کالا باغ ڈیم پر قومی اتفاق رائے… آخر کب؟

کالم نگار  |  رحمت خان وردگ....

کالا باغ ڈیم کی افادیت اور قومی مفاد پر تقریباًہرباشعور اور محب وطن شہری متفق ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں تیار کیا گیا تھا اور اس وقت ڈیم کی تعمیری لاگت 346بلین ڈالر تھی لیکن اب تعمیر پر اس سے دوگنے اخراجات آئیں گے اور اگر اس وقت کالا باغ ڈیم تعمیر کردیا جاتا تو پاکستان آج موجودہ بجلی بحران کا بھی شکار نہ ہوتا اور پاکستان کی معیشت آخری ہچکیاں بھی نہ لے رہی ہوتی اور پاکستان کو کسی غیر ملکی قرضے کی بھی ضرورت نہ ہوتی۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کی دیہی آبادی کو شہروں کا رخ نہ کرنا پڑتا اور آج کراچی‘ لاہور‘ راولپنڈی‘ فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں کی جو حالت بنی ہوئی ہے اس کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آج بڑے شہروں میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور تعلیم و صحت کی مناسب و معیاری سہولتیں دستیاب نہیں۔
کالا باغ ڈیم میں 79لاکھ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنیکی گنجائش ہوگی اور 3800میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ کالا باغ ڈیم سے خیبرپختونخواہ کے ضلع کرک‘ ٹانک‘ لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کا 8لاکھ ایکڑ ہموار رقبہ سیراب ہونے سے ان علاقوں میںمعاشی انقلاب آجائیگا حالانکہ ان علاقوں میں اس وقت لاکھوں ایکڑ ہموار زمین بیکار پڑی ہے اور یہاں کے لوگوں کو روزگار کے لئے دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے اور اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو ان علاقوں کی لاکھوں آبادی کو گھر بیٹھے بہترین معاش دستیاب ہوگا۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں خیبر پختونخواہ کا سب سے کم آباد رقبہ زیر آب آئیگا جبکہ سب سے زیادہ ہموار غیر آباد رقبہ بھی خیبرپختونخواہ کا آباد ہوگا۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے آغاز کے 3-5 سال میں ڈیم مکمل ہوجائیگا۔ خیبرپختونخواہ کے تمام تکنیکی اعتراضات پہلے ہی ختم کردیئے گئے تھے مگر اس معاملے کو سیاسی ایشو بناکر ملک دشمنی کی جارہی ہے۔
صوبہ سندھ کو اس ڈیم کی تعمیر سے دوہرا فائدہ ہوگا ۔ اس ڈیم کی تعمیر سے صوبہ سندھ میں غیر آباد زمین سیراب ہونے کیساتھ ساتھ گزشتہ کئی سال سے آنیوالے تباہ کن سیلاب سے بھی چھٹکارا مل سکتا ہے مگر صوبوں کے درمیان بداعتمادی کے باعث اس اہم ترین قومی مفاد کے منصوبے کو سیاسی بناکر متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سندھ میں کالا باغ ڈیم کے مخالفین اگر صرف اس سوال کا جواب دے دیں کہ تربیلا اور منگلا ڈیم کی تعمیر سے قبل اور بعد میں سندھ میں زیر کاشت رقبہ کتنا کتنا ہے؟ تومیرے خیال میں کالا باغ ڈیم کے مخالفین کے منہ بند ہوجائینگے اور جہاں تک بات ہے کوٹری ڈائون اسٹریم میں لازمی پانی چھوڑنے کی تو ہر سال مون سون کے موسم میں 6ڈیموں کے مساوی پانی سمندر بردہوجاتا ہے لیکن ایک ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی حماقت کی جارہی ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم بن جاتا ہے تو پھر بھی ہر سال 5ڈیموں کے برابر پانی سمندر میں جائیگا اور ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم 6 بڑے ڈیم فوری طورپر تعمیرکریں۔
خواجہ آصف نے گزشتہ روز بیان دیا کہ کالا باغ ڈیم قومی اتفاق رائے کے بغیرنہیں بن سکتا۔ ہمارے ہاں سیاستدانوں کو قدرت نے موقع دیا ہے اور اگر یہ موقع ضائع کیا گیا تو یہ بہت بڑی بدقسمتی ہوگی۔ ہر سیاسی جماعت کے رہنمائوں کا پنجاب میں اور موقف ہوتا ہے جبکہ سندھ میں اس کے برعکس۔ میں یہ بات لکھنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرتا کہ کالا باغ ڈیم کے مخالفین ملک و قوم کے غدار ہیں اور اگر اب بھی محب وطن ہونے کے دعویدار سیاستدانوں نے کا لا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے ’’قومی اتفاق رائے‘‘ نہ پیدا کیا تو پھر جلد ہی ملک کے غریب عوام اپنا اور اس وطن عزیز کا فیصلہ کریں گے اور پھر ڈیم کے مخالفوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔
اگر حکومت واقعی اہم قومی مفاد میں جرات مندانہ فیصلے کرنا چاہتی ہے تو فوری طور پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے متعلق الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس طلب کرکے اس معاملے پر خیبرپختونخواہ اور سندھ کو اعتماد میں لیکر فوری طور پر قومی اتفاق رائے پیدا کرے۔ سندھ میں سیہون شریف‘ خیبرپور میرس‘ جامشورو میں 3چھوٹے ڈیم پہلے بناکر پھر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز کیا جائے تومیرے خیال میں سندھ کے لوگوں کا عدم اعتماد ختم کیا جاسکتا ہے اور 3 چھوٹے ڈیموں میں سندھ کی ضرورت کا پانی وافر مقدار میں دستیاب رہے گا جس سے فصل ربیع اور فصل خریف میں کاشتکاری کی جاسکے گی۔خیبرپختونخواہ کے تکنیکی اعتراضات تو پہلے ہی ختم کئے جاچکے ہیں اور یہ کہنا کہ کالا باغ ڈیم سے نوشہرہ ڈوب جائیگا تو تربیلا ڈیم جوکہ نوشہرہ سے تقریباً 50کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اس ڈیم سے نوشہرہ نہیں ڈوبا تو تقریباً 250کلومیٹر دور کالا باغ ڈیم سے نوشہرہ کیسے ڈوب سکتا ہے؟
و زیراعظم میاں نوازشریف اگر پاکستان کی تاریخ میں امر ہونا چاہتے ہیں اور چاہتے ہوں کہ سیاست میں ان کا مقابلہ کوئی نہ کرسکے تو وہ نیک نیتی سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے راہ ہموار کرکے اس کی تعمیر شروع کردیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر میاں صاحب نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز کرلیا تو سیاست میں ان کو کوئی کبھی بھی شکست نہیں دے سکتا کیونکہ پاکستان کی اکثریت عوام باشعور ہے اور وہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی نہ صرف حامی ہے بلکہ اسکی جلد از جلد تعمیر بھی چاہتی ہے۔
اگر آل پارٹیز کانفرنس طلب کی جائے اور سیاسی جماعتیں شرکت سے معذرت کر لیں تو پھر کالا باغ ڈیم کی حمایت یا مخالفت میں ریفرنڈم کرایا جائے اور نتائج آنے کے بعد فوری طور پر اس منصوبے کے بارے میں فوری فیصلہ کیا جانا ضروری ہے۔ اگر اب اس دور حکومت میں بھی اس اہم قومی منصوبے کے متعلق مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی تو یہ قومی جرم ہوگا اور مستقبل میں بھارت کو موردالزام ٹھہرانے والوں کے پاس الزامات کا جواز نہیں رہے گا کیونکہ وہ خود بھی اس وقت خاموش رہ کر ایک قومی جرم ہی کر رہے ہیں۔