“ دل میں چھپائے ہمارے بہادر اور دردمند آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ آرمی پبلک سکول کے شہدا کی روح کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی میں شرکت کی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دکھ اور غم کی گھڑی میں اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا وہیں بعینہ اُسی وقت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی دوسری شادی کی تقریب بنی گالہ میں منعقد ہو رہی تھی اور تیسرا اُسی وقت فرقہ وارانہ دہشت گردی کی نقیب کالعدم تنظیموں کے مابین معاہدوں سے انتہائی خطرناک سزائے موت کا قیدی موت سے تیس سیکنڈ دوری پر ہونے کے باوجود دوبارہ زندگی کی طرف واپس لوٹ آیا۔ کراچی میں بھی نواز شریف حکومت نے سیاسی مصلحت یا اپنے ڈر اور خوف کی وجہ سے ایک خطرناک دہشت گرد کی سزائے موت منسوخ کر دی اور چوتھا مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ وہ اکیسویں ترمیم کے خلاف دینی اور سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں گے۔ 

اگرچہ آئینی ترامیم میں دہشت گردی کی تعریف و تشریح میں جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے مطالبے پر مذہب اور فرقے کے الفاظ حذف کر دئیے گئے ہیں مگر سیاسی منافقت کی انتہا دیکھیں کہ خیبر پی کے اور فاٹا میں تقریباً 60 فیصد ووٹ بنک کی حامل جماعتوں تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے آئینی ترامیم میں رائے شماری سے اجتناب کیا۔ رضا ربانی کے رونے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ کہیں دوبارہ مارشل لا آنے سے فوجی عدالتیں پیپلز پارٹی کے لیڈران کو کرپشن کے تحت پکڑ نہ لیں اور 18ویں ترمیم کے ذریعے رضا ربانی نے مسلم لیگ (ن) سے مل کر جمہوریت کے نام پر جو شخصی آمریت قائم کی ہے اسی کا شکار وہ اور اعتزاز احسن سب سے پہلے خود ہوئے ہیں۔ اسی آئینی ترمیم کے تحت کوئی بھی پارلیمنٹرین پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پر پارلیمنٹ سے اس پارٹی کے سربراہ کی سفارش پر نااہل ہو سکتا ہے تو جناب کل آپ اپنی پارٹی کے سربراہ کے ڈر سے (خاکم بدہن) پاکستان توڑنے کے حق میں بھی روتے ہوئے ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں ضمیر کی آواز پر مگرمچھ کے آنسو تو بہائے جا سکتے ہیں مگر استعفیٰ نہیں دیا جا سکتا ہے چاہے پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی نااہلی سے سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہو یا خیبر پی کے کے وزیر اعلیٰ اور آئی جی پولیس ناصر درانی کی بے حسی اور نااہلی کی وجہ سے سانحہ پشاور میں پھول بچوں کی شہادت ہو۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے صاف صاف کہا ہے کہ آئی جی کو دو ہفتے پہلے یہ رپورٹ بھجوا دی گئی تھی کہ آرمی پبلک سکول پر دہشت گرد حملہ کر سکتے ہیں مگر انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ انہوں نے کسی ایسی رپورٹ پر دستخط کئے ہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ موصوف نے بغیر پڑھے اُس خط پر ”سین“ Seen لکھ کر دستخط کر دئیے تھے اور خط کے مندرجات کو پڑھنا گوارا ہی نہیں کیا تھا لہٰذا ہمارے ہاں تو یہ رواج ہی نہیں ہے کہ کسی سانحہ کے ذمہ دار کا تعین کیا جائے۔ شیخ رشید جب ریلوے کے وزیر تھے تو حیدر آباد میں ریل کے حادثے کے بعد کسی صحافی نے ہندوستان اور مغربی ممالک کی مثال دیتے ہوئے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے وزارت سے مستعفی ہونا پسند کرینگے تو موصوف نے جواب دیا کہ ”کیا میں ریل کے انجن کا ڈرائیور تھا جو میری غفلت سے حادثہ ہوا ہے لہٰذا میں کیوں استعفیٰ دوں۔“ وزیر اعلیٰ خیبر پی کے اور آئی جی خیبر پی کے اور کور کمانڈر پشاور کیوں استعفیٰ دیں۔ کون تحقیق کریگا کہ پندرہ دن پہلے اس سکول کے ارد گرد ایف سی کی کئی چیک پوسٹیں تھیں جو اس سانحے سے چند روز پیشتر ہٹا لی گئیں۔ جب درندے معصوم بچوں کو شہید کر رہے تھے تو ایک گھنٹے تک کسی قسم کی کوئی ریپڈ کوٹیک فورس، پولیس یا ایف سی کے سپاہیوں نے دہشت گردوں کی مزاحمت نہ کی۔ جنرل اسلم بیگ کے ایک مضمون میں انکشاف کیا گیا کہ سوا گھنٹے کے بعد چراٹ سے ایس ایس جی کے کمانڈوز سکول پہنچے اور انہوں نے دہشت گردوں کو ہلاک کیا مگر اتنی دیر میں وہ وحشی اپنا کام سرانجام دے چکے تھے۔ اسلم بیگ صاحب کہنا ہے کہ اگر مقامی پولیس اور ایف سی فوراً دہشت گردوں کا مقابلہ شروع کر دیتی تو ہو سکتا ہے کہ زیادہ بچے شہید نہ ہوتے۔
آج جب پاکستان پر دہشتگردی کا عفریت نازل ہے وہ مذہبی جماعتیں جو ہمیشہ فوجی آمروں خصوصاً ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کا ساتھ دیتی رہیں وہ مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنیوالوں کو بچانے کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کر رہی ہیں حالانکہ جے یو آئی اور جماعت اسلامی ضیاالحق کے ساتھ شریک اقتدار رہیں اور اُس وقت تو انہوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت نہیں کی جب پیپلز پارٹی کے جیالوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں دی جاتی تھیں اور انہیں کوڑے مارے جاتے تھے۔ متحدہ مجلس عمل نے 2002ءمیں پرویز مشرف کو وردی میں صدر تسلیم کرتے ہوئے بدنام زمانہ لیگل فریم ورک آرڈر کی حمایت کی اور اسے آئین کا حصہ بنانے کیلئے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جو ڈکٹیٹر کے لئے بڑا ریلیف تھا۔ اسی طرح سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی 14 اکتوبر 1999ءکی ایمرجنسی کو بطور جج قانونی حیثیت دی اور پی سی او جج کے طور پر حلف اٹھایا آج وہ کس منہ سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو نہ تو سول جمہوریت نے کچھ دیا ہے اور نہ ہی فوجی آمریت سے ان کو کچھ ملا ہے۔ ہمارے سیاستدان جب چاہتے ہیں فوجی آمروں کے پٹھو بن کر اس ملک کی لوٹ کھسوٹ شروع کر دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں جمہوریت کے چیمپئن بن کر آئین اور قانون کی بالادستی کے راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ موجودہ نظام عدل میں پولیس، پراسیکیوشن اور ججوں کے مشترکہ اتحادِ ثلاثہ میں ممکن ہی نہیں ہے کہ انہیں اپنی کرپشن، لوٹ مار اور مذہبی، سیاسی، معاشی، دہشت گردی پر کس قسم کی سزا مل سکے لہٰذا وہ ہر حال میں ہر اُس عمل کی مذمت کرینگے جس سے انکے سیاسی اور معاشرتی مفادات کو دھچکا پہنچے۔ پاکستان کے عوام اس وقت دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کے ہاتھوں شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں ہمیں صرف اور صرف فوج ہی بچا سکتی ہے، ہمارے سیاسی حکمران جن کے مال و ابساب باہر ہیں اور انکے بیوی بچے اس ملک کے شہری ہی نہیں وہ کیوں ہمیں دہشت گردی کے عذاب سے نجات دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرینگے ان کا بار بار دہشت گردوں کے بچوں سے ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ کبھی پاک فوج کو غیر ملکی ایجنسیوں کے آلہ کار اینکر پرسن موردِ الزام ٹھہراتے ہیں کہ ہم نے خود ہی طالبان بنائے ہیں۔ جی ہاں! ضیاالحق نے بنائے تھے تو جب سے پرویز مشرف اور موجودہ آرمی چیف نے فوج کی قیادت سنبھالی ہے تو وہ کسی صورت میں بھی مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو ملک و قوم کا ساتھی قرار نہیں دے سکتے ہیں۔ اگر ہماری بہادر فوج نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کا اعادہ نہ کرتے ہوئے ہر حال میں اس ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کرینگے تو پھر ہمارے سیاستدان خصوصاً وہ جو مذہب کے نام پر سیاست کر رہے ہیں وہ کیوں ان نرسریوں کیخلاف کریک ڈاﺅن کرنے کیخلاف ہیں جہاں غریبوں کے بچوں کے معصوم ذہنوں میں دوسرے فرقہ، اقلیتوں اور سیاسی مخالفوں کیخلاف نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں اور پھر ان ذہنوں کی آبیاری کے بعد انہیں دہشتگردوں کے نظریاتی ساتھی بنا دیا جاتا ہے۔ آج یہ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اسلام کی وہ روشن اور پُرامن تصویر اپنی نئی نسل کے سامنے پیش کرنا ہے جس میں مذہب، قومیت، عقیدہ، رنگ اور نسل کے نام پر قتل و غارت کرنیوالے یا اُن سے ہمدردی رکھنے والے یا ریاست کے باغیوں کو ریاست کے برابر فریق تسلیم کر کے اُن سے بات چیت کرنے اور ان کے حقوق اور انصاف کے لئے آواز اٹھانے والے اسلام اور ریاستی قوانین کے تحت مرتد اور باغی ہیں لہٰذا جو شخص بھی آئین، قانون اور اسلام کی رو سے ریاست کےخلاف یا ریاست کے پُرامن شہریوں کیخلاف بندوق اٹھاتا ہے، تشدد اور نفرت کا پرچار کرتا ہے اسے ہماری ریاست کے اداروں کو سختی سے کچلنا ہو گا وگرنہ یہ دہشت گرد پاکستان کو بھی ایتھوپیا، روانڈا، عراق یا افغانستان بنا ڈلیں گے۔ ہمیں اپنے معصوم بچوں کے قاتلوں کو ان کے انجام تک پہنچانا ہے یہ کام صرف اور صرف پاکستان کی مسلح افواج ہی کر سکتی ہیں اور جہاں تک ہمارے سیاستدانوں کا تعلق ہے تو وہ ہمیں جمہوریت کے نام پر سیاست کر کے دہشت گردی کا شکار کرتے ہیں گے تاکہ وہ اس ملک میں لوٹ مار جاری رکھیں۔ میں ان کے متعلق یہی کہوں گا
ستم گر تُجھ سے اُمیدِ وفا ہو گی جنہیں ہو گی
مجھے تو دیکھنا یہ ہے کہ تو ظالم کہاں تک ہے