سعودی صورتحال: سفارت کار یوسف العتبہ کا کردار

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
سعودی صورتحال: سفارت کار یوسف العتبہ کا کردار

محمد بن سلمان کی اقتدار پر گرفت مضبوط ہورہی ہے مگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ سعودی عرب میں صرف اقتدار پر مضبوط گرفت کافی نہیں ہوتی بلکہ امریکی حمایت بھی ناگزیر ہوتی ہے اور یہ کام یوسف العتبہ بخوبی کر چکا ہے۔ یوسف 9 برس واشنگٹن میں دبئی کا سفیر رہ چکا ہے۔ یوسف جیسے لوگ ہمیشہ پس منظر میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ عالمی حلقوں میں جوڑ توڑ کے ماہر یوسف العتبہ نے شہزادہ محمد کے اقتدار کی راہ میں ساری رکاوٹیں دور کردیں ہیں۔ وہ امریکیوں کو شہزادہ محمد کا روشن خیال اور ترقی پسند رخ روشن دکھا رہا ہے۔ یوسف العتبہ اپنے فرائض منصبی سے کہیں بڑھ کر چوکے چھکے لگانے کا عادی ہے۔ 350 بلین ڈالر کے دفاعی سامان کی خریداری کے معاہدے اور ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کی تمام پیشگی تفصیلات بھی یوسف نے خاموشی سے طے کی تھیں۔ سعودی کار حکمرانی میں 1991 کے بحران کے بعد بادشاہ کے لئے امریکی آشیرباد ناگزیر حقیقت بن چکی ہے۔

سعودی عرب میں جاری اکھاڑ پچھاڑ ٹرمپ کے داماد اور مشیر Kushner کے گذشتہ ہفتوں میں خفیہ دورہ سعودی عرب کے بعد شروع ہوئی ہے جس میں سعودی تخت کے قانونی وارث ہونے کے دعویدارسابق ولی عہد شہزادہ مقرن کے صاحبزادے نائب گورنر منصور بن مقرن 8 ساتھیوں سمیت ہیلی کاپٹر کے حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ،اسی طرح شاہ فہد کا بیٹا عزیز مبینہ طور گرفتاری کے دوران مزاحمت کرتا مارا گیا۔ اس وقت تک 400 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ درجنوں شہزادوں کو پہلے مرحلے میں گرفتار کرکے کسی بھی امکانی بغاوت کا سدباب کیا جا چکا ہے
واشنگٹن کی مکمل آشیرباد ملنے کے بعد شہزادہ محمد کا اعتماد بڑھ چکا ہے جس کے مظاہر اس وقت سعودی عرب میں دکھائی دے رہے ہیں۔ یمن پر جاری ہلاکت خیز بمباری' قطر کا طوالت پکڑتا بحران اور ایران کے خلاف سخت گیر موقف واشنگٹن سے دوستی اور قربت کا مظہر ہے۔ سعودی عرب میں اس وقت 15 ہزارشہزادے ہیں۔ تاریخ میں دفن کہانیاں الگ الگ منظرنامہ بیان کرتی ہیں لیکن کردار ایک جیسے ہوتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات (یواے ای) کے امریکہ میں سفیر یوسف العتبہ کو وزیر مقرر کردیاگیا ہے۔ یواے ای کے صدر شیخ خلیفہ کے جاری کردہ وفاقی حکم سے یہ تقرری عمل میں آئی ہے۔ العتبہ کو یہ عہدہ نو سال امریکہ میں سفارت کاری کے بعد تفویض ہوا ہے۔کہا جاتا ہے کہ العتبہ کی وجہ سے امریکہ اور یواے ای کے تعلقات میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔
2008ء سے وہ امریکی حکام کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرتے ہوئے امور انجام دیتے آرہے ہیں۔ سکیورٹی تعلقات کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری کے ساتھ معاشی تعلقات کو گہرا کرنے میں ان کے کردار کا بھی اعتراف کیا جا رہا ہے۔ خطہ میں استحکام بڑھانے میں مدد دینے، انسداد دہشت گردی میں شراکت کا، انٹیلی جنس، فوجی تعاون میں اضافہ العتبہ کی سفارتی سرگرمیوں کا محور رہے ہیں۔ سفارتی ذمہ داریوں سے قبل العتبہ نے ابوظہبی کے ولی عہد اور یواے ای مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زید کے بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر کی حیثیت میں امریکہ کیساتھ تعلقات کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ متحدہ عرب امارات کی سلامتی، انسداد دہشت گردی، دفاع کے لئے بنیادی رابطہ کار بن کر ابھرے۔ خطے میں علاقائی سلامتی بہتربنانے اور دفاعی تعاون کے حوالے سے سفارتی سرگرمیوں میں نہایت متحرک فرد بھی قرار پائے۔
العتبہ امریکہ میں یواے ای کے سفیر کے طور پر اپنا کردار جاری رکھیں گے اور سٹرٹیجک اقدامات اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کی نگرانی کی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔ متحدہ عرب امارات کے اس وعدہ کی تکمیل بھی ان ذمہ داریوں میں شامل ہے جس کے تحت یو اے ای امریکہ میں خیراتی سرگرمیوں کے تحت مستحق افراد کی بہبود، بچوں کی تعلیم، طبی تحقیق اور علاج معالجے کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالے گا۔ عتبہ نے حکومتی منصب سنبھالنے کے بعد سماجی، تعلیمی اور ثقافتی روابط کلیولینڈ کلینک، نیویارک یونیورسٹی، چلڈرن نیشنل میڈیکل سینٹر، جان ہاپکنز، سمتھ سونین سمیت دیگر امریکی اداروں کے ساتھ شراکت داری میں ڈھالنے کے لئے پوری سرگرمی سے کام کیا ہے۔
عتبہ نے یواے ای کو سویلین پروگرام کے لئے امریکہ سے جوہری مواد کے حصول کے لئے اس وقت کی ہائوس فارن افئیرز یا خارجہ امور کمیٹی کے ڈیموکریٹک چیئرمین ہاورڈ برمین کے ساتھ بھی قریبی رابطہ استوار رکھا۔ جولائی2010 میں عتیبہ کے بیان کا مطلب یہ لیاگیا کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ کی فوجی کاروائی کے حامی ہیں۔ 2015 سے عتیبہ یمن جنگ کے حوالے سے واشنگٹن میں سعودی موقف کی پرزور حمایت کرتا رہا۔ یواے ای کو یمن میں عقوبت خانوں، قاتل جتھوں، ہزاروں افرادکی ہلاکتوں کا مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔
جون 2017 میں عتیبہ کی ای میلز ’’گلوبل لیکس‘کے نام سے ہیک کرلی گئیں جس سے اس کی زندگی کا دوسرا پہلو پوری دنیا کے سامنے بے لباس ہوگیا۔
خواتین کے حوالے سنگین انکشافات ہوئے۔ ایک رات میں دس ہزار ڈالر خرچ کرنے کی کہانی نے شہرت پائی۔ ان چوری کردہ ای میلز سے قطر کے خلاف امریکہ میں نفرت پھیلانے کی ہانڈی بھی بیچ چوراہے پھوٹ گئی جس سے خلیج ریاستوں کے سینے میں نیا کینہ پیدا ہوا۔
اسی مواد سے ان کوششوں کو بھی امریکی اخبارات نے بے نقاب کردیا کہ امریکی حکومت طالبان کا سفارت خانہ کھلوانے کیلئے درپردہ راہیں ہموار کرتی رہی تھی۔ انہی ای میلز میں یواے ای کے وزیرخارجہ عبداللہ بن زید کے اس غصہ بھرے فون کا بھی ذکر آیا کہ وہ طالبان سفارت خانہ کھولنے پر آمادہ نہیں۔ امریکی حکومت کی معاونت سے عتیبہ نے ہی یہ شاطرانہ چال چلی تھی کہ طالبان سفارت خانہ کھولنے کی صورت میں طالبان اسامہ بن لادن کوقائد نہ مانیں، افغان دستور کو تسلیم کریں، تشدد ترک کریں اور ہتھیار ڈال دیں۔ طالبان نے یہ شرائط تسلیم کرنے سے انکارکردیا اور یواے ای نے یہ بھاری پتھر چوم کررکھ دیا۔
وال سٹریٹ جرنل نے دستاویزات کی بنیاد پر عتیبہ کو اربوں ڈالر کے کرپشن سکینڈل میں ملوث بتایا۔ یہ سکینڈل ون ملائیشیا ڈویلپمنٹ برہاد سکینڈل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ ساڑھے چار ارب ڈالر کا فراڈ تھا۔ لوٹ کا یہ مال 66 ملین ڈالر کی صورت میں مشہور زمانہ آف شورکمپنیوں کے ذریعے عتبہ سے جڑی کمپنیوں نے وصول پایا۔ پینٹا گون میں اعلیٰ عسکری اور سفارتی دماغوں کے خلیج کے بارے اجلاس کے چند دن بعد ہی جب اماراتی خاتون پائلٹ میجر مریم المنصوری کی قیادت میں امریکی فوج نے داعش پربمباری کی تو اگلے ہی صبح ایک مشہور امریکی ٹی وی پروگرام میں عتبہ پیش ہوئے اور خاتون پائلٹ کے کارنامے کی تصدیق کی۔ عتبہ کا موازنہ سعودی عرب کے امریکہ میں سفیر شہزادہ بندر بن سلطان کے ساتھ کیاجاتا ہے۔
بعض امریکی تجزیہ نگاروں کے نزدیک وہ کالج کے کھلنڈرے لڑکوں کی طرح حرکتیں کرتا ہے جبکہ بندربن سلطان ذہین سفارت کار مانے جاتے تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی نچلی منازل پر وہ ’عتیبہ بھائی‘ کے طور پر شناخت کیاجاتا ہے۔