چیف جسٹس کی رخصتی اور قرضہ سکیم

کالم نگار  |  محمد اکرام چودھری

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری آج پورے اعزاز کے ساتھ اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ یہ وہ عہد ساز شخصیت ہیں جن کے ایکNO نے ملک کی تقدیر سنوار دی۔ ’’یہ مرد درویش‘‘ آمر مشرف، اسکے جرنیلوں اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے سامنے ڈٹ گئے اور انکے ڈرانے دھمکانے کے باوجود مستعفی ہونے کے سے انکار کر دیا۔ ان پر طرح طرح کے ستم ڈھائے گئے، کئی روز تک اہل خانہ کے ساتھ نظر بند رکھا گیا مگر وہ آمریت کے سامنے ٹس سے مس نہ ہوئے۔ وہ ہمالیہ کی طرح فخر سے ڈٹے رہے اور اعلیٰ عدلیہ کا وقار سر بلند کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے حوالے سے بڑے بڑے نام درج ہیں جنہوں نے اصولوں کی بنیاد پر استعفے دیئے اور پی سی او کے تحت حلف لینے کی بجائے ریٹائرمنٹ کو ترجیح دی مگر جسٹس افتخار نے پاکستان میں انصاف کا بول بالا کرنے کیلئے جو کردار ادا کیا ہے وہ ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے کسی حکومتی دباؤ کو قبول نہیں کیا اور آئین کی بالادستی کو برقرار رکھتے ہوئے ایسے ٹھوس فیصلے کئے جن کی عدلیہ کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی یہاں تک کہ ملک کے وزیراعظم کو توہین عدالت کے جرم میں سزا دے کر نااہل قرار دیا اور یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا۔ اس طرح کئی وزراء سیاستدانوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز بیورو کریٹس کو ان کی بداعمالیوں کے باعث عہدوں سے ہٹا دیا گیا جعلی ڈگریوں کے حامل سیاست دانوں پر مقدمات درج کرائے ۔ ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان کی طویل عرصہ سے زیر التواء درخواست کا فیصلہ سنایا اور اسکے ذمہ داروں جن میں اعلیٰ فوجی افسر بھی شامل ہیں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا۔ جن سیاستدانوں نے رقوم لی تھیں‘ انکی واپسی کی ہدایت بھی کی گئی۔ سردخانے میں پڑے اس کیس کی تحقیقات شروع ہو چکی ہیں نئے چیف جسٹس جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے جسٹس افتخار چودھری کو اعلیٰ عدلیہ کا افتخار اور رول ماڈل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن اور آئین سے انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عوامی مفاد کے مقدمات ان کا پسندیدہ موضوع ہیں نئے چیف جسٹس جسٹس تصدق حسین جیلانی اہم مقدمات کی سماعت کے دوران ریٹائرڈ ہونیوالے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ رہے ہیں۔ اس طرح وہ بھی انصاف کا بول بالا کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کے وقار میں مزید اضافہ کرینگے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری ایک قابل رشک جج ہیں ملک وقوم کیلئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا اور انکے فیصلے اعلیٰ عدلیہ کیلئے روشن راستے متعین کرینگے۔
 دوسری طرف بیروزگاری ہمارا ایک بنیادی مسئلہ ہے جس نے نوجوان نسل کا مستقبل تباہ کر رکھا ہے، عام ہنر مند نوجوان تو رہے ایک طرف … مگر ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی نوکریوں کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں، اسی وجہ سے وزیراعظم نوازشریف نے اپنے انتخابی وعدے کیمطابق نوجوانوں کیلئے کاروباری قرضوں کا اجراء کیا ہے، اس سکیم کے مطابق 21 سے 45 سال تک کے افراد کو کاروبار کیلئے آسان شرائط پر ایک لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک کے قرضے دیئے جا رہے ہیں، قرض کی واپسی ایک سال بعد شروع ہو گی اور مکمل واپسی کیلئے 7 سال کی مدت رکھی گئی ہے۔ قرض پر 15 فیصد مارک اپ عائد ہو گا جس کا 7 فیصد حکومت ادا کریگی۔ یہ سکیم ایک کھرب روپے سے شروع کی گئی ہے اس کا دائرہ کار آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک وسیع کر دیا گیا ہے۔بے روزگاری نوجوانوں میں مایوسی اور بے چینی پیدا کرتی ہے اور اس کا نتیجہ تشدد اور انتہا پسندی کی شکلوں میں سامنے آتا ہے ۔ یہی احساس ہے جس نے ملک کو درپیش سخت مالی مشکلات کے باوجود وزیراعظم کو اس منصوبے کے آغاز پر آمادہ کیا۔ مالی مشکلات کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ حکومتی قرضوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے اس وقت ہر پاکستانی 96 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ ان مشکل اور پرآشوب حالات میں وزیراعظم کا نوجوانوں کیلئے ایک کھرب روپے مالیت کے قرضے فراہم کرنا ایک بڑا اور اہم کارنامہ ہے وہ نوجوانوں کو مایوسی اور بے یقینی کی کیفیت سے نکال کر ملک کی تعمیر و ترقی کے عمل میں شریک کرنا چاہتے ہیں، وہ انہیں انکے ادھورے خوابوں کی تعبیر دے رہے ہیں۔اگر محنت اور ایمانداری سے کام کیا جائے تو مناسب کاروبار کیلئے دو چار لاکھ روپے بھی کافی ہوتے ہیں مگر وزیراعظم نے نہایت فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20 لاکھ تک قرضہ کی فراہمی کا اہتمام کیا ہے، حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے بلکہ مہنگائی کے اثرات بھی کم ہو جائینگے، کیونکہ ان قرضوں سے جو لوگ بھی کاروبار شروع کرینگے وہ اپنی ضرورت کے مطابق اپنی دکانوں اور دوسرے کاروباری مراکز میں ملازمین بھی رکھیں گے اس طرح روزگار کی تعداد بڑھے گی، لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوگا۔
 اس ضمن میں ملک کے قابل فخر سپوت ڈاکٹر محمد ثاقب کا ادارہ ’’اخوت‘‘ کو رول ماڈل بنایا جا سکتا ہے جس نے گھپ اندھیرے میں روشنی کے چراغ روشن کئے اور اس وقت روشنی کا مینار بنا چاندنی بکھیر رہا ہے۔ ’’اخوت‘‘ نے چھوٹے چھوٹے لوگوں کو چھوٹے چھوٹے قرضے فراہم کئے جس سے غربت کے مارے بے آسرا لوگوں نے چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کئے۔ اس طرح عام لوگ اب خاص لوگ بن گئے ہیں، لاکھوں غریب لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں، ان میں بیشتر کا شمار اب معاشرے کے متمول افراد میں بھی ہوتا ہے اور وہ اب اپنے پلے سے ’’اخوت‘‘ کو مالی امداد دے رہے ہیں۔
 اس وقت ’’اخوت‘‘ کی طرف سے دیئے گئے قرضوں کی مالیت 1,754,955,080 ہے جس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں ’’اخوت‘‘ کی 256 برانچیں اس کارِ خیر میں مصروف ہیں اس شرح حیرت انگیز طور پر 99.82 فیصد ہے۔
 ایک بار میں نے ایک تقریب میں ڈاکٹر محمد ثاقب سے استفسار کیا کہ آپ کے فراہم کردہ قرضوں کی واپسی کی شرح تقریباً سو فیصد ہے اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن میں لتھڑے ملک میں یہ معجزہ کس طرح ممکن ہوا، ڈاکٹر صاحب مسکرائے اور میرا ہاتھ تھام کر کہا کہ پاکستان کے جاگیرداروں، سیاستدانوں اور دیگر ایلیٹ کلاس کی نسبت غریب غرباء زیادہ دیانتدار اور فرض شناس ہیں۔ اس لئے ہمارے قرضوں کی واپسی کی شرح 99.82 فیصد ہے۔00.18 فیصد لوگ جو قرض نہیں چکا سکتے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کا کاروبار آگ لگنے سے تباہ یا کسی اور وجہ سے برباد ہو جاتا ہے۔البتہ جو قرض دار اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے اس کے لواحقین قرض کی ادائیگی کی قسطیں باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔اسی طرح برادر اسلامی ملک بنگلہ دیش کے ایک بیٹے ڈاکٹر محمد یونس نے بھی اپنے ملک میں جنگل میں منگل برپا کر رکھا ہے۔ ’’غربت کا خاتمہ‘‘ اس کا ماٹو ہے اسکا ’’گرامین بنک‘‘ بے سہاروں کا سہارا بنا انہیں قرضے فراہم کر رہا ہے اس نے بھی لاکھوں غریب لوگوں کو چھوٹے قرضے دے کر خود کفیل بنایا ہے، ڈاکٹر محمد یونس کا کہنا ہے کہ غربت کے ماروں کو مچھلی نہیں کانٹا دو۔ مچھلی دینے سے وہ بھکاری بنیں گے جبکہ مچھلی پکڑنے والا کانٹا پا کر وہ اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہو جائینگے۔
وزیراعظم نوازشریف نے بھی نوجوانوں کے ہاتھوں میں بنگلہ دیش کے ڈاکٹر محمد یونس کی طرح مچھلی کی بجائے کانٹا تھما دیا ہے یہی کانٹا انکے کٹھن راستے کے سارے ’’کانٹے ‘‘ چن کر انکا مستقبل روشن کریگا۔ اس ضمن میں سابق حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہمارے سامنے ہے۔ یہ ٹائیں فش ثابت ہوا ہے یہ پروگرام غربت میں کمی کی بجائے بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ کا موجب بنا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ غریبوں کو معقول رقم دے کر انکے کاروبار کا سامان پیدا کیا جاتا مگر حکمران ہر ماہ انہیں ایک ایک ہزار دیکر بھکاری بناتے رہے۔ اس طرح وزیراعظم نوازشریف کی نوجوانوں کیلئے قرضہ سکیم کا حشر ’’پیلی ٹیکسی‘‘ اور ’’سستی روٹی تندور‘‘ جیسا نہیں ہونا چاہیے جس میں قوم کے اربوں روپے جھونک دیئے گئے مگر اس سے حاصل وصول کچھ نہ ہوا۔ ڈاکٹر محمد ثاقب اور ڈاکٹر محمد یونس کے پروگر اموں سے استفادہ کر کے اس پروجیکٹ کو آگے بڑھایا جائے تو یہ منصوبہ حقیقت میں ملک میں خوشحالی اور خودکفالت کی نوید ثابت ہوگا اور اس سے معاشی انقلاب برپا ہوگا۔