بلوچستان بلدیاتی انتخاب کے سیاسی اثرات

کالم نگار  |  قیوم نظامی

پاکستان ایک وفاق ہے جس میں پنجاب بڑے بھائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پنجاب کو اب تک باقی صوبوں کے لیے ماڈل بن جانا چاہیئے تھا مگر ابھی یہ منزل بڑی دور ہے۔ بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضہ اور حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کرانے کا اختیار صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔ پنجاب کے حکمران مختلف حیلے بہانوں سے بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ شریف برادران اگر صدق دل سے جمہوریت پسند ہوتے تو وہ قائداعظم کی میراث مسلم لیگ کو جمہوری روایات کی امین بناتے ہوئے تسلسل کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کراتے تو پنجاب میں جمہوریت مستحکم ہوچکی ہوتی اور آج عوام مقتدر ہوتے۔ ثابت ہوا کہ تاجر جمہوریت کو پروان نہیں چڑھا سکتے۔ بلوچستان پاکستان کا پسماندہ صوبہ ہے وہاں پر بلوچ جوان آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں البتہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نظریاتی اور جمہوری سیاستدان ہیں انہوں نے حالات کی کشیدگی کے باوجود اپنے صوبے میں سب سے پہلے مجموعی طور پر پرامن بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرکے دوسرے صوبوں کو پیغام بھیجا ہے کہ قیادت اگر نیک نیت ہو ، سیاسی عزم کی حامل ہو اور جمہوریت میں پختہ یقین رکھتی ہو تو بلدیاتی انتخابات سے گریز نہیں کرتی بلکہ عوام کو جمہوری عمل میں شریک کرتی ہے۔
بلدیاتی انتخاب اور مقامی حکومتوں کے بغیر جمہوری نظام کا تصور نہیں کیا جاسکتا مگر پاکستان کے جاگیردار اور سرمایہ دار سیاستدانوں نے جمہوریت کی شکل ہی بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ پاکستان کی موجودہ جمہوریت ایک نوعیت کی ملوکیت ہے جس میں سیاستدان اقتدار پر قابض ہوکر بادشاہوں کی طرح قومی خزانے کو لٹاتے ہیں اور فیصلے کرتے وقت آئین ، قانون اور جمہوری اصولوں کی قطعی پرواہ نہیں کرتے۔بلوچستان میں پہلے بلدیاتی انتخابات بی ڈی سسٹم کے تحت 1959ء میں ہوئے تھے جو غیر جماعتی بنیاد پر کرائے گئے۔ جنرل ایوب خان نے سیاستدانوں کو ایبڈو کرکے سیاست پر پابندی لگارکھی تھی۔ آمر جرنیل کو مقامی سطح پر ایسے غیر سیاسی ڈھانچے کی ضرورت تھی جس کے ذریعے اس کی پالیسیاں عوام تک پہنچ سکیں۔ بعد میں جنرل ایوب نے بی ڈی ممبران کے ذریعے اپنے آپ کو صدر منتخب کرالیا۔ 1972ء میں مقامی اداروں کو معطل کردیا گیا۔ بھٹو شہید نے ’’طاقت کا سرچشمہ عوام‘‘ کا نعرہ تو دیا مگر اپنے دور میں عوام کو مقامی سطح پر مقتدر نہ بنایا۔ سیاستدان عوام سے ووٹ تو لیتے رہے مگر عوام کو اقتدار میں شریک نہ کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے نظریۂ ضرورت کے تحت غیر جماعتی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات 1979، 1983 اور 1987 میں کرائے۔ جمہوری لیڈروں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے اپنے ادوار میں بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریز کیا۔
 جنرل مشرف نے نئے سسٹم کے تحت غیر جماعتی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کرائے۔ چیف جسٹس پاکستان اگر دبائو نہ ڈالتے تو مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کے رہنما کبھی اپنے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے پر رضا مند نہ ہوتے۔ تاحال دونوں جماعتیں مختلف حیلے بہانے کرکے انتخابات ملتوی کررہی ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ شاید چیف جسٹس پاکستان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو بلدیاتی انتخابات کے غیر معمولی التواء کا موقع مل جائے۔بلوچستان میں پہلی بار جماعتی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں جن میں 32 لاکھ رائے دہندگان کو ووٹ کا حق ملا۔ پہلے مرحلے پر ڈسٹرکٹ کونسلوں کے ارکان منتخب ہوئے۔ یہ مرحلہ پر امن طور پر مکمل ہوا اور دھاندلی کے الزامات سامنے نہیں آئے۔ دوسرے مرحلے میں ضلعی کونسلوں کے چیئرمین اور نائب چیئرمین بالواسطہ منتخب ہوں گے۔ منتخب کونسلر ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ یہ مرحلہ بڑا حساس ہوگا اور 486 آزاد کونسلر منڈی لگائیں گے اور ہارس ٹریڈنگ ہوگی۔
الیکشن کمشن اور صوبائی حکومت کے لیے انتخابات کا دوسرا مرحلہ چیلنج ہوگا۔ براہ راست انتخابات میں متوقع طور پر حکمران اتحاد کو کامیابی حاصل ہوئی۔ نیشنل پارٹی نے 138 ، مسلم لیگ(ن) نے 119 اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے 101 نشستیں حاصل کیں۔ پی پی پی کوئی نشست حاصل نہ کرسکی جس کی ذمے داری پی پی پی کی مرکزی قیادت پر عائد ہوتی ہے جس نے اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی بلوچستان کا دورہ نہ کیا۔ عوام مزارع نہیں کہ غیر حاضر سیاستدان کو اہمیت دیں۔ تحریک انصاف نے بلوچستان کو اہمیت نہ دی اور اس کو صرف 3 نشستیں حاصل ہوئیں۔
بلوچ انتہاء پسندوں نے انتخابی عمل روکنے کی دھمکی دی تھی مگر 50 ہزار ایف سی، فوج اور پولیس کے جوانوں نے سکیورٹی کو یقینی بنا کر انتہا پسندوں کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ قائم مقام چیئرمین الیکشن کمشنر جسٹس ناصر الملک نے بلوچستان کا دورہ کرکے انتخابی انتظامات کا جائزہ لیا۔ پرامن اور شفاف انتخابات کے انعقاد پر سکیورٹی فورسز، الیکشن کمشن اور صوبائی انتظامیہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ دانشوروں اور مؤرخین متفق ہیں کہ گزشتہ 67 سالوں میں بلوچستان پر خرچ ہونے والے وسائل عام بلوچ تک نہیں پہنچ سکے جس سے احساس محرومی پیدا ہوا جس کو علیحدگی پسند کیش کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے بعد وفاق اور صوبے کو احساس محرومی کے خاتمے کا سنہری موقع ملا ہے۔ اگر وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان آئین کی روح کے مطابق مقامی حکومتوں کو سیاسی اور مالی اختیارات منتقل کردیں تو مقامی حکومتیں عوام کے بنیادی مسائل حل کرکے اور ترقیاتی منصوبے شفاف انداز میں مکمل کرکے علیحدگی پسندوں کے خواب چکنا چور کرسکتے ہیں۔پاکستان کی روایت رہی ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں اور اس طرح مقامی حکومتیں مفلوج ہوکررہ جاتی ہیں۔ جمہوری نظام سے جب عوامی روح ہی نکال لی جائے اور اشتراکیت کے اصول کو نظر انداز کردیا جائے تو پھر وہ جمہوری نظام آمریت اور ملوکیت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ بلوچستان میں چونکہ حکمران اتحاد نے ہی بلدیاتی انتخاب میں اکثریت حاصل کی ہے اس لیے مقامی اور صوبائی حکومتیں مفاہمت اور یگانگت کے ساتھ چل سکیں گی۔ مقامی حکومتوں نے اگر اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دئیے تو بلوچستان میں مساوی ترقی نظر آئے گی۔ بلوچ عوام کو احساس ہوگا کہ وہ اپنے معاملات میں آزاد اور خودمختار ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی ضلعی حکومتیں عوام کی خدمت کرکے علیحدگی پسندی کے رجحانات کو کمزور کرسکیں گی۔ البتہ شرط یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز ضلعی حکومتوں کو آزادی سے کام کرنے کا موقع دیں اور لوگوں کو لاپتہ نہ کریں۔ چیف جسٹس پاکستان نے درست کہا ہے کہ اگر قومی سلامتی کے لیے لوگوں کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کرنا مجبوری ہے تو حکومت ہنگامی حالت کے لیے آرڈی نینس جاری کرے جس کے ذریعے سکیورٹی فورسز کو لوگوں کو گرفتار کرنے کا حق دے دیا جائے اور انہیں لوگوں کو لاپتہ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔