مجھے خوف آتشِ گل سے ہے

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
مجھے خوف آتشِ گل سے ہے

ایک سال کے اعصاب شکن اور صبر آزما لمحات کے بعد بالآخر پانامہ لیکس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے سنا ہی دیا اور اس فیصلے کی رو سے سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف صاحب بمع اپنے وزیر خزانہ اور داماد (ر) کیپٹن صفدر صاحب کے تا حیات نا اہل ہو گئے ہیں۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس نے پوری قوم کو متاثر کیا۔ فوری طور پر اس فیصلے کے حق میں اور اسکے خلاف مختلف سیاسی لیڈر وں ،عوام اور میڈیا پرسنز کی طرف سے تبصرے اور تجزئیے شروع ہو گئے ۔یہی کاروائی ٹی وی پر بھی شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے اور پتہ نہیں مزید کتنا عرصہ جاری رہے گی۔زیادہ تر اینکرز نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور امید کی کہ پاکستان میں پہلی دفعہ کسی بڑے آدمی کو کرپشن پر سزا ملی ہے۔لہٰذا آئندہ بہت سے لوگ محتاط رہیں گے۔تو یوں پاکستان ایک کرپشن فری ملک بن کر ابھرے گا۔پوری قوم کی دعا ہے کہ خدا کرے ایسا ہی ہو۔ آمین! مسلم لیگی اس بات پر خوش تھے کہ وزیر اعظم کے خلاف ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی بلکہ انہیں صرف اس معمولی بات پر نا اہل کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی جو حقیقتاً انہوں نے نہیں لی تھی تو یوں انہوں نے اپنے کاغذات نا مزدگی میں اسکا ذکر نہیں کیا تھا۔ بہت سے تجزیہ کار اور عوام بھی اس بات سے حیران ہیں کہ جب وزیر اعظم کیخلاف لندن میں وسیع قیمتی جائیدادیں ،منی لانڈرنگ،خاندان کے نام سے بہت سی کمپنیاں اور فیکٹریاں ثابت ہو گئی تھیں جو یقیناً کرپشن کا بہت بڑا ثبوت تھا تو پھر ان چیزوں کی بنیاد پروزیر اعظم کو نا اہل کیوں نہیں کیا گیا؟ اسے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے جیسے معمولی جرم پر کیوں نااہل کیا گیا؟ بہت سے لوگوں کی نظر میں تو یہ جرم بنتا ہی نہیں۔
مسلم لیگیوں اور سابق وزیر اعظم نے اس نقطے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ سابق وزیر اعظم صاحب نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا :’’ تنخواہ لیں تو مصیبت ۔نہ لیں تو مصیبت‘‘ مزید گویا ہوئے:’’مجھے فخر ہے اس بات پر کہ مجھ پر ایک پیسے کی کرپشن تک کا الزام نہیں لگا۔مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کس بات کی سزا دی گئی ہے؟ہم اس فیصلے کو قبول نہیں کرتے لیکن اس پر عمل کرینگے‘‘۔یہی لائن آف ایکشن پارٹی کارکنوں نے اپنائی اور ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر عدلیہ کیخلاف الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔سب کی رائے تھی کہ ’’عقل اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی‘‘ ۔یہ تو صریحاً عدلیہ پر الزام تراشی ہے کہ وہ اتنی (معذرت سے) نا اہل ہے کہ ایک معمولی سی بات پر وزیر اعظم کو نا اہل کر دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کے حمایتی بہت سر گرم ہیں ۔مختلف شہروں میں لیگیوں کے جلوس نکلوا رہے ہیں۔ انکا ایک ہی نعرہ ہے :’’وزیر اعظم نواز شریف ‘‘۔وہ اس نا اہلی کا ذمہ دار تحریک انصاف خصوصاً عمران خان کو سمجھتے ہیں اس لئے ایک دو شہروں میں لیگیوں کا آمنا سامنا تحریک کے لوگوں سے بھی ہوا جس میں اگر پولیس دخل اندازی نہ کرتی تو معاملہ گالی گلوچ اور ہاتھا پائی تک پہنچ جاتا۔ کچھ جذباتی قسم کے لیگیوں نے عمران خان کے فوٹو کی بھی توہین کی اسے جوتے مارے اور اسکے پتلے کو بھی جلایا۔ جو کہ ایک گھٹیا حرکت ہے ۔شیخ رشید پر حملہ کیا گیا اور اسے قتل کی دھمکیاں دیں۔اب لیگی فرما رہے ہیں کہ نواز شریف انشا ء اللہ واپس آئینگے اور دوبارہ وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالیں گے۔مریم اورنگزیب اور مریم نواز صاحبہ نے فرمایا:’’ وزیر اعظم کی کرسی پر کوئی بھی ہو لیکن عوام کے دلوں میں وزیر اعظم نواز شریف ہی ہے‘‘۔مریم نواز شریف اور کچھ وزراء نے مزید فرمایا :’’تم کتنے شریف روکو گے ۔ایک شریف گیا دوسرا شریف آگیا۔وہ جائیگا تو تیسرا شریف آجائیگا‘‘۔اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ قوم جو مرضی آئے کر لے۔پاکستان پر حق ِ حکمرانی شریف فیملی کا ہی ہو گا۔ یہ سوچ پاکستان کیلئے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
قوم کی پاکستان میں کرپشن ختم کرنے کی امیدیں کبھی پوری نہیں ہوں گی۔مسلم لیگی ممبران اور وزراء عدالت کے اس فیصلے کیخلاف سخت غصے میں ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم کی سزا ختم کرانے کیلئے ایک دفعہ پھر عدالت میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔اس مقصد کیلئے وہ پارٹی کارکنوں اور جنرل پبلک کو اپنے مئو قف کے حق میں تیار کررہے ہیں۔ یکم اگست کو نئے وزیر اعظم کے الیکشن کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا جس میں کچھ لیگی ممبران سابق وزیر اعظم کی تصاویر ساتھ لائے جو میزوں پر سجا دی گئیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جناب نواز شریف صاحب نہ صرف سرکاری عہدے کیلئے نا اہل ہوئے ہیں بلکہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے ممبر تک نہیں بن سکتے چہ جائیکہ پارٹی کے سربراہ جو اسوقت تک وہ قائم ہیں اور پارٹی اور حکومت کے تمام فیصلے وہی کررہے ہیں۔میرے سمیت بہت سے لوگوں کے خیال میں سابق وزیر اعظم کی تصاویر اسمبلی میں لانا اور پھر انہیں میزوں پر سجا رکھنا درست نہیں تھا۔ پھر صرف یہی نہیں نئے منتخب ہونیوالے وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں نواز شریف اور اسحاق ڈار صاحب کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے ۔انکے الفاظ کے مطابق اسوقت نواز شریف سے بہتر صادق اور امین لیڈر اور اسحاق ڈار سے زیادہ محنتی اور ایماندار شخص پاکستان میں موجود ہی نہیں ۔غلط یا صحیح اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے خلاف بحث و مباحثہ فیصلے سے رو گردانی کے مترادف ہے۔ لہٰذا لیگیوں سے گزارش ہے کہ پارٹی لیڈر کی وفاداری اپنی جگہ لیکن اعلیٰ عدلیہ کیخلاف اپنے بیانات میں الفاظ کے چنائو میں احتیاط کا مظاہرہ کریں۔
وطن عزیز میں اس فیصلے کیخلاف جو بھی رد عمل آیا ہے وہ ہمارے سامنے ہے لیکن اس کیخلاف بیرونی دنیا میں بھی رد عمل آیا ہے۔ امریکی اور چینی قیادت کیمطابق یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اسکے ان ممالک کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔چین خصوصی طور پر اقتصادی راہداری کے متعلق فکر مند ہے ۔زیادہ تر امریکی اور یورپی اخبارات نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے حق میں لکھا ہے ۔انکے خیال میں اسکا پاکستان کے مستقبل پر اچھا اثر پڑیگا۔ بھارتی عوام نے بھی اس فیصلے کی تعریف کی ہے۔ راہول گاندھی نے تو نہ صرف اس فیصلے کی تعریف کی ہے بلکہ حسرت سے کہا کہ کاش ہمارے ہاں بھی پا نامہ لیکس جیسی کرپشن کیخلاف کوئی اس قسم کی کاروائی ہوتی لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ بھارتی حکومت اس فیصلے سے کافی پریشان ہے۔ اخبارات کی خبروں کیمطابق نریندرا مودی نے اپنے امریکی دورے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سفارش کی کہ نواز شریف کو اس کرا ئسس سے نکالا جائے ۔یہ بھارت اور امریکہ کیلئے ایسٹ(Asset) ثابت ہو گا۔ اب جبکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ جناب نواز شریف کیخلاف آگیا ہے اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا ہے تو بھارتی حکومت اس فیصلے سے مطمئن نہیں۔ بھارتی حکمرانوں کے مطابق بھارت اور پاکستان کے تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔سرحدوں پر بھی دونوں ممالک کی افواج کے درمیان چپقلش بڑھنے کا خطرہ ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ بھارت نواز شریف کیلئے کیوں پریشان ہے؟
جناب نواز شریف فرماتے ہیں :’’ میرا احتساب کے نام پر استحصال کیا گیا ہے ۔یہ فیصلہ نہیں مذاق ہے۔نا انصافی کے سامنے سر نہیں جھکائوں گا۔‘‘اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ عوام کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کیخلاف ’’نا انصافی‘‘ ہوئی ہے۔ مزید فرماتے ہیں : ’’سو یلین بالا دستی قبول کرنا ہو گی‘‘۔موجودہ حالات کے پیش نظر آرمی چیف کو کہنا پڑا:’’ ہم ایسے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں‘‘۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ کچھ اقتدار پسند بڑے اپنے آپ کو کسی قانون کا پابند نہیں سمجھتے۔