مریم نواز… سعد رفیق کی مخالفت کیوں؟

مریم نواز… سعد رفیق کی مخالفت کیوں؟

اتوار کی شب ایک چینل پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما ریلوے کے وزیر جناب سعد رفیق انٹرویو دے رہے تھے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ انہوں نے پہلی بار مریم نواز کی سیاست میں انٹری کی بہت کھل کر مخالفت کی۔

جناب سعد رفیق ایک شہید کے بیٹے ہیں اور نوازشریف کے سچے سپاہی، مگر مریم نواز کی مخالفت کے لئے نہ ان کے پاس کوئی دلیل تھی، نہ سبب، وہ وجہ بتانے سے قاصر رہے اور اپنی اس غلطی کی بناء پر وہ سوالات کے دلدل میں پھنستے رہے وہ ذہین شخص ہیں مگر انٹرویو میں ناک آئوٹ ہوگئے۔ اس کا ایک سبب ان کا بار بار غصہ میں آکر خود انٹرویو کرنے والے پر غیر ضروری طنز بھی تھا۔
مریم نواز کی سیاست کے قدامت پرست سعد رفیق شاید اس لئے مخالف ہیں کہ وہ ’’بیٹی‘‘ ہیں اور ہمارے معاشرے میں ’’بیٹی‘‘ کے حقوق نہیں ہوتے۔ حالانکہ خود سعد رفیق کی بے حد قابل احترام والدہ سیاست میں فعال اور سرگرم رہی ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ سیاست محترمہ مریم نواز کے لئے ممنوع ہے مگر کیوں، یہ اعتراض کیوں ہے۔ ایہہ نہیں ہوسکدا!، بھائی مگر کیوں؟
مریم نواز کیخلاف مقدمات ہوسکتے ہیں وہ عدالتوں میں دربدر ہوسکتی ہیں مگر سیاست نہیں کرسکتیں مگر کیوں؟
حلقہ 120 کے الیکشن میں خود امیدوار ہی علیل تھیں۔ محترمہ کلثوم صاحبہ لندن میں تھیں۔ جناب نواز شریف انکی تیماداری میں مصروف، مریم کے دونوں بھائی بھی ماں کی خدمت میں کہ چچا شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی مریم کو تنہا چھوڑ کر لندن چلے گئے۔ اس الیکشن میں جناب سعد رفیق بھی دور دور تک دکھائی نہ دئے۔ جناب چوہدری نثار جو اقتدار کے دوران وزیراعظم نوازشریف کے بحیثیت وزیرداخلہ کان اور آنکھیں تھے۔ طنز کے تیر چلاتے رہے اور نام لے کر مریم نواز کی مخالفت کی۔ وجہ خود ان کو پتہ ہوگی۔
ہم بہت ادب سے گزارش کی جسارت کریں گے کہ دور اقتدار میں خود جناب نواز شریف ’’بھائی‘‘ اور سمدھی کی خدمات انجام دیتے رہے۔ بیٹی خدمت کرتی رہی۔ ڈان لیکس جیسے بے بنیاد الزامات کی زد میں آئی مگر نواز شریف نے نہ MNA بنایا جو بہت آسان تھا نہ وزیر بناسکے۔ ’’یہ تکلف‘‘ اور احتیاط بھائی اور سمدھی کے معاملے میں کیوں نہیں کیا گیا۔ انتہا یہ ہے کہ خاقان عباسی کی وزارت عظمی میں سب کے لئے کہا۔ بیٹی کو MNA بنا کر ’’وزیر‘‘ بنانے سے گریز کیا۔ جناب نواز شریف، مریم نواز سے بے پناہ محبت کرتے ہیں مگر وہ بے چاری محروم رہی۔ بیٹیاں قربانی دیتی ہیں۔ مگر کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں لاتیں۔ پروین شاکر کا شعر …؎
لڑکیوں کے دکھ عجب ہیں اور ان کے سکھ عجیب
نہیں رہی ہیں اور آنکھیں بھیگتی ہیں ساتھ ساتھ
حیرت کی ایک اور بات یہ ہے کہ عمران خان، شیخ رشید اور دیگر نواز مخالفین تو مریم کو نواز شریف کا سیاسی وارث خیال کر کے الزام تراشیاں کرتے ہیں مگر مسلم لیگ (ن) کے سادہ اکابرین، مریم نواز کو ’’بچی‘‘ قرار دے کر سیاست سے دور رکھنے پر بضد ہیں۔
پہلے یہ چودھری نثار نے کہا تھا اب سعد رفیق نے اس دلیل کو اپنالیا ہے۔ کہ وہ ’’بچی‘‘ ہیں۔ اگر وہ لیڈر نہیں ہیں۔ تو سعدرفیق، مریم نواز کے پاس کیا لینے گئے تھے؟ وہاں تو بڑے ادب سے خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ پہلے یہ چودھری نثار کا طریقہ تھا، وہ تو اب جلدی راہ پر آگئے ہیں۔ اب سعد رفیق دو کشتیوں میں سوار ہیں۔ جانے کیوں، کس کے لئے؟
سعد رفیق نے بھی ’’بچی‘‘ قرار دے کر مریم نواز کو سیاست میں ’’ان فٹ‘‘ قرار دے دیا۔ حلقہ 120 میں بے چاری اکیلی لڑ کر الیکشن لڑی ہے۔ مخالفین کو بھی ہرایا اور سعد رفیق جیسے مخالفین اور ان کے سرپرستوں کو بھی شکست دی ہے کیا 45 سالہ خاتون بچی ہوتی ہے؟ جس کے بچوں کے بچے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ انٹرویو میں انہوں نے مریم کو بچی تو کہہ دیا مگر پھر بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے۔ ہونا ہی تھا!
مریم نواز ’’بولڈ’’ ہیں۔ ان میں حوصلہ اور ولولہ ہے تب ’’اندر‘‘ اور باہر کے مخالفین کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ سعد رفیق یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ الیکشن میں جو 2018ء میں ہوں گے ’’نظریات‘‘ کا مقابلہ نہیں ہوگا، ’’شخصیات کا ہوگا۔ واحد شخصیات Personality جس کے سحر سے عمران خان گھبراتے ہیں، مریم نواز کی ہے۔ جناب نواز شریف کی بات الگ ہے۔ مگر ان کے بعد صرف اور صرف مریم نواز جو مستقبل کی PM ہیں۔
حلقہ 120 کے الیکشن میں مریم نواز اپنی اہلیت، قابلیت اور سیاسی سحر کا امتحان دے کر کامیاب ہوچکی ہیں۔ سیاست اور نفسیات کا گہرا تعلق ہے بھٹو میں کیا تھا۔ ایوب خان کے وزیر تھے۔ مگر سیاست میں سارے مخالفین کو بہا کر لے گئے۔ ’’سیاسی سحر‘‘ کی وجہ سے عمران خان میں کیا ہے؟ بس ہاسپٹل بنایا ہے تو کیا ہوا؟ نواز شریف سیاست کے ’’جن‘‘ ہیں ان سے عمران خان ٹکرانے لگے ہیں۔ محض ’’سیاسی سحر‘‘ کی وجہ سے۔ مریم نواز میں ’’سیاسی سحر‘‘ ہے۔ وہ میدان میں نکل آئیں تو عمران خان کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
جناب نواز شریف کی بات اور ہے مگر نئی قیادت بوڑھی نہیں جوان اور توانا ہے یہ ہمارے مستقبل کی امید ہیں۔ میاں صاحب سے ٹکرا کر عمران خان شکست کھا جائیں گے مگر کوئی اور نہیں مریم نواز کے سوا یہ مسلم لیگی بے نظیر کو کیوں بھول جاتے ہیں۔ مریم نواز میں ایک نئی بے نظیر کی جھلک ہے۔ کئی ’’انکل‘‘ پی پی سے منحرف ہو گئے تو کیا ہوا۔ ان کی اپنی سیاست تباہ ہوئی اور بے نظیر سیاسی افق پر چھاتی چلی گئیں۔ مریم نواز سیاست کے آسمان کا روشن ستارہ ہیں۔