شکوہ کریں تو کس سے ۔ ۔ ؟

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
شکوہ کریں تو کس سے ۔ ۔ ؟

8 نومبر کا دن بھارت کے طول و عرض میں سیاہ دن کے طور پر منایا گیا کیونکہ مودی اور ان کے ساتھیوں نے نوٹ بندی کے نام پر ایک سال قبل غریب بھارتی عوام کا جو معاشی قتل عام کیا تھا ، اس نے عام بھارتیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ اور انھیں سمجھ نہیں آئی ہے کہ مودی جی نے ان سے کس جنم کا بدلہ لیا ۔ انھوں نے مودی سے سوال کیا کہ جن لوگوں کے پاس واقعی کالا دھن موجود تھا وہ تو انھوں نے سونے چاندی اور جائیداد کی شکل میں اپنے پاس محفوظ رکھا ہوا ہے ۔ دہلی سرکار کی اس حرکت کا نشانہ تو صرف افلاس زدہ بھارتی عوام بنے جو پہلے سے ہی روزی روٹی کے محتاج ہیں اور سسک سسک کر اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔ گویا …؎

شکوہ کریں تو کس سے ، شکایت کریں تو کیا
ایک رائیگاں عمل کی ریاضت کریں تو
واضح رہے کہ اسی تناظر میں بھارت کی 33 نمایاں NGOs نے مشترکہ طور پر نوٹ بندی کے فوائد و نقصانات جاننے کے لئے ایک تفصیلی سروے جاری کیا جس میں بھارت کے 21 صوبوں کے عوام کی رائے لی گئی۔اس سروے کے نتیجے میں پتہ چلا کہ بھارت کی 55.5 فیصد آبادی کے مطابق نوٹ بندی کے اس فیصلے کی بدولت کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی بھارتی سیکورٹی صورتحال میں کوئی بہتری آئی بلکہ اس کے بر عکس حالات بد تر سے بدترین ہوتے جا رہے ہیں اور اس سال بھارتی معیشت میں انتہائی واضح گراوٹ نظر آئی۔ البتہ 26.6 فیصد افراد نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں قدرے بہتری آئی۔ دوسری طرف 17.5 فیصد لوگوں نے اس بارے میں کوئی رائے دینے سے گریز کیا ۔
یاد رہے کہ اس سروے کے مطابق بھارت کی 50 فیصد سے زائد آبادی کا بھروسہ مودی سرکار سے مکمل طور پر اٹھ چکا ہے کیونکہ وہ بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ نوٹ بندی کے اس احمقانہ فیصلے کے نتیجے میں صرف غریبوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ امیروں کو اس سے کوئی فرق نہ پڑا ۔ واضح رہے کہ اس سروے میں ’’مزدور کسان وکاس سنستھان، ’’آسرا منچ‘‘، ’’نئی سوچ‘‘، ’’ادھیکار ابھیان‘‘اور ’’رچنا ‘‘ جیسی تنظیموں نے حصہ لیا ۔ اس سروے میں ان 90 افراد کی بھی فہرست جاری کی گئی جو نوٹ بندی کے سبب طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے موت کا شکار ہو گئے جبکہ اس فیصلے کے نتیجے میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ یہاں پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO ) جیسے معتبر عالمی ادارے کے مطابق بھارت میں 2017 میں بیروزگاروں کی تعداد میں 1 لاکھ جبکہ 2018 میں 2 لاکھ کا اضافہ یقینی ہے ۔ یوں 2016 میں بیروزگار افراد کی تعداد 17.7 ملین سے بڑھ کر 2018 میں 18 ملین ہو جائے گی۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت میں ایک سال قبل یعنی 8 نومبر 2017 کو جب 500 اور1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی لگی تب سے تاحال بھارتی عوام ایک بحرانی کشمکش کا شکار ہیں ۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کئی ماہ تک اپنے نوٹ بدلوانے اور پیسے نکالنے کے لیے بھارت کے طول و عرض کے تمام بینکوں میں لوگوں کی کثیر تعداد قطاروں میں آتی رہی ۔کئی لوگ تو منھ اندھیرے ہی بینک کے دروازے پر آ کھڑے ہو تے ۔
اسی تناظر میں بھارت کی داخلی سیاست سے آگاہی رکھنے والے حلقوں نے کہا ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ ہندوستانی وزیر اعظم خیالی پلائو بنانے میں یکتائے روزگار ہیں اور اس حوالے سے نت نئی پھلجھڑیاں چھوڑتے رہتے ہیں ۔ اپنی اسی روائتی روش کا ایک بار پھر مظاہرہ کرتے ہوئے مودی نے گذشتہ سال یکایک پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی ۔ اور اس سلسلے میں بنا کسی پیشگی ہوم ورک کے یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا اور معاملات ہیں کہ اب تک مودی سے سنبھالے نہیں سنبھل رہے ۔ یوں ایک طرف بھارت نے نہتے کشمیریوں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے تو دوسری طرف اپنے ہی لوگوں پر مصائب کا ایک لا متناہی عذاب مسلط کر رکھا ہے۔